بدھ، 27 نومبر، 2013

وکلاء گردی

4 تبصرے
اس تصویر  میں نظر آنے والا منظرپاکستان کے تیسرے بڑے شہر  فیصل آباد کے بار ایسوسی ایشن کے واش رومز کا ہے،  وکلاء کو پاکستان کا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ تصور کیا جاتا ہے مگر اس تصویر نے میرے جیسے لاکھوں پاکستانیوں کے  سینے میں عجیب سے آگ لگا دی ہے کچھ بھی ہوا ہو کم از کم یہ تو نہیں ہونا چاہیے تھا،کل 26نومبر کو فیصل آباد سمیت پنجاب کے  پانچ ڈویژن کے وکلاء نے  فیصل آباد سمیت پانچوں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز پر لاہور ہائی کورٹ کا بنچ نہ قائم ہونے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کی پر شکوہ عمارت کے سامنے دھرنا دیا، یہ وہی عمارت ہے جس کی عظمت کو بحال کرنے کے لئے پاکستان بھر کے وکلاء نے ایک طویل جدوجہد کی اور جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی میں اپنا یادگار کردار ادا کیا ،یہ احتجاج تو رنگ لے آیا مگر پاکستان بھر کے  وکلاء خاص کر نوجوان وکلاء کو ایک نیا موڑ دے گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں وکلاء گردی کی اصطلاح سامنے آئی ، نوجوان وکلاء نے جب چاہا ،جہاں چاہا اور جسے چاہا اپنے جوتے کی نوک پر رکھ لیا۔کہیں معزز عدالتوں کے جج صاحبان ان کے ہتھے چڑھے اور ان پر جوتے برسائے، کہیں عدالتوں میں پیشی پر پولیس افسران ،کہیں عدالتی اہلکار اور کہیں بد نصیب سائلین وکلاء گردی کا شکار ہوئے مگر کل انہی قانون کے رکھوالوں اور محافظوں میں پاکستان میں قانون کی سب سے بڑی علامت سپریم کورٹ آف پاکستان پر دھاوا بول کر لگتا ہے اب اپنے تابوت میں آپ  ہی آخری کیل ٹھونک لی ہے۔ سپریم کورٹ پر دھاوے کے دوران ان اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد نے جو کچھ کیا  شائد  وہ کبھی ضبط تحریر نہ لایا جا سکے۔احتجاج ہر پاکستانی کا جمہوری حق ہے اور اس پر کوئی پابندی بھی نہیں ہونی چاہیے مگر ایک عام آدمی اور ایک وکیل کے احتجاج میں کوئی تو فرق ہونا چاہیے۔فیصل آباد میں ہائی کورٹ کے بنچ کے قیام کا مطالبہ صرف وکلاء کا نہیں بلکہ یہ ڈویژن بھر کے ڈیڑھ کروڑ عوام کا مطالبہ ہے اور فیصل آباد کے سیاسی، سماجی،صحافتی حلقے ،سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا پر ایکٹو میرے جیسے لوگ ہمیشہ اس مطالبہ کی تائید کرتے رہے ہیں اور ہر احتجاج میں وکلاء کے شانہ بشانہ شریک رہے ہیں مگر کل کے واقعات کے بعد آج فیصل آباد کے بار رومز کے واش رومز کے باہر لکھا جانے والے  ان الفاظ نے مجھ سمیت فیصل آباد کے ہر شہری کو دکھی کر دیا ہے۔ کیا یہ مہذب معاشروں کا طریقہ ہے ، معاشرے کے سب سے باشعور طبقہ کا یہ اقدام کیا کبھی کہیں بھی سراہا جائے گا ،

