بدھ، 20 اگست، 2014
سارا کچھ ایک طے شدہ پلان اور سکر پٹ کے تحت ہو رہا ھے
بدھ, اگست 20, 2014
3
تبصرے
ہفتہ، 16 مارچ، 2013
قومی اسمبلی کی پانچ سالہ پارلیمانی کارروائی، 23 ارکان کچھ نہ بولے
ہفتہ, مارچ 16, 2013
1 تبصرے
)پیر، 25 فروری، 2013
ھائے کرپشن
پیر, فروری 25, 2013
4
تبصرے
جمعہ، 22 فروری، 2013
روشن پاکستان
جمعہ, فروری 22, 2013
11
تبصرے
فیس بک پر چیٹ کرتے ہوئے اس نے اچانک پوچھا
ہواز دا ویدر ٹو یور کنٹری؟
میں نے فوراً جواب دیا
ونڈرفل اینڈ مچ پلیزنٹ، رین ن رین ایوری وئر این سنو فالنگ
اس کے رپلائی نے مجھے حیرت کے سمند ر میں ڈبو دیا۔
اس نے لکھا
Whaaaaaaaaaaaaaaaaatttttt
R U Right
Is it in Pakistan .I always think nothing in ur country only deserts no roads, no
education, no electricity Only terrorist every where
میں اس کو پاکستان کے بارے میں بتانا شروع کیا تو اس کی آنکھیں کھلنا شروع ہوئیں،
پاکستان میں دنیا کی سب سے بڑی نمک کی کان ہے،پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے،
پاکستان ان چند خوش نصیب ملکوں میں شمار ہوتا ہے جہاں چارون موسم آتے ہیں،
پاکستان کی کاٹن دنیا کی بہترین کاٹن تصور کی جاتی ہے،
پاکستان کے کرنل باسمتی کا دنیا میں کوئی متبادل نہیں،
تب ذہن میں آیا کہ فیس بک پر کوئی ایسا پیچ بنایا جائے جس سے وطن عزیز کا ہر روشن پہلو نمایاں ہو
جہاں سے دنیا کو یہ پیغام جائے کہ ہم دہشت گرد نہیں پرامن شہری ہیں
ہمارے ملک کے شمالی علاقوں کاحسن کسی طور سوئزر لینڈ سے کم نہیں
میں نے "روشن پاکستان"کے نام سے فیس بک پر پیج بناے کا فیصلہ کیا ہے جہاں ہم پاکستان کے مثبت پہلوئوں کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کریں گے
یہ بات میرے ذہن میں کھٹک رہی ہے کہ" روشن پاکستان" اردو نام ہے اس کا اگر کوئی انگلش نام تلاش کرلیا جائے تو بہتر ہے
آپ کی قیمتی آراء کا منتظر رہوں گا
اتوار، 17 فروری، 2013
کینیڈین شہریت چھوڑ دی تو امت کی رہنمائی کون کریگا
اتوار, فروری 17, 2013
3
تبصرے

منگل، 29 جنوری، 2013
,ہم بھی وہاں موجود تھے , دو روزہ عالمی اردو بلاگرز کانفرنس
منگل, جنوری 29, 2013
18
تبصرے
اسلام علیکم مصطفےٰ بھائی میں بلال ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوئے توں بلال ایں ، نہیں کسی بڑے کو بلائو ،تم نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔۔۔۔
پر واقعی وہ ابھی کھلنڈرہ نوجوان ہے اتنا کام کرنے والا پر ، ویسا ہی بچوں جیسا معصوم ،کہتا آپ بھی تو ویسے بوڑھے نہیں ہیں جتنا تصویروں میں بنایا ہو اہے۔ سب سے ملاقاتیں ہوئیں دو دن تک کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا ۔کتنے پیارے پیارے مخلص اور درد دل رکھنے والے دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ معروف شاعر فرحت عباس شاہ دونوں دن موجود رہے،نوجوان بلاگرز میں کاشف نصیر،شاکر عزیز،خرم ابن شبیر،راجہ اکرام،کراچی سے شعیب صفدر،اقبال حیات، غلام عباس،زوہیر چوہان،شاکر عزیز،سعد، جڑانوالہ سے ساجد امجد،سوات سے نعیم،پشاور سے مسرت اللہ جان،لنڈی کوتل سے بہت ہی پیارے مدثر شاہ، گوجرانوالہ سے فخر نوید،اسلام آباد سے مہتاب عزیز، لاہور سے سعد ملک،نجیب عالم ،کوئٹہ سے حسن معراج اور بہت پیارے ساتھی جن کا نام بھول گیا ہوں ان سے معذرت، پھر منتظمین میں خاموش طبع احمد ہمایوں اور ساتھی ۔۔۔۔۔
اللہ آپ سب کو اس کا خوش رکھے جس کام کی ابتدا آپ نے کر دی ہے اس کا صلہ آپ کو وہ ذات پاک ہی دے سکتی ہے کیونکہ ہم نے تو یہی کہنا ہے کہ
امید یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ آپ نے ظلمت شب کا شکوہ کرنے کی بجائے اپنے حصہ کا چراغ جلا دیا ہے
جیو محسن بھائی اور جیو بلال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویل ڈن
پیر، 14 جنوری، 2013
یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟
