سوموار، 13 اکتوبر، 2014

انقلاب ان فیصل آباد ، ہم بھی وہیں موجود تھے

15 تبصرے
میڈیا کی مہربانی سے پچھلے دو ماہ میں قادری صاحب اور عمران خان گھر گھر پہنچ چکے ہیں ،جو نہیں بھی جانتا تھا ان دھرنوں کی بے پناہ کوریج نے ان سے متعارف ہوچکا تھا ،دھرنوں سے دل بھرنے کے بعدعمران خان کے بعد محترم قادری صاحب نے بھی شہر شہر جاکر جلسوں کا پروگرام بنا لیا اور ان کی پہلی منزل فیصل آباد قرار پائی۔میں قادری صاحب اور عمران خان کا مخالف نہیں ہوں ،دونوں نے پاکستانی سیاست میں اپنی بہترین جگہ بنا لی ہے اور روائتی سیاست کی جگہ نئے نئے آئیڈیاز متعارف کروائے ہیں اور ان کی پروموشن میں ان کی متحرک ترین میڈیا ٹیموں،وسائل کا بے انتہا اور بے دریغ استعمال اور پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کا بہت ہاتھ ہے ۔ان کی میڈیا ٹیموں کی کارکردگی واقعی قابل تعریف ہے اور الیکٹرانک میڈیا جس انداز سے ان کا ساتھ دے رہا ہے وہ واقعی حیرت انگیز ہے۔ ڈی چوک اسلام آباد،لاہور ، کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں ہونے والے جلسوں کی جس انداز میں کوریج کی جارہی ہے وہ آج تک پاکستان کے حکمرانوں کو بھی نصیب نہیں ہو سکی قطع نظر اس بات کے کہ اس کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما
ہیں ۔
 یہاں میرا اصل مدعا ان حقائق کو سامنے لانا ہے جو میں نے پچھلے دو تین دنوں میں اکھٹے کئے ہیں اور آپ کو بتا نا ہے الیکٹرانک میڈیاکی بڑی بڑی کرینوں اور اب فضائی ویڈیو گرافی کوریج کی وجہ سے چند ہزار کے مجمع کو کیسے لاکھوں کا کراؤڈ بنا دیا جاتا ہے، اس مقام پر اگر ایک ہزار افراد سما سکتے ہیں تو یہ فضائی کوریج اسے ایک لاکھ تک لے جاتی ہے اور دنیا بھر میں دیکھنے والے حیرتوں کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔
یہاں میں آپ کو چند تصویر کے ذریعے دھوبی گھاٹ گراؤنڈ دکھاتا ہوں اور پارک میں لگائی جانے والی کرسیوں کتنی تعداد میں لگ سکتی ہیں اور ارد گرد کی وہ سڑکیں جن پر محترم طاہرالقادری صاحب نے تین لاکھ افراد جمع ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہاں کتنے لوگ آ سکتے ہیں اور چینلز نے کیا تعداد بتائی ہے۔ اس سے پہلے دھوبی گھاٹ کا مختصر سا تعارف یہ ہے کہ یہ پارک قیام پاکستان سے قبل سے یہاں موجود ہے اور شہر کے قلب میں واقع ہے جبکہ تاریخی گھنٹہ گھر سے محض نصف کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔بانی پاکستان محترم قائد اعظم قیام پاکستان سے قبل یہاں خطاب کر چکے ہیں،ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز یہاں سے کیا،اس گراؤنڈ کو اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کے ہر بڑے سیاسی لیڈر نے یہاں خطاب کیا، اس تصویر کودیکھیں