جمعرات، 14 نومبر، 2013

جی ہاں جماعت اسلامی واقعی غدار ہے

3 تبصرے

یہ ستر کی دہائی کے اوائل کی بات ہے ، اگر چہ اس وقت اتنا شعور نہیں تھا ، سکول کی ابتدائی جماعتوں میں زیر تعلیم تھے مگر سقوط ڈھاکہ اورانتخابات  ذہن کے نقشہ پر کسی حد تک محفوظ ہیں۔ ان انتخابات کی سب سے دلچسپ یادوں میں  پیپلز پارٹی کے قائدبھٹو کے حق میں اور  جماعت اسلامی کے امیر سید مودودی کی مخالفت میں گلیوں ،بازاروں اور تھڑوں پر ہونے والی نعرہ بازی اور  بحث و مباحث  شامل ہے۔ سب سے زیادہ زور  جماعت اسلامی کو پاکستان کے قیام کے مخالف ہونے پر لگایا جاتا تھا ۔ میں اکثر اپنے بڑوں سے پوچھتا کہ ابھی ساری قوم کہہ رہی تھی کہ مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکنوں نے پاک فوج کے شانہ بشانہ اپنی جانیں قربان کرکے  پاکستان کو متحد رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا  ہے تو پھر  یہ لوگ پاکستان کے قیام کے کیسے مخالف ہوگئے۔ ذرا کچھ بڑے ہوئے تو سکول میں پڑھائی جانے والی معاشرتی علوم میں قیام پاکستان سے پہلے اور بعد کے واقعات موجود ہوتے تھے مگر سب کچھ موجود ہونے کے باوجود کہیں یہ پڑھنے کو نہ ملا کہ یہ لوگ قیام پاکستان کے مخالف ہیں۔ کالج دور اور پھر مسلسل سیاسی ،سماجی اور صحافتی زندگی بہت کچھ پڑھنے اور سننے کو ملا۔ پاکستان کی تاریخ کے ہر نازک دور میں جماعت اسلامی کے کارکن  سب سے آگے نظر آئے مگر قوم ان کی کیوں مخالف ہے  مجھے سمجھ نہیں آ سکا۔ ایک بات ضرور نظر آئی جماعت اسلامی کے لوگ ہر مصیبت میں فوج کے شانہ بشانہ نظر آئے۔افغان وار اور کشمیر میں بھی ان لوگوں کا ایک منفرد کردار قوم کے سامنے آیا ۔ میرے لئے وہ حیران کن لمحہ تھا اس وقت کے امیر جماعت اسلامی  میاں طفیل محمد کا بیٹا خود افغان جنگ میں شہید ہوا۔ تاریخ کے ایک معمولی طالب علم کے طور پر جب میں جماعت اسلامی کی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں تو  جماعت کی فوج سے دوری کا آغاز پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا تو ایسا لگا کہ ہمیشہ سے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے والی جماعت اسلامی اور فوج میں دوریاں پیدا ہو رہی ہیں جس کی وجہ جماعت اسلامی کا مضبوط موقف ہے تو احساس ہوا کہ  جماعت اسلامی کو فوج کی بی ٹیم کہنے والے اس کے کردار سے واقف نہیں ۔ جب جماعت اسلامی نے فوج کی حمائت کی اس وقت بھی پاکستان کی بقاء اولین ترجیح تھی اور جب دوریوں کا آغاز ہوا تو  اس وقت بھی جماعت کی ترجیح پاکستان کی بقا ء ہی تھی۔ابھی چند دن پہلے  جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سید منور حسن پر  ایک ایسے بیان پر   ہر طرف سے تنقید اور تبریٰ شروع ہوئی تو مجھے  بچپن کے وہ تمام نعرے یاد آگئے جو اس وقت جماعت اسلامی اور اس کے سید پر لگائے جاتے تھے، آج پھر سید زادہ ہی ایک بار پھر ان نعروں کی زد پر آ گیا مگر میری حیرت کی انتہا نہیں رہی  جب میں نے موازنہ کیا تو یہ سارے وہی لوگ ہیں جو اس وقت تھے ،پیپلز پارٹی ،اے این پی، مخصوص طبقات کے علمائے کرام اور نام نہاد دانشور ۔اب صرف اضافہ ایم کیوایم کا ہوا ہے لیکن نظریات ان لوگوں کے جیسے ہی ہیں۔
میں ایک عام آدمی سوچنے پر مجبور ہوں کہ جماعت اسلامی  پر پابندی لگانے اور اسے ملک دشمن قرار دینے کا مطالبہ کون کررہا ہے۔ پیپلز پارٹی ۔۔۔۔۔۔۔ جس نے پاکستان میں الذوالفقار بنا کر دہشت گردی کی بنیاد رکھی اور فوج کے خلاف اشتہار تک چھپوائے، اے این پی ۔۔۔۔۔۔۔ جسے ملکی قانون کے تحت ملک دشمن قرار دے کر پابندی لگائی گئ، مخصوص علمائے کرام جن کا کام صرف ہر حکمرانوں کی تحسین ہی کر نا ہوتی ہے،ایم کیو ایم ۔۔۔۔۔۔۔ جس کے لیڈر آرمی آفیشلز کے قتل میں ملوث رہے ہیں۔ میری رائے میں تو یہ ساری  بحث اس اصل ایشو سے توجہ ہٹانے کے لئے شروع کی گئی جس کی آج قوم کو ضرورت ہے اور جس کی وجہ سے آج ہم مصائب اور مشکلات کا شکار ہیں ، پچاس ہزار بے گناہوں کی قربانی دے کر بھی ہم ہی ملزم  
مجرم ہیں ۔ وہ ہے ایک پرائی جنگ جو  ہمارے حکمرانوں نے ہمارے سر ڈال دی ہے۔