پیر, جنوری 14, 2013
0
تبصرے
کوئٹہ میں رگوں میں اتر جانے والی سردی ہے، درجہ حرارت منفی آٹھ سے بھی بڑھ چکا ہے. معصوم بچے اور باپردہ خواتین گزشتہ تین دن سے اپنے بیاسی بے گناہ پیاروں کی لاشیں لئے بیٹھے ہیں۔ایسا احتجاج تو شائد معلوم تاریخ میں کہیں نہ ہوا ہو۔اس نے ملک کے کونے کونے میں موجود ہر انسان کو ہلا کر رکھ دیا
پاکستان کی تاریخ کا دردناک احتج بےحس حکمران خاموش تماشا ئی بنے ہوئے ہیں ۔ کب ان کی غیرت جاگے گی کب تک ہم یونہی بے گناہوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ سینکڑوں لوگ لاشوں کو لے کر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ پکار پکار کر پوری قوم کو اپنی بے بسی سے آگاہ کررہے ہیں ان کی آواز میں آواز ملانا پوری قوم کا فرض ہے ۔ آج وہ جس اذیت سے دوچار ہیں اگر ان کا ساتھ نہ دیا گیا تو کل دوسرے صوبے میں بھی لوگ میتیں اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔ پوری قوم شہدا کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے ۔ وفاقی حکومت کو ان کے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے
یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟
اتوار، 6 جنوری، 2013
منگل، 24 جولائی، 2012
’’اماں!بھائی کب مرے گا؟‘‘
منگل, جولائی 24, 2012
0
تبصرے
عرصہ ہواایک ترک افسانہ پڑھا تھا، یہ میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتمل گھرانے کی کہانی تھی، جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگاہوا تھا، آخر اسی حالت میں ایک روز بچوں کو یتیم کرگیا۔ رواج کے مطابق تین روز تک پڑوس سے کھانا آتا رہا، چوتھے روز بھی وہ مصیبت کا مارا گھرانہ کھانے کا منتظر رہا مگر لوگ اپنے اپنے کام دھندوں میں لگ چکے تھے، کسی نے بھی اس گھر کی طرف توجہ نہیں دی۔ بچے باربار باہر نکل کر سامنے والے سفیدمکان کی چمنی سے نکلنے والے دھویں کو دیکھتے، وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے کھانا تیار ہورہا ہے، جب بھی قدموں کی چاپ آتی انہیں لگتا کوئی کھانے کی تھالی اٹھائے آرہا ہے مگر کسی نے بھی ان کے دروازے پر دستک نہ دی۔ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے، اس نے گھر سے روٹی کے کچھ سوکھے ٹکڑے ڈھونڈ نکالے، ان ٹکڑوں سے بچوں کو بہلاپھسلاکر سلادیا۔ اگلے روز پھر بھوک سامنے کھڑی تھی، گھر میں تھا ہی کیا جسے بیچا جاتا، پھر بھی کافی دیر کی ’’تلاش‘‘ کے بعد دوچار چیزیں نکل آئیں، جنہیں کباڑیے کو فروخت کرکے دو، چار وقت کے کھانے کا انتظام ہوگیا۔ جب یہ پیسے بھی ختم ہوگئے تو پھر جان کے لالے پڑگئے، بھوک سے نڈھال بچوں کا چہرہ ماں سے دیکھا نہ گیا، ساتویں روز بیوہ ماں خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹ کر محلے کی پرچون کی دکان پر جاکھڑی ہوئی، دکان دار دوسرے گاہکوں سے فارغ ہوکر اس کی طرف متوجہ ہوا، خاتون نے ادھار پر کچھ راشن مانگا تو دکان دار نے نہ صرف صاف انکار کردیا، بلکہ دوچارباتیں بھی سنا دیں۔ اسے خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑا۔ ایک تو باپ کی جدائی کا صدمہ اوپر سے مسلسل فاقہ، 8سالہ بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بخار میں مبتلاہوکر چارپائی پر پڑگیا، دوادارو کہاں سے ہو، کھانے کو لقمہ تک نہیں تھا، چاروں گھر کے ایک کونے میں دبکے پڑے تھے، ماں بخار سے آگ بنے بیٹے کے سر پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی، جبکہ پانچ سالہ بہن اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بھائی کے پاؤں دبارہی تھی، اچانک وہ اٹھی، ماں کے پاس آئی اور کان سے منہ لگاکر بولی ماں کے دل پر تو گویا خنجر چل گیا، تڑپ کر اسے سینے سے لپٹا لیا اور پوچھا ’’میری بچی، تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ بچی معصومیت سے بولی ’’ہاں اماں! بھائی مرے گا تو کھانا آئے گا ناں!‘‘