 یہ گوگل سے لیا گیا دھوبی گھاٹ اور اس کے گردو نواح کا میپ ہے،اس سے آپ کو دھوبی گھاٹ گراؤنڈ کی لمبائی چوڑائی کا اندازہ ہو جائے گا۔ پہلے یہ سارا ایک ہی گراؤنڈ تھا اور اس میں ہر جلسہ کے لئے سٹیج بنایا جاتا تھا جبکہ اب ضلعی انتظامیہ نے یہاں پختہ سٹیج تعمیر کروا دیا جو ایک بڑے ھال کی چھت ہے ،ھال میں نوجوانوں کے لئے جم قائم ہے،اب گراؤنڈ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ، تین حصہ جلسہ گاہ ہے جبکہ ایک حصہ میں بچوں کے لئے جھولے وغیرہ لگا دیئے گئے ہیں جب کوئی جلسہ ہوتا ہے تو ضلعی انتظامیہ حفاظتی تدابیر کے طور پر گراؤنڈ کے تین حصوں میں سے ایک حصہ جس طرف سٹیج بنا ہوا ہے کو سیکورٹی حصار کا درجہ دے کر خاردار تاروں اور آہنی پائپوں سے بند کر دیتی ہے یو ں سٹیج اور پنڈال کے درمیان تقریباً 100فٹ سے زائد جگہ خالی رہ جاتی ہے جہاں کسی صور ت بھی پنڈال سے کوئی فرد داخل نہیں ہو سکتا۔اب جو جگہ وہاں خالی رہتی ہے اس میں مردوں کے لئے کرسیاں لگائی جاتی ہیں جبکہ جو حصہ پیچھے والابچوں کا پارک ہے وہاں خواتین کے کرسیاں لگائی جاتی ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے نواز شریف،عمران خان ، سنی اتحاد کونسل اورسراج الحق کے جلسوں کے لئے یہی حکمت عملی اپنائی گئی۔ایک ماہر تعمیرات نے اس حصہ کی جگہ کو باقاعدہ ناپنے کے بعد دو طرح سے کرسیاں لگا کے دکھائی ہیں جوآپ ان تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

 یہاں کسی طور پر بھی پانچ ہزار سے زائد کرسی نہیں لگائی جا سکتی جبکہ خواتین کے لئے مخصوص حصہ میں بہت زیادہ بھی ہوں تو دو ہزار افراد کے لئے کرسیاں لگائی جا سکتی ہیں۔اس طرح اس پارک میں کسی طور پر سات ہزار سے زائد کرسیاں نہیں لگائی جا سکتیں، میرا ان پانچوں جلسوں کی منتظمین اور سارے الیکٹرانک میڈیا کو چیلنج ہے کہ وہ میری بات کو جھٹلا کے دکھائیں مگر اس کے باوجود ایک چینل نے کہا کہ تیس ہزار کرسیاں لگ گئی ہیں،دوسرے نے بیس ہزار اور تیسرے نے تعداد اٹھارہ ہزار بتائی جبکہ منتظمین کرسیوں کی تعداد پچیس ہزار بتاتے رہے۔اب آپ اس تصویر کو دیکھیں جو ہمارے فوٹو گرافر نے دوپہر ایک بجے بنائی ہیں ،آپ زوم کر کے کرسیاں گن سکتے ہیں،