روزنامہ دنیا کی 14 نومبر 2013 کی اشاعت میں سید منور حسن کے انٹرویو  کا قتباس پڑہیے اور خود فیصلہ کیجیئے کیا جماعت اسلامی واقعی غدار ، ملک دشمن اور فوج مخالف ہے
" انہوں نے ایک سوال پرکہا کہ میرے جن الفاظ کو بنیاد بنا کر جماعت اسلامی اور مجھے ٹارگٹ کیا گیا ان الفاظ اور میری جانب سے اٹھائے جانے والے سوال کو سننے کی زحمت بھی نہیں کی گئی جس میں میں نے مفتیان اور علماء کرام سے امریکہ کا ساتھ دینے والوں کے متعلق رائے طلب کی تھی۔ البتہ اس رجحان سے ہم محظوظ ضرور ہوئے ہیں کہ جو کل تک بیرونی ایجنڈا پر ہماری مسلح افواج کو ٹارگٹ کرتے اور کوستے نہیں تھکتے تھے وہ بھی ہمارے خلاف فوج کی ہمنوائی کرتے نظر آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی اپنی ایک تاریخ ہے ہم نے تو کل مشرقی پاکستان میں بھی مضبوط پاکستان کیلئے اپنی فوج کا ساتھ دیا تھا اور آج بھی ہمارا عزم ہے کہ ملکی استحکام اورقومی مفادات کے تحفظ کیلئے حکومت اور قومی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونگے لیکن وہ لوگ جنہوں نے ایک بے بنیاد بات کو جواز بنا کر ہمیں ٹارگٹ کیا آنے والے حالات اور معاملات میں وہ کب تک فوج کی مدح سرائی کریں گے اس پر نظرر کھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کو روگ آرمی قرار دینے ’ فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے اور اس کے کردار پر انگلیاں اٹھانے والے کیا اب راہ راست پر آگئے اب کب تک اس رائے پر قائم رہیں گے ’ یہ دیکھنا ہوگا۔"