جمعرات، 14 جون، 2012
لگے رہو منے بھائی باپ کا مال سمجھ کے
جمعرات, جون 14, 2012
0
تبصرے
احساس محرومی، ناانصافی اورحق تلفی کی شکایت کرنے والی بلوچستان کی موجودہ حکومت نے ریاست کے وزیراعلی کے لیے ایک ارب تیس کروڑ روپے کا نیا جہاز خرید لیا ہے۔ یہ انکشاف صوبائی وزیر خزانہ میرعاصم کرد گیلو نے منگل کے روز کوئٹہ میں پوسٹ بجٹ بریفنگ کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ انیس سو نوے سے وزیراعلی کے پرانے جہاز پر چھ سے سات کروڑ روپے کا خرچہ بھی کیا لیکن اس کے باوجود دوتین حادثات ہوتے ہوتے بچ گئے۔صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ چار پانچ مہینے کے بعد تو ویسے ہی ہماری حکومت جا رہی ہے۔ لیکن جو جہاز خریدا گیا ہے اس سے آنے والی حکومت استفادہ کرے گی۔ مالی سال دو ہزارگیارہ اور بارہ میں گورنر بلوچستان کے سیکریٹ فنڈ کے لیے پچاس لاکھ روپے رکھے گئے تھے لیکن گورنر سیکریٹ فنڈکی مد میں سترہ کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس طرح وزیراعلی بلوچستان کا بھی سیکریٹ فنڈ پچاس لاکھ روپے تھا لیکن وزیراعلی نے نو کروڑ پچاس لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔ صوبے کے عوام کو جہاز کی نہیں بلکہ تعلیم ، صحت ، ڈیمز ، روزگار، سڑکیں اور امن کی ضرورت ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی وزرا اور ان کے عملے کے لیے گزشتہ سال تیئس کروڑ روپے رکھے گئے تھے لیکن اخراجات بیالیس کروڑ سے زائد ہوئے ہیں۔ یعنی مختص رقم سے بارہ کروڑ روپے زائد خرچ کئے گئے۔
اتوار، 27 مئی، 2012
سچ یہی ہے کہ موجودہ حکمران خود ہمارے اپنے منتخب کردہ ہیں
اتوار, مئی 27, 2012
0
تبصرے
-ایک شوہر نے اپنی پھوہڑ اور بدمزاج بیوی سے کہا " بیگم اب اِس گھر کو تم ہی جنّت بنا سکتی ہو " ۔ بیوی خوش ہو کر بولی " وہ کس طرح " ؟شوہر ٹھنڈی سانس لے کر بولا " میکے جاکر " ۔ موجودہ حکمرانوں نے پچھلے ساڑھے چار برسوں سے اِس ملک کو غریب عوام کیلیے جس طرح جہنّم بنایا ہوا ہے ، اب عوام کی بھی دِلی خواہش اُس مظلوم شوہر سے قطعی مختلف نہیں کہ موجودہ حکمران بھی جلد سے جلد ایوانِ اقتدار سے رُخصت ہو کر اپنے گھر چلے جائیں تو شائد اُن کی زندگیاں بھی آسان ہوجائیں اور وہ سُکھ کا سانس لے سکیں ۔ لیکن حکمرانوں نے بھی عوام کو بلیک میل کرنے کا عجیب و غریب طریقہ اپنایا ہوا ہے کہ اگر ہمیں گھر بھیجنے کی کوشش کی گئی تو موجودہ جمہوری سسٹم سے عوام ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور عوام آسمان کی طرف دیکھ کر پھر خدا سے شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ " اے اللہ اِس " جمہوریت " کو چومنے چاٹنے کے عوض تو ہمیں کتنی رکعتوں کا ثواب عطا فرمائیے گا " ؟ ایک شکوہ مع جوابِ شکوہ تو حکیم الامت رقم فرما گئے ۔ اب ایک اور مظلوم شوہر کا شکوہ بھی لگے ہاتھوں سُن لیں " اے اللہ تو نے بچپن دیا ، چھین لیا ، جوانی دی چھین لی ، پیسہ دیا واپس لے لیا ، ایک بیوی بھی دے رکھی ہے ۔ بھول گیا کیا " ؟ عوام کوئی راستہ نہ پاکر آخرکار خدا سے ہی شکوہ کر کے کہتے ہیں " اے خدا موجودہ حکمرانوں کی صورت میں ہم پر جو عذاب تو نے مُسلّط کیا ہوا ہے ، وہ ختم آخر کیوں نہیں ہوجاتا ؟ نعوذ باللہ ! یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ بھول جائے ، لہذا اِس سے قبل کہ اِس ناچیز پر کوئی کفر کا فتویٰ لگادے جلدی سے جوابِ شکوہ بھی سُن لیں قدرت اِس ملک کے " بھولے بھالے " عوام کا شکوہ سُن کر مُسکراتی ہے اور نہایت رسان سے کہتی ہے " جیسے عوام ، ویسے حکمران " کیا تمہیں میرا وعدہ یاد نہیں کہ " اُس قوم کی حالت میں اُس وقت تک نہ بدلوں گا ، جب تک اُس قوم کو خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ آئے " ۔ کیا اِن حکمرانوں کو میں نے آسمان سے اُتارا ہے ؟ تم نے خود ہی تو اِنہیں منتخب کر کے اپنے اوپر مُسلّط کیا ہے ۔ پھر شکوہ کیسا " ؟