پھر قوم کو ان فضائی کوریج کے ذریعے کیوں بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔زوار چوہدری نامی ایک نیا دانشور کراچی بیٹھ کر تبصرہ کر رھا تھا کہ جلسہ گاہ میں پچاس ہزار افراد کی گنجائش ہے اور لاکھوں لوگ باہر کھڑے ہیں۔
اب آتے ہیں جلسہ گا کی باہر کی طرف جہاں بقول علامہ صاحب تین لاکھ سے زائد لوگ موجود تھے،اگر آپ دوبارہ گوگل والا میپ دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ جلسہ گاہ کے سٹیج کے بالکل بیک پر جی سی یونیورسٹی ہے جہاں علامہ صاحب کے بقول وہ بھی یہیں پڑھتے رہے ہیں ، دھوبی گھاٹ گراؤنڈ اور یونیورسٹی کے درمیان صرف ایک سڑک حائل ہے،سٹیج سے دیکھیں تو بائیں طرف محلہ دھوبی گھاٹ ہے ، سٹیج کے بالکل سامنے پارک کے اختتام پر میونسپل لائبریری کی نو تعمیر شدہ بلند عمارت ایستادہ ہے،اس کا مطلب ہے کہ باہر کھڑے ہونے کے لئے صرف پارک کے دائیں طرف والی دو روریہ سڑک ہے جسے کوتوالی روڈ کہا جاتا ہے موجود ہے مگر اس کی صورت حال یہ ہے کہ اس دوریہ سڑک کو لائبریری سے لے کر جی سی یونیورٹی چوک تک قناتیں لگا کر بند کر دیا گیاتاکہ کوئی بندہ کسی اور طرف سے جلسہ گاہ میں داخل نہ ہو سکے ،جلسہ گاہ میں داخل ہونے کے لئے اسی دورویہ سڑک کے جلسہ گاہ والی طرف سے لائبریری کے پاس سے ایک واک تھرو گیٹ لگا کر باقی حصہ کو بیریئرز لگا کر بند کیا گیا تھا،بس یہی داخلی راستہ تھا اور اس کو سڑک پر لائبریری سے جلسہ گاہ کے مین گیٹ تک بیریئرز کی تین رویہ لائنیں بنائی گئی تھی تاکہ لوگ قطار میں جلسہ گاہ پہنچیں اور بد نظمی نہ ہو سکے یہیں ایک منی ٹرک پر ساؤنڈ سسٹم کا آخری حصہ نصب تھا ۔اس کا مطلب یہاں کسی بندے کی کھڑے ہونے کی گنجائش ہی نہیں۔اسی سڑک کا دوسرا خالی حصہ گزشتہ جلسوں کی طرح جی سی یونیورسٹی سے لے کر امین پور بازار تک مکمل طور پر انتظامیہ کے کنٹرول میں تھا اور وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا،انتظامیہ کے پلان کے مطابق سبھی جلسوں کے لئے یہی حکمت عملی کے اپنائی گئی تاکہ کسی ناگہانی صورت حال میں ایک متبادل روٹ موجود رہے۔آپ چنیوٹ بازار سے امین پور بازار تک آسکتے ہیں آگے سارا راستہ انتظامیہ نے اسی حکمت عملی کے تحت بند کر دیا تھا جب محترم طاہرالقادری صاحب کہہ رہے تھے کہ چنیوٹ بازار تک تین لاکھ لوگ کھڑے ہیں تومیں اپنی موٹر سائیکل پر چنیوٹ بازار سے امین پور بازار کی طرف جارہا تھا اور امین پور بازار جہاں سے بیریئر لگا کر آگے جانے کا راستہ بند کر دیا تھا وہاں جلسہ کی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔
میں ایک عام شہری ہوں،میرے لئے طاہرالقادری،عمران خان سمیت سبھی سیاسی لوگ قابل احترام ہیں مگر جب جلسہ کے اختتام پر علامہ صاحب کی طرف سے لوگوں کو ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین کرتے ہوئے جلسہ گاہ کو انسانی سمندر اور جلسہ گاہ سے باہر تین سے چار لاکھ افراد کی موجودگی کی خبر نے مجھے حیرت زدہ کر دیا،مجھے حیرت تو اس الیکٹرانک میڈیا پر بھی ہے جو جانتے ہوئے بھی ،دیکھتے ہوئے بھی کیا کیا سے بنا رہا ہے۔
ویسے میں نے اپنی زندگی میں دو دفعہ دھوبی گھاٹ اور جی سی یونیورسٹی سے چنیوٹ بازار تک کے علاقہ کو انسانی سمندر بنتے دیکھا ہے اور میرے شہر کے باسی اس کے گواہ ہیں،پہلی دفعہ سن1977ء میں جب قومی اتحاد کا انتخابی مہم کا جلسہ تھا اور دوسری دفعہ 1986ء میں جب محترمہ بے نظیربھٹو طویل جلا وطنی کے بعد پاکستان آئی تھیں اورمینار پاکستان پر ہونے والے جلسہ کے بعد پنجاب کا دورہ کرتے ہوئے فیصل آباد آئیں تھیں جبکہ بزرگ کہتے ہیں 1970ء میں ذوالفقار علی بھٹو جلسہ بھی بہت بڑا تھا ۔

15 تبصرے:

  • سوموار, اکتوبر 13, 2014
  • سوموار, اکتوبر 13, 2014

    الحمدللہ شکر ہے کسی مسند بندے نے ہماری تائید تو کی
    بہت اعلیٰ ، اہم اور قیمتی تحریر محترم ملک صاحب
    اصل میں دو چیزیں عوام کو گمراہ کر رہی ہیں
    1۔ زرد میڈیا ٹی وی
    2۔ زرد خفیہ ایجینسیاں
    اب آپ پوچھیں گے کہ یہ زرد خفیہ ایجینسیاں کون سی ہیں تو ان پر پھر کسی وقت اپنے بلاگ پر روشنی ڈالوں گا

  • سوموار, اکتوبر 13, 2014

    حضرت بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔ میرا گھر دھوبی گھاٹ کے ساتھ گلی نمبر 7 میں ہے جو کہ محدث اعظم مسجد کے بالکل ساتھ ہے اور اس علاقے کو بہت بہتر طور پر جانتا ہوں۔۔ جب ڈاکٹر صاحب نے جلسہ گاہ پہنچنے سے پہلے ہی 2 لاکھ تعداد بتائی تھی تب میرا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا۔۔۔میں اپنی چھوٹی بہن کو چھوڑنے کوہستان کے اڈے پر گیا جہاں میں نے دیکھا اس سڑک سے بسیں اور ویگنیں بھر بھر کر لوگوں کو دھوبی گھاٹ جاتے دیکھا۔ عمران خان کی طرح یہ جلسہ بھی قطعی طور پر مقامی جلسہ نہیں تھا یہ غیر مقامی جلسہ تھا جس میں لوگوں کو بھر بھر کر دیگر علاقوں سے لایا گیا۔۔۔۔باقی لوگ آج کل میڈیا کی بات پر یقین کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے ہم آپ جتنا مرضی بولتے رہیں۔