سوموار، 11 نومبر، 2013

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

2 تبصرے
یہ اڑھائی سالہ نور فاطمہ ہے جو  دس نومبر کی  صبح اپنے والد کے ہمراہ موٹر سائیکل پر ناشتہ لینے نکلی اور قاتل ڈور نے ایک  جھٹکا سے اس کی زندگی کی ڈور کاٹ دی۔ ذرا تصور کیجئے وہ کتنا کرب ناک لمحہ ہو گا جب اس کا والد اس کی تن سے جدا گردن والی لاش اٹھائے  سڑک پر کھڑا ہو گا۔ سنا ہے پرانے وقتوں میں بادشاہ اپنی تفریح کے لئے زندہ انسانوں کو  ایک بڑے میدان میں بھوکے شیروں کے سامنے ڈال دیا کرتے تھے اور شیروں کی انسانی جسموں کی چھیڑ پاڑھ اور انسانی آہ و بکاہ سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے ۔ اب یہی ڈرامہ عصر حاضر کےحکمران کر رہے ہیں، سمجھ نہیں آتا یہ کونسی تفریح  ہے جس نے لوگوں کو گلے کاٹنے کی آزادی تک فراہم کر دی  ہے۔ کسی کی جان چلی جاتی ہے اور آپ اسے تفریح قرار دیتے ہیں۔پتنگ بازی کے باعث معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کے باعث سپریم کورٹ کے احکامات پر حکومتیں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر چکی ہیں۔ یہ پابندی گذشتہ حکومتوں کے ادوار سے چلی آ رہی ہے ۔ ’’بسنت‘‘  کو فیسٹیول کی شکل دی جا چکی ہے ۔ ثقافت کے نام پر سارا دن انڈین گانوں کے بلند آواز میں چھتوں لاؤڈ سپیکر لگا کر لوگوں کے گلے کاٹے جا رہے ہیں اور نام نہاد دانشور اسے قومی ورثہ قرار دے رہے ہیں۔  ہر سال درجنوں جانیں  اس تفریح کی نذر ہو جاتی ہیں  مگر پھر بھی معصوم شہریوں کیساتھ ہونیوالے اندوہناک حادثات کے باوجود مکمل طور پر ختم کیا جا  رہا۔  صوبائی انتظامیہ اور پولیس کی غفلت کے باعث پتنگ بازی کا خونخوار مشغلہ لاہور سمیت پنجاب کے تمام  شہروں میں بڑی تیزی سے بڑھتا پھلتا اور پھولتا جا رہا ہے۔ آئے دن اب پھر شہریوں کی ہلاکتوں کے دل ہلا دینے والے کربناک واقعات ایک تسلسل سے سُننے کو مل رہے ہیں لیکن انتظامیہ کی عدم توجہی اور پولیس کی فرائض سے تسلسل کیساتھ غفلت نے اب پتنگ بازی کے باعث ہلاکتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ لیکن حکومت خاموش تماشائی بنے بیٹھی ہے۔ خدا کیلئے اس رسم بد  سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے موثر قانون سازی کی جائے اوراس پر سختی سے عمل درآمد بھی کرایا جائے اور خلاف ورزی کرنیوالے کیخلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ  اس قاتل ڈور سے کسی اور معصوم نور فاطمہ کی گردن کٹنے سے بچ سکے۔