یں
جمعرات، 10 مئی، 2012
قابل رحم ہے وہ قوم جس کا حکمران سزا یافتہ مجرم ہو
جمعرات, مئی 10, 2012
4
تبصرے
اٹارنی جنرل نے فرمایا کہ ’’ شعرو شاعری سے سزا نہیں دی جا سکتی‘‘ لیکن انہیں شاید یہ نہیں معلوم کہ جس شعرو شاعری کا وہ حوالہ دے ہیں اس کا تعلق سزا کے فیصلے سے نہیں ہے بلکہ فیصلے سے ہٹ کر جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اضافی نوٹ ہے اور اس کا تعلق بھی اخلاقیات سے ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جسٹس کھوسہ نے لبنان کے عیسائی شاعر اور فلسفی خلیل جبران کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے وہ فیصلے کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی فیصلے کی جان ہے۔ اس سب کا تعلق بھی ا خلاقیات سے ہے لیکن اس میں غلط کیا ہے؟ یہ بات کس کو ناگوار گزری کہ’’ قابل رحم ہے وہ قوم جس کے رہنما قانون کی نافرمانی کرکے شہادت کے متلاشی ہیں‘ قابل رحم ہے وہ قوم جس کے حکمران قانون کا مذاق اڑاتے ہیں اور قابل رحم ہے وہ قوم جو اپنے کمزوروں کو سزا دیتی ہے مگر طاقت وروں کو کٹہرے میں لانے سے کتراتی ہے ۔ ترس آتاہے ایسی قوم پر جو مخصوص افراد کے لیے من پسند انصاف چاہتی ہے‘‘۔ اگر پاکستان میں صورتحال ایسی ہی ہے تو اس کے ذمہ داران کو شرم کرنی چاہیے اور اگر وہ سمھجتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے تو چراغ پا ہونے کی ضرورت نہیں۔ مگر اس کا کیا کیاجائے کہ یہ قوم واقعی قابل رحم ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی فی الوقت تو مجرم ہو گئے لیکن وہ نجانے کس حد تک جانے کی بات کرتے ہیں اور وکیل استغاثہ مجرم کی پشت پر کھڑا اعلان کررہاہے کہ فیصلہ تسلیم نہ کیاجائے۔ کیا اس لیے کہ مخصوص فرد کو من پسند ’’انصاف ‘‘ نہیں ملا۔ گیلانی صاحب خط لکھ دینے سے آپ کے صدر کا کچھ نہ بگڑتا مگر آپ نے خود بات بگاڑدی۔ قابل رحم ہے وہ قوم جس کا حکمران سزا یافتہ مجرم ہو۔
جمعرات، 3 مئی، 2012
یوم آزادی صحافت، دنیا بھر میں صحافیوں کے قتل میں 16 فیصد اضافہ، پاکستان سرفہرست
جمعرات, مئی 03, 2012
0
تبصرے
آج پوری دنیا میں آزادیٴ صحافت کا عالمی دن تحت منایا جارہا ہے جس کا مقصد حق اور سچ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ شہریوں میں سماجی شعور کی آگاہی بھی فراہم کرنا ہے۔ دنیا بھر میں صحافیوں کے قتل میں 16فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان سرفہرست ہے۔ صحافت کی آزادی اب صرف کانفرنسوں تک محدود ہوکر رہ گئی اور حقیقت میں سچ کو فروغ دینے والے ہر صحافی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں صحافت کی آزادی کا تصور ختم ہوکررہ گیا ہے کبھی حکومتیں اپنی بات منوانے کیلئے ہرممکن دباؤ ڈالتی ہیں تو کبھی پریشر گروپس صحافت کی آزادی پر اثر انداز ہوتے ہوئے سچائی کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملک میں حقائق کوپیش کرنے والے صحافیوں کیلئے کسی قسم کا تحفظ نہیں جس کا اندازہ اس امر سے بآسانی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان بدستور دوسرے سال بھی عالمی سطح پر صحافیوں کے قتل کے حوالے سے سرفہرست ہے۔ ولی بابر اور سلیم شہزاد سمیت پورے سال کے دوران 10صحافی پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دیتے ہوئے قتل کردیئے گئے۔ آزادی صحافت کے عالمی دن کے حوالے سے مختلف ذرائع سے جو اعدادوشمار حاصل کئے ہیں اس کے مطابق عالمی سطح پر 2011ء صحافیوں کیلئے برا ثابت ہوا اور صحافیوں کے قتل کے واقعات میں 16فیصد، غیر قانونی تحویل میں رکھے جانے والے صحافیوں کی تعداد میں 20فیصد، مختلف اوقات میں حراست میں لئے گئے صحافیوں کی تعداد میں 95فیصد، صحافیوں پر حملے اور تشدد کے واقعات میں 43فیصد اور اغوا کے واقعات میں 39فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں 2011ء کے دوران 28/ممالک میں 66صحافی اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے قتل کردیئے گئے جبکہ 2010ء کے دوران ایسے صحافیوں کی تعداد 57تھی۔ سال بھر کے دوران 10صحافیوں کے قتل کے ساتھ پاکستان سرفہرست رہا جبکہ 7کے ساتھ عراق دوسرے اور 5,5 کے ساتھ لیبیا اور میکسیکو تیسرے نمبر پر رہے۔ بھارت اور ایران میں 2,2 صحافی قتل کئے گئے۔ صحافیوں کے قتل کے حوالے سے مشرق وسطیٰ کاخطہ بدترین رہا جہاں 20صحافی قتل ہوئےجبکہ18صحافیوں کی ہلاکتوں کے ساتھ امریکا دوسرے اور 17کیساتھ ایشیا تیسرے نمبر پر رہا۔
بدھ، 25 اپریل، 2012
غریب کا بچہ انڈا چرا لے تو اسے اندھیری کوٹھڑیوں میں بند کردیا جاتا ہے
بدھ, اپریل 25, 2012
3
تبصرے
کوئی عام شخص جج کے سامنے گریبان کھول کر چلا جائے تو اسے عدالت کی توہین تصور کیا جاتا ہے اور اُدھر اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات نے ججوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا ہوا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت ایک کے بعد ایک حکم دیے جارہی ہے اور حکومت ان احکامات کو صرف ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینکتی، پہلے انہیں جوتوں تلے خوب رگڑتی بھی ہے۔ غریب کا بچہ انڈا چرالے تو اسے اندھیری کوٹھڑیوں میں بند کردیا جاتا ہے لیکن وزیراعظم کا بیٹا کروڑوں روپے ڈکارنے کا الزام لگنے کے باوجوگلچھرے اڑاتاپھررہا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے ایک نیا رواج متعارف کرایا ہے، جو جتنی زیادہ لوٹ مار کرتا ہے اسے اتنا ہی بڑاعہدہ بطور انعام دیا جاتا ہے، اگر عدالت کسی کو کرپشن کا ملزم ٹھہرادے تو گویا اس کی لاٹری کھل گئی، ایک دو تین نہیں درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ عدالت نے جس افسر کے خلاف کارروائی کا حکم دیا، حکومت نے اسے پہلے سے زیادہ پرکشش عہدے پر بٹھادیا۔ غالباً پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں قانون پر اتنے ’’اچھے‘‘ طریقے سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے میں سابق وزیرپانی وبجلی راجاپرویزاشرف سمیت متعدد افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا، حکومت نے عدالتی فیصلے پر فوری ’’عمل درآمد‘‘ کرتے ہوئے راجا صاحب کو ایک دوسری وزارت سے نوازدیا۔ باقی ملزمان کو بھی پورا سرکاری پروٹوکول دیا جارہا ہے
پیر، 23 اپریل، 2012
فوج سیاچن میں کیا کررہی ہے؟
پیر, اپریل 23, 2012
0
تبصرے
نوازشریف کی سیاچن کو یکطرفہ خالی کرنے کی بات بھی انتہائی مضحکہ خیز ہے.اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سیاچن کی جنگ پاکستان اور بھارت پر بوجھ بن چکی ہے، ماہانہ کروڑوں روپے اس میں پھونکے جارہے ہیں، اگر یہی رقم فلاح وبہبود کے کاموں پر خرچ کی جائے تو بہت سے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں، لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا میاں صاحب نے بیان کیا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں فوج سیاچن میں کیا کررہی ہے؟ میاں صاحب! فوج وہاں پر پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑرہی ہے، سجیلے جوانوں نے بھارت کی پیش قدمی کو روکا ہوا ہے۔ نئی دہلی کی نظریں برف پوش پہاڑوں پر نہیں گلگت بلتستان اور شاہراہ قراقرم پر ہے۔ اگر پاک فوج جانوں کا نذرانہ دے کر بھارت کو سیاچن پر نہ روکتی تو آج یہ جنگ اسلام آباد کے قریب لڑی جارہی ہوتی۔ ’’دنیا کو پتا ہے کہ پاک فوج سیاچن میں کیوں بیٹھی ہے، کوئی بغیر کسی وجہ کے 22ہزار فٹ بلند چوٹیوں پر نہیں بیٹھتا جہاں آکسیجن بھی نہ ہو۔‘‘، پاک فوج کی حیثیت وہاں پر حملہ آور کی نہیں ہے جو وہ خود غیرمشروط طو رپر علاقہ چھوڑکر واپس آجائے۔ دوسری بات، بالفرض اگر پاک فوج پیچھے ہٹتی بھی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ بھارت آگے نہیں بڑھے گا؟ اور کیا یہ Aپسپائی عملاً بھارت کا قبضہ تسلیم کرنا نہیں ہوگی؟