  • سوموار, اکتوبر 13, 2014

    عالمِ رویا میں ہمیں دو دن پہلے دکھایا گیا تھا کہ جلسہ میں شریک ہربندے کے کندھوں پر دائیں بائیں دو دو بندے سوار ہوں گے جن کا تعلق عالم ارواح سے ہے یہ میڈیا کو تو نظر آئیں گے ناقدین ان کے دیدار سے محروم رہیں گے اور اگلے جلسے میں ان روحانیوں کی تعدادِ مقدس ڈبل ہوتی جائے گی
    قادری صاحب پریس کانفرنس میں ملک صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے

  • سوموار, اکتوبر 13, 2014

    محترم ملک صاحب، آپ نے حق قلم اور حق صحافت ادا کیا ہے۔ آپ کسی کے فریق نا بنے اور نا ہی آپ نے کوئی جانبداری دکھائی۔ آپ کی یہ تحریر ایک محققانہ دستاویز ہے جسے کسی جگہ غیر جانبدار مبصر کے الفاظ کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ شکریہ۔

  • سوموار, اکتوبر 13, 2014

    آپ نے بہت محنت سے اور دل جمی سے یہ چشم کشا حالات لکھے ہیں، اور جگر جیسے مستد دروغ گو کو ایک بار پھر نقطہ سے پکڑلیا ہے، مگر نہ اس نے باز آنا ہے اور نہ ہی اسکی پیروی اور اندھی تقلید کرنے والوں نے۔ اللہ ہماری قوم کو اپنی امان میں رکھے

  • سوموار, اکتوبر 13, 2014

    ملک صآحب اپ کا تجزیہ اپنی جگہ درست ہے مگرسوال یہ ہے جو بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ جلسہ میں اگرپانچ ہزار افراد ہی تھے توکوئی بات نہیں لیکن ایک بات اہم ہے وہ ہے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھنا۔حکمت میں چند حکیم نباض ہوتے ہیں مگر پریکٹس اس کی چلتی ہے جس کی دوا سے ارام ائے ۔اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ نباض کس ڈاکٹر کوریفرکرتا ہے

  • سوموار, اکتوبر 13, 2014

    زبردست مشاہدہ اور تحقیق۔ نہایت اعلیٰ پائے کی غیرجانبدارانہ"تفتیشی صحافت"۔ میڈیا کے رویے پر افسوس ہوا۔ ہمارے سب نام نہاد لیڈر اندر سے ایسے ہی "تعفن زدہ "ہیں۔کچھ کہنے کی گنجائش نہیں۔
    جس قوم کو کھرے کھوٹے کی پہچان نہ ہو وہ کیا سودا کرے گی۔

  • سوموار, اکتوبر 13, 2014

    قادری کے جھوٹ کسی سے ڈھکے چھپے تو نہیں ہیں. آپ کی تحقیقاتی رپورٹ نے ان کی جھوٹ کو پول کھول دیا. میں نے بھی جلسے کی کروائی ٹیلی ویژن پر براہ راست دیکھی ۔ سب سے اچھی تقریر پرویز الہیٰ کی لگی. قادری کے جھوٹوں کی ہسٹری طویل ہونے کی وجہ سے سنجیدہ طبقہ ان کی باتوں پر توجہ ہی نہیں دیتا. آپ جیسے غیر جانبدار صحافی اب بہت کم ہیں. آپ کی کاوش بلا شبہ قبل تعریف ہے.