سوموار، 4 نومبر، 2013

مٹ جائے گی مخلوق تو کیا انصاف کرو گے

15 تبصرے
یہ معصوم سی بچی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد  میں بی ایس سی پلانٹ بریڈنگ اینڈ جنیڈر نگ انجینئر نگ میں تیسرے سال اور پانچویں سمسٹر کی طالبہ اور وزیر اعلی پنجاب کی سکیم کے تحت لیپ ٹاپ ہولڈر مریم سجاد ہے جوالائیڈ ہسپتال  فیصل آباد کے ایک سنیئر ڈاکٹر کے غلط آپریشن کی وجہ سے زندگی بھر کے لئے معذور ہو کرایک سال سے بستر پر پڑی انصاف کی منتظر ہے ، جڑانوالہ روڈ پر ڈھڈی والا کے قریب بخاری ٹان خواجہ سٹریٹ کے رہائشی انجینئر سجاد انور کی  بیٹی مریم سجاد جسے کلاس میں لائق اور یونیورسٹی کی ہونہار طالبہ اور سمسٹر میں92%نمبر ز حاصل کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے تحفے کے طور پر لیپ ٹاپ اور سکالر شپ سے بھی نواز ا تھا ، مریم سجاد کو گزشتہ سال کے آخر میں دائیں بازو میں درد محسوس ہوا تو ان کے والد اور والدہ 11دسمبر2012ءکو میڈیکل چیک اپ کےلئے الائیڈ ہسپتال لے گئے ، جہاں پرچی بنوانے کے دوران کی ٹرینی ڈاکٹر محمد طیب انہیں بہتر چیک اپ کے لئے اپنے ساتھ ہیڈ آف آرتھو پیڈک ڈاکٹر رسول احمد چوہدری کے پاس لے گیا جہاں ڈاکٹر رسول احمد چوہدری نے مریم کی والدہ کو ڈراتے ہوئے بتایا کہ اگر فوری طور پر آپریشن نہ کیا گیا تو اس کے ہاتھ کام کرنا چھوڑ جائیں گے اور شریانوں میں خون کی گردش رک جائے گی ، چنانچہ فوری طور پر مجھے سے آپریشن کروائےں ، یہ کہتے ہوئے موصوف ڈاکٹر نے داخلے کی پرچی اور چارٹ تک بنا دیا لیکن مریم اوران کے والدین مطمئن نہ ہوئے اور مریم کے والد انجینئر سجاد انور نے اپنے بھائی ڈاکٹر شہزاد انور سے مشورہ کرتے ہوئے باہر کسی سپشلسٹ کو دکھا نے کا کہا ، لیکن ڈاکٹر رسول چوہدری نے اصرار کیا کہ میں عرصہ30سال سے آپریشن کر رہا ہو میں سب جانتا ہوں بس آپ یہ آپریشن کروالیں ورنہ مرض بڑھ جائے گا ، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ڈاکٹر رسول چوہدری بنیادی طور پر آرتھو پیڈک سرجن ہیں اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بھی ہیں ان کا تجربہ آرتھو پیڈک سرجری میں ہی ہے ، انہوں نے کبھی مہرے یا پنڈلی کا آپریشن کیا ہی نہیں تھا ، ڈاکٹر رسول چوہدری نے تجربہ حاصل کرنے کے لئے ایک معصوم طالبہ کو بھینٹ چڑھا نے کا عہد کر لیا اور نا تجربہ کار ہونے کے باوجود 17دسمبر 2012ءکو الائیڈ ہسپتال کے پرائیویٹ وارڈ میں مریم سجاد کا آپریشن کر دیا ، آپریشن کی بنیادی معلومات نہ ہونے کے باعث ڈاکٹر رسول چوہدری نے مریم کی اضافی بڑھی ہوئی پسلی کا آپریشن کرنے کی بجائے ریڈ ھ کی ہڈی کا آپریشن کر ڈالا اور مہروں کو اضافی پسلی سمجھتے ہوئے اندھوں کی طرح کاٹنا شروع کر دیا اور آپریشن مکمل کر تے ہوئے وارڈ میں شفٹ کر دیا ۔ اگلے روز صبح مریم سجاد کو ہوش آیا تو پتا لگا کہ مریضہ کا ہاتھ اور اوپر والا دھڑ حرکت میں ہے جبکہ پیٹ سے پاں تک نیچے کا تمام دھڑ رک گیا ہے ، جس کا مریضہ کو علم ہی نہیں ہے کہ وہ حصہ اس کے جسم کے ساتھ بھی ہے کہ نہیں ، اس بات کا علم ہسپتال انتظامیہ کو ہونے پر ہسپتال میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تو مریضہ کے والد نے اس کی MRIرپورٹ کروائی جس میں انکشاف ہوا کہ موصوف ڈاکٹر غلام رسول چوہدری نے مریم سجاد کے دونوں مہروں کو اضافی پسلی سمجھتے ہوئے ایک مہرے کا 1/3اور دوسرے مہرے کا 2/3حصہ کاٹ کر نکال دیا ہے ریڑھ کی ہڈی میں بھی کٹ لگا دیئے جس کی وجہ سے ہونہار طالبہ مریم سجاد زندگی بھر کے لئے اپاہیج ہو گئی اور ہسپتال انتظامیہ نے معاملے کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں ” گھر کی “ ہسپتال لاہور میں علاج کروانے کا کہہ کر اپنی جان چھڑوا لی ، لڑکی کے لواحقین بیٹی کی زندگی