جمعرات، 19 اپریل، 2012
ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال ، خون ناحق کس کی گرد ن پر ہو گا ؟
جمعرات, اپریل 19, 2012
0
تبصرے
ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال ان کے پیشے کی بنیادی اخلاقیات کے خلاف اورصوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی غریبوں کوقتل کرنے کے مترادف ہے ۔ ینگ ڈاکٹرزکو اپنے مطالبات منوانے کے لیے کوئی دوسراراستہ اختیارکرناچاہیے یہ طریقہ مسیحائی کے منافی ہی نہیں بلکہ مسیحائی کے نام پربدنما داغ ہے۔ پنجاب حکومت اورڈاکٹروں کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں ہسپتالوں میں ہونے والی اموات ذمہ داروں کے خلاف سخت اقدام کیے جائیں، ڈاکٹروں اور صوبائی حکومت کومریضوں کو بے یارو مدد گار چھوڑنے کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیارکریں۔ اپنے جائز مطالبات کے لئے احتجاج ڈاکٹروں کا حق ہے مگر ڈاکٹرز اپنے پیشہ کا احترام کرتے ہو ئے مریضوں کے علاج معالجہ میں کمی نہ کریں۔ڈاکٹروں کی شکایات اپنی جگہ درست، لیکن کیا انہیں اپنے مقام اور فرائض منصبی کا بالکل بھی اندازہ نہیں رہا اور کیا ان کے سینے میں دھڑکتے دل میں رحم نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی جو ہر کچھ عرصے بعد اپنی شکایات کے ازالے کے لئے ہڑتال کا سہارا لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بیمار اور حادثات کے شکار لوگوں کی تکالیف کئی گنا بڑھ جاتی ہیں اور اس ہڑتال کے نتیجے میں ہونے والے اموات کا خون ناحق کس کی گردن پر ہو گا؟
بدھ، 4 اپریل، 2012
پیپلزپارٹی کی حکومت کے چارسال مکمل
بدھ, اپریل 04, 2012
0
تبصرے
پیپلزپارٹی کی حکومت کے چارسال مکمل ہوچکے ہیں۔ صدراوروزیراعظم اس پر داد طلب ہیں۔ ادھرملک بھرکے عوام کے صبرکا پیمانہ لبریزہوچکاہے۔ ہرطرف احتجاج ہے‘ مظاہرے ہیں اور حکمرانوں کے خلاف نعرے,۔یکم اپریل سے ایک بارپھرتیل وگیس کی قیمت میں ظالمانہ اضافہ کرنے پرتاجرتک بلبلااٹھے ہیں۔ تاجربرادری نے سول نافرمانی کی دھمکی دے دی اور ٹرانسپورٹرز کرائے بڑھانے کا اعلان کررہے ہیں‘ پنجاب میں توکرائے بڑھابھی دیے گئے۔ ان چاربرسوں میں بدامنی‘ مہنگائی اور بیروزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہواہے‘ صنعتیں بندہورہی ہیں‘ عوام مہنگائی کے ہاتھوں بے حال ہیں۔ اونچے ایوانوں کے روزکے اخراجات بڑھتے جارہے ہیں۔ ان چاربرسوں میں حکومت نے اتنا قرض چڑھالیاہے جو قیام پاکستان کے بعد سے چارسال پہلے تک لیے جانے والے قرض سے زیادہ ہے۔ جہاں منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے ریکارڈ توڑا گیا وہیں قرض لینے کا بھی نیا ریکارڈ قائم کیاگیا۔ یہ قرض حکمران نہیں عوام اداکریں گے اس لیے حکمرانوں کو کوئی فکر بھی نہیں کہ وقت آیا تو وہ اپنا سامان سمیٹ کر ایوانوں سے چلتے بنیں گے
پیر، 2 اپریل، 2012
ذرا تصور کیجئے
پیر, اپریل 02, 2012
12
تبصرے
ذرا تصور کیجئے! ایسے ملک کے بارے میں باہر کی دنیا کیا سوچے گی جس کے شہری جھوٹی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ کر غیر قانونی طریقوں سے ترقی یافتہ ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیتے پھر رہے ہوںاور پھر ان کی کارستانیاں کوئی اور نہیں بلکہ اسی ملک میں بے نقاب ہوں جہاں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے… ذرا سوچیے! اس ملک کا کیا تصور ہوگا جس کے باشندے جھوٹی سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے اپنے ملک پر تنقید کے آرے چلاتے ہوں ۔ جی ہاں! وطن عزیز کو بدنام کے لیے ایک ایسا ہی گروہ سرگرم ہے جس کو ہم اور آپ جماعت احمدیہ یا قادیانیوں کے نام سے جانتے ہیں اور تشویشناک امر یہ ہے کہ اس گروہ کی جعلسازی کو جرمنی کی وفاقی پولیس نے اس وقت بے نقاب کیا جب چند روز قبل شہر ڈارم شاڈ کے قریب فونک شاڈ میں جماعت احمدیہ کے چار گھروں پرچھاپا مار کر جماعت احمدیہ کے صدر ثناء اﷲ سمیت تین لوگوں اظہرجوئیا، عمر جوئیا اور ناصر جوئیا کو گرفتار کرلیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ یورپ کی تاریخ میں غیر قانونی سیاسی پناہ حاصل کرنے میں مدد دینے والا اب تک کا سب سے بڑا گروہ ہے، اس گروہ کے تانے بانے کس خوفناک حد تک پھیلے ہوئے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایے کہ جرمن پولیس نے زیر حراست احمدیوں سے پوچھ گچھ کے نتیجے میں ایک جرمن وکیل بوش برگ اور اس کی احمدی سیکریٹری روبینہ کے گھروں پر بھی چھاپے مارے ہیں۔ انکشافات در انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، جرمن ریڈیو چیخ رہا ہے، یورپی اخبارات چنگھاڑرہے ہیں۔ پولیس کمانڈوز ایک شہر سے دوسرے شہر مسلسل چھاپے مار کر احمدیوں کو گرفتار کر رہے ہیں، ذرائع کے مطابق احمدیوں کا یہ گروہ ایک طویل عرصے سے سرگرم تھا اور پاکستان سے ان گنت احمدیوں کو غیر قانونی طریقے سے جرمنی اور یورپ کے دیگر شہروں میں پناہ دلوا چکا تھا ۔ جرمن میڈیا کے مطابق احمدیوں کے خلاف جرمنی کی تاریخ میں سب سے بڑی پولیس کارروائی کی گئی جس میں بھاری پولیس نفری استعمال ہوئی او رپولیس کمانڈوز نے بھی اس میں بھرپور حصہ لیا۔ جماعت احمدیہ کے بعض ’’ لبرل‘‘ ذرائع نے جرمنی پولیس کی کارروائی پر کچھ حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں۔ ان کے مطابق جماعت احمدیہ کی مرکزی قیادت اس بات کا حتمی فیصلہ کرچکی ہے کہ پاکستان سے بڑی تعداد میں احمدیوں کو یورپ کے مختلف ملکوں میں بسایا جائے ، اس ضمن میں مسلم نوجوانوں کو بھی بیرون ملک کے سہانے سپنے اور احمدی خواتین سے شادی کا لالچ دے کر جرمنی، لندن، کینیڈا ، ہالینڈ ، بیلجئیم، اسپین و دیگر یورپی ممالک میں بسایا جارہا ہے اور اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان میں متعدد احمدی گروہ سرگرم ہیں۔
ہفتہ، 24 مارچ، 2012
اندھا بانٹے ریوڑیاں
ہفتہ, مارچ 24, 2012
0
تبصرے
صدر آصف علی زرداری نے یوم پاکستان کے موقع پرمختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں شہید ہونے والوں میں سول و فوجی اعزازت تقسیم کیے۔کل 190اعزازات تقسیم کیے گئے۔ ایوان صدر اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ، سیاسی رہنمائوں ، عسکری قیادت اور دیگر حکام بھی موجود تھے ، رحمن ملک، فرحت اللہ بابر ، بیگم نصرت بھٹو ، فرزانہ راجا ، گورنر سلیمان تاثیر کی اہلیہ ، شرمین عبید چنا ئے سمیت فوجی جوانوں اور اعلیٰ سول حکام اور ان کے اہل خانہ نے اعزازات وصول کیے ۔دہشت گردی کیخلاف جنگ میں لڑتے ہوئے شہید ہونے والے جن افسران اور جوانوں کو ستارہ بسالت دیا گیاان میںریئر ایڈمرل وسیم اکرم ، ائر وائس مارشل اشفاق آرائیں ، کیپٹن سید سردار حسین شاہ ، کمانڈر محمد فرحت عباس ، کمانڈر جواد حیدر خواجہ ، لیفٹیننٹ کمانڈر غلام شبیر ، لیفٹیننٹ کمانڈر خرم شہزاد اکرم ، کیپٹن ظفر خان شہید ، کیپٹن محمد جاوید خان شہید ، لیفٹیننٹ سید یاسر عباس شہید ، کیپٹن راجہ فرحان علی شہید ، لیفٹیننٹ فیض سلطان ملک شہید ، لیفٹیننٹ سجاد خان شہید کے اعزازت ان کے والدین نے وصول کیے جبکہ نائب صوبیدار فضل الرحمن کا اعزاز ان کی اہلیہ ، نائب صوبیدار فہیم خان کا اعزاز ان کی بیٹی ، حوالدار محمد زبیر ، حوالدار اللہ دتہ کی اہلیہ لیڈنگ ٹیکنیشن عبدالرزاق شہید کے والد ، لانس نائیک مظہر علی شاہ کی اہلیہ ، سپاہی محمد جاوید شہید کے والد سپاہی جمشید علی شہید کی اہلیہ ، سگنل میں محمد عمران علی شہید کے والد ، سپاہی محمد احسن کی والدہ ، سپاہی راشد اسلم شہید کی والدہ ، ٹیکنیشن محمد طیب شہید کے بھائی ، شیف انعام الرحمان شہید کے والد ، شیف اصغر علی شہید کے والد نے اپنے اقرباء کے اعزازات وصول کیے ۔ سول فوجی اعزازات پانے والوں میں مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو (مرحومہ ) کو نشان امتیاز دیا گیا ان کا اعزاز صنم بھٹو نے وصول کیا ۔سابق گورنر سلیمان تاثیر کی ا ہلیہ نشان امتیاز ،ا سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ، وزیر داخلہ رحمن ملک ، سعودی عرب کے سفیر عبدالعزیز بن ابراہیم ، آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے ، فرزانہ راجا ، ایم ڈی بیت المال زمرد خان ، ترجمان ایوان صدر فرحت اللہ بابر ، میاں عامر محمود ، سلیمان فاروقی ، سلطان علی لاکھانی ، صحافی نذیر ناجی ، وارث میر کو نشان امتیاز اور ہلال امتیاز کے اعزازات دیے گئے ۔ سید وڈال شاہ ، نرگس سیٹھی کو ہلال امتیاز ، ڈاکٹر عالمگیر ،عبدالعزیز شہید ، ناصرہ وزیر علی ، سکندر احمد رائے ، غلام مصطفیٰ سولنگی ، سہیل رانا ، حنیف خالد ، زاہد ملک ، ڈاکٹر ظہیر احمد مرحوم ، برہان گوہر اعجاز ، جمیل احمد کو ستارہ امتیاز ۔اداکارہ میرا کو تمغہ حسن کارکردگی‘جاوید شیخ محمد عزمل اناکر ( جاپان ) ، وسیم اشرف تائی شہید جمال الدین خان کو تحفہ شجاعت جبکہ شہید عبدالقدیر خان تمغہ شجاعت کے اعزازات ان کی بیوائوں ، عبدالرشید خان ، سید احمد خان ، عبداللہ جان ترین شہید ، آصف رحمان خان ، ارشاد علی رضا ، گلفت حسین شہید ، کانسٹیبل شازیہ گل شہید ، شاہ ایران شہید ابدالی محمد حسین شہید ، ہیڈ کانسٹیبل محمد طارق ، میجر ریٹائرڈ داور بن ظہور ، لیفٹیننٹ ریٹائرڈ اطہر اقبال سے کچکول خان شہید ، سلیم خان شہید ، عطا اللہ شہید ، فرید اللہ شہید ، شمشاد بیگم شہید ، محمد وصال خان شہید ، ملک مناسب خان شہید ، ملک فضل خان شہید ، محمد نوید یونس شہید ، عبدالجبار بھٹو ، لیفٹیننٹ ریٹائرڈ مقصود احمد کو تمغہ شجاعت ، اشتیاق بیگ ، ملک محمد آصف ، ایمان علی موچن ، سید جاوید حسنین کاظمی کو تمغہ امتیاز دیا گیا ۔شرمیلا فاروقی کو ستارہ امتیار سے نوازا گیا۔
جمعہ، 24 فروری، 2012
ذرائع ابلاغ وسیع پیمانے پر اخلاقی تباہی پھیلانے والا ہتھیاربن گئے ہیں۔
جمعہ, فروری 24, 2012
4
تبصرے
موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ کو غیرمعمولی طاقت حاصل ہوگئی ہے ‘ذرائع ابلاغ اورمیڈیا کی آزادی کا شوربھی ہے‘ لیکن اس شورمیں آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا تصورپس منظرمیں چلا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ نے حکمرانوں کے جبرواستبدادکے سامنے تو مزاحمت کی ہے لیکن سرمایہ دارانہ ظلم واستحصال کا آلہ کاربھی بن گیاہے۔ زیادہ بہترالفاظ میں یہ کہاجاسکتاہے کہ پوری دنیا میں ذرائع ابلاغ ”وسیع پیمانے پر اخلاقی تباہی پھیلانے والا ہتھیار“بن گئے ہیں۔ پاکستان میں نائن الیون کے بعد دس برسوں میں ذرائع ابلاغ تہذیب مغرب اور سرمایہ دارانہ نظام کے قائد امریکا کی عسکری اور سیاسی دہشت گردی کے ساتھ ثقافتی دہشت گردی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے موجودہ کردار کا تعلق بھی امریکی ”وارآن ٹیرر“ سے ہے جو اسلام اور مغرب کی عالمی جنگ کا حصہ ہے۔ اس جنگ کے تحت عالم اسلام کی مخصوص ذہنی تشکیل بھی مقصودہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ بالخصوص ٹی وی چینل اس جنگ میں امریکا اوربھارت کے مقامی آلہ کار بن گئے ہیں۔ پاکستانی معاشرے کی دینی اور اخلاقی بنیادوں کوکھودڈالنے کے لیے ذرائع ابلاغ کے ثقافتی ڈرون حملے بھی جاری ہیں۔ اس عمل نے معاشرے کی پاکیزگی کو آلودہ کردیاہے۔ اس نے ہمارے گھروں اور ہمارے بچوں کی ایمانی حیات کے لیے خطرہ پیداکردیا ہے۔ معاشرے کو پاکیزہ رکھنا ہم سب کا ملّی فریضہ ہے۔ دولت کی پوجا کرنے والے مفاد پرست عناصرکو ذرائع ابلاغ کی اقدارکا تعین کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو اسلام اور انسانیت کی مشترکہ پاکیزہ اقدارکا پابندبنانا حکومت کابھی فریضہ ہے اور بداخلاقی اورعریانی وفحاشی کی یلغارکو روکنا ہرفردکی ذمہ داری ہے۔