  • منگل, اکتوبر 14, 2014
  • منگل, اکتوبر 14, 2014

    ان کمبختوں کا کام ہی جھوٹ سے شروع اور جھوٹ پر ختم ہوتا ہے

  • منگل, اکتوبر 14, 2014
    گمنام :

    بہت خوبصورت اور غیر جانبدار تبصرہ ہے ملک صاحب۔
    farooq Baig

  • منگل, اکتوبر 14, 2014

    غیر جانبدار تبصرہ ہے ملک صاحب

  • جمعرات, اکتوبر 16, 2014

    ملک غلام مصفطےٰ صاحب آپ کا تبصرہ بالکل درست ہے۔ میں اس وقت طاہر القادری صاحب کے اسٹیج پر ان کے دائیں جانب موجود تھا اور سارا دن جلسہ شروع ہونے سے لے کر آخر تک پنڈال کا مکمل جائزہ بھی لیا تھا۔ کل تعداد 30 سے 35 ہزار تھی ۔ سڑک پر تو اس وقت ہی کرسیاں لگا دی گئی تھیں جب اندر ابھی ایک چوتھائی بھی لوگ نہیں آئے تھے۔ اسی طرح اندر اور باہر ویڈیو سکرینیں اس انداز سے لگائی گئی تھیں کہ لوگ ان مخصوص جگہوں پر رک کر ان سکرینوں کو دیکھیں اور ہر سکرین کے قریب ویڈیو کیمرے لگا کر ان کی بھی کورایج دی جارہی تھی تاکہ جب بھی سکرین پر یہ مناظر آئیں تو لوگ اپنی موجودگی کے احساس کیلئے حرکت کریں گے جسے جوش وخروش کے نام پر دکھایا جائے گا۔
    جلسے کو مجلس وحدت المسلمین اور ق لیگ کی ایک بڑی تعداد نے رونق بخشی، چوہدری ظہیرالدین خان اپنے حلقہ سے فی بس دو بریانی کی دیگوں پر ہی دیہاتیوں کو دھوبی گھاٹ لانے میں کامیاب رہے۔ جبکہ سنی اتحاد کونسل کی سب سے کم تعداد جلسہ میں پہنچی۔ عوامی تحریک کا تو اپنا جلسہ تھا ان کی مکمل طاقت اور افرادی قوت اس جلسہ مٰیں موجود تھی۔ چار قوتوں کا مشترکہ جلسہ تھا۔ البتہ اس سب کے باوجود ایک کامیاب اور جاگتا ہوا مجمع تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی گفتگو سے قطع نظر ان سے محبت کرنے والے جذباتی لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی ۔ ان کا استقبالیہ منظر قابل رشک تھا۔
    ڈاکٹر طاہر القادری نے جب خلفا راشدینؓ کے نام لئے تو اس وقت سٹیج پر بیٹھے مجلس وحدت کے رہنماؤں کے چہرے قابل دید تھے۔ دوسرا جب طاہر القادری نے فیصل آباد کو صوبہ بنانے کی بات کی تو سٹیج پر موجود لوگوں کے چہروں پر طنزیہ مسکراہٹ کا بندہ عینی شاہد ہے۔ ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر صوبہ فیصل آباد ہو تو بولے دی جھگی اس کا دارالحکومت کہلائے گی؟؟
    از سید ذکراللہ حسنی۔ ریجنل بیوروچیف روزنامہ اسلام، انویسٹی گیشن رپورٹر روزنامہ امت کراچی، کالمنسٹ اردو پوائنٹ ڈاٹ کام۔ www.facebook.com/zikerullah hassani

  • جمعہ, اکتوبر 17, 2014
    حافظ صفوان محمد :

    مصطفیٰ صاحب۔ سر جی آپ بھی ناں بس خوامخواہ امام ابوحنیفہ کے شاگرد کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ دیکھیے ناں، دس ہزار لوگوں کی موجودگی تو آپ بھی مانتے ہیں۔ پھر ہر ایک کے ساتھ دو دو فرشتے۔ یہ ملا کر تیس ہزار ہوگئے۔ پھر سات سات فرشتے جو دن اور رات کے اعمال لانے لے جانے پر مامور ہیں، یہ ملاکر 70 ہزار جمع 70 ہزار یعنی ایک لاکھ چالیس ہزار ہوگئے۔ یعنی کل ملاکر ایک لاکھ ساٹھ ہزار۔ پھر ان سب کی روحیں قبض کرنے کے لیے بھی فی روح ایک فرشتہ یقینًا ہر جگہ ضرور ہوگا۔ اس طرح کل تعداد تین لاکھ بیس ہزار ہوگئی۔
    دیکھیے، ابھی تو قادری صاحب نے بیس ہزار کی تعداد کم بتائی ہے۔ آپ خیال کریں، آپ اتنے بڑے عالمِ دین، امام ابوحنیفہ کے شاگرد، ایک لاکھ مولویوں کے برابر ایک مولوی مولانا طاہر اشرفی کے کلاس فیلو، کے خلاف بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

.