میں پھر خوشیاں دیکھنے کی آس لئے ” گھر کی “ ہسپتال لاہور لے گئے جہاں 17دن زیر علاج رہی دوران علاج سانس اکھڑ جانے کی وجہ سے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ ICUمیں رکھا گیا اور آپریشن بھی کیا گیا جس کے بعد وہ اپنے گھر فیصل آباد منتقل ہو گئی ، دوسری طرف مریم کے والد انجینئر سجاد نے 26دسمبر کو ڈاکٹر رسول احمد چوہدری کے خلاف وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو درخواست دے دی اور پرنسل پنجاب میڈیکل کالج والائیڈ ہسپتال ڈاکٹر زاہد یٰسین ہاشمی کو درخواست دے دی ، وزیر اعلیٰ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے انکوائری بورڈ تشکیل دے دیا جس نے وزیر اعلیٰ کو 31دسمبر 2012ءکو رپورٹ ارسال کی جس میں ملزم ڈاکٹر رسول چوہدری نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے قبول کیا کہ اس سے غلطی سر زد ہوئی ، اس غلطی کی وجہ آپریشن کے لئے ناکافی سہولیات تھیں ، وزیر اعلیٰ پنجاب نے معاملہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے سپرد کر کے غیر جانب دار انکوائری کاحکم دیا تو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے 7فروری 2013ءکو ڈاکٹر رسول چوہدری اور مریضہ مریم کے والد سجاد انور کو لاہور طلب کر کے بیانات سنتے اور انکوائری رپورٹ مکمل کرنے کے لئے 3ماہ کا وقت دے دیا ، انصاف کی امید لے کر لاہور جانے والا مریضہ کا والد انجینئر سجاد انور 3ماہ کا وقت لے کر واپس آگیا لیکن پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن انتظامیہ کے ساتھ با اثر ملزم ڈاکٹر رسول چوہدری نے ساز باز کر کے معاملے کو دبانے کا پروگرام بنا یا اور 12دسمبر 2013ءکو اپنی ہونے والی ریٹائر منٹ تک معاملے کو لٹکا نے لگی منصوبہ بندی کر لی اسی بناءپر آج اس نام نہاد کیئر کمیشن کی کمیٹی کو تین ماہ کا ٹائم لیے بھی دس ماہ گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک ڈاکٹر رسول کے خلاف انکوائری رپورٹ مرتب نہ ہو سکی ہے اور اس کے ریٹائرڈ ہونے میں بھی صرف ایک ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے جبکہ دوسری طرف ایک سال سے بستر پر پڑی ہوئی مریم سجاد جس کا تمام تعلیمی کیئر یئر تباہ ہوگیا ہے اس کی فزیو تھراپی سمیت دیگر اخراجات پر 1ہزار روپے روزانہ کے اخراجات آرہے ہیں اور اب تک تقریباً 15لاکھ سے زائد کا خرچہ اس پر آگیا ہے ، لیکن پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے تمام تر وعدوں کے باوجود آج تک متاثرہ گھر انے کو ایک روپیہ تک امداد نہ دی گئی ہے ، ڈاکٹر رسول احمد چوہدری کی حیوانیت کی بھینٹ چڑھنے والی متاثرہ بی ایس سی انجینئر نگ کی طالبہ مریم سجاد نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری ، وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم ڈاکٹر رسول چوہدری کے ساتھ ملی بھگت کرنے والے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے افسران کا کڑا احتساب کرتے ہوئے فوری طور پر واقع کی انکوائری رپورٹ بنوائی جائے ،غلط آپریشن کرنے والے ملزم ڈاکٹر رسول احمد چوہدری کو ریٹائرڈ ہونے سے پہلے اس کا ڈاکٹر یٹ کا لائسنس تا حیات منسوخ کر کے کڑی سے کڑی قرار واقعی سزا دیتے ہوئے پابند سلاسل کیا جائے تا کہ کوئی اور مریضہ اس کی بھینٹ چڑھ کر مریم سجاد بننے سے بچ سکے ، مریم سجاد نے خادم اعلی پنجاب  سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس کا تعلیمی کیئر یئر تباہ و برباد ہو گیا ہے زرعی یونیورسٹی انتظامیہ کے ذریعے اس کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر وایا جائے اور اس کے اب تک کے علاج پر آنے والے تمام اخراجات اور آئندہ کے علاج کا تمام خرچ ادا کرتے ہوئے تعلیمی اخراجات بھی اٹھائیں ۔
.