جمعہ، 24 مئی، 2013

خوش آمدید ، وزیر اعظم چائنا لی کی چیانگ

0 تبصرے

   پاکستانی عوام چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ کے دورہ ٔپاکستان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ چین پاکستان کا مخلص دوست ہے جس نے ہمیشہ  پاکستان سے تعلقات کو اہمیت دی ہے ۔چین اور پاکستان نہ صرف اچھے ہمسائے بلکہ ایک دوسرے کے حقیقی خیر خواہ اور سٹریٹجک پارٹنر ہیں ۔ پاکستان کی صنعتی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے چین بیسیوں پراجیکٹس میں پاکستان کی مدد کررہا ہے۔شاہراہ ریشم ،گوادر پورٹ،جے ایف ٹھنڈر اور سینڈک پراجیکٹ سمیت درجنوں بڑے بڑے منصوبے پاکستان کی ترقی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں جو پاک چین دوستی کی  شاندار مثال ہیں۔چین کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش خطے میں امن کے قیام کیلئے چین کی مخلصانہ کوششوں کا اظہار ہے ۔ امریکہ اور نیٹو افواج کی خطے میں موجودگی ،بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے اور چین کے کردار کو محدود کرنے کی کوششیں خطے کے امن کو برباد کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے جو کسی طرح بھی پاکستان اور خود بھارت کے مفاد میں نہیں، لیکن امریکہ چاہتا ہے کہ عالمی تجارت پر اس کا کنٹرول رہے اور پاکستان اور بھارت کی تجارتی منڈیوں پر چین کی اجارہ داری قائم نہ ہونے دی جائے۔پاکستان کے لوگ جانتے ہیںکہ امریکہ اور بھارت نے گوادر پورٹ چین کے ہاتھ لگنے سے روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ، دونوں ملک پاکستان پر عالمی دبائو بڑھانے، کوئٹہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے ،بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکوں کی سرپرستی کرکے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے اورچینی انجینئروں کو اغواء اور قتل کرنے جیسے واقعات میں ملوث رہے ہیں تاکہ کسی بھی صورت پاکستان اور چین کے درمیان نفرتیں پیدا کرکے ان کی دوستی میں رخنہ ڈالا جائے لیکن وہ اپنی ان مکروہ سازشوں میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔چین سے مضبوط دوستی کی بنیادوں پر استوارخارجہ پالیسی خطے میں امریکہ کے عمل دخل کو ختم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ چین نے پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی سمیت جن بڑے ترقیاتی منصوبوں میں تعاون کرنے کی پیشکش کی ہے انہیں فوراً قبول کر کے ان منصوبوں پر عملدرآمد شروع کیا جائے۔  توقع ہے کہ پاکستان کی نو منتخب حکومت چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور امریکی غلامی سے نکلنے کی پوری کوشش کر ے گی


جمعرات، 23 مئی، 2013

کالا باغ ڈیم , توانائی کے بحران کا مستقل حل ؟

2 تبصرے


جب توانائی کے بحران کے مستقل حل کا سوچا جائے تو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سوا کوئی دوسرا مستقل حل قابل عمل اور کارآمد نظر نہیں آتا اس لئے جب ہمارے پاس اس بحران سے عہدہ برا ہونے کا مستقل اور پائیدار ایک ہی حل موجود ہے تو حکمران طبقہ اپنے اپنے مفادات کی بنیاد پر قومی ترقی و بقا کے اس منصوبے کو سیاست کی نذر کرنے پر کیوں تلا بیٹھا ہے اور کیوں اس منصوبے پر قومی اتفاق رائے نہیں کیا جاتا۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر صرف توانائی کے ذرائع میں اضافہ کرنے کے لئے ہی ضروری نہیں بلکہ پاکستان کو خوراک و زرعی پیداوار میں خود کفالت کی منزل تک پہنچانے کے لئے بھی انتہائی ضروری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کالا باغ ڈیم کی عدم تعمیر کے باعث 26.1ملین ایکڑ فٹ بارش کا پانی ہر سال سمندر میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر ہو جائے تو پھر بھی صرف 6.1ملین ایکڑ فٹ پانی ہی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔ اس ڈیم کی تعمیر سے صوبہ سندھ کی8 لاکھ ایکڑ، سرحد کی 4 لاکھ 40 ہزار ایکڑ، بلوچستان کی5 لاکھ10 ہزار ایکڑ اور صوبہ پنجاب کی6 لاکھ80 ہزار ایکڑ اضافی زمین زیر کاشت آئیگی۔ اس میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ جاتا کہ کالا باغ ڈیم جیسے فقید المثال منصوبہ سے ملک میں زرعی انقلاب آجائیگا۔ زرعی مفادات کے علاوہ اس منصوبے سے 3600میگاواٹ سستی اضافی بجلی حاصل ہوگی۔ ایک اہم بات کا تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ تربیلا ڈیم سے اگر ایک لاکھ بیس ہزار کیوسک پانی چھوڑا جائے تو مکمل صلاحیت کے مطابق یہ ڈیم 3700میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے جبکہ اس سے صرف 1500میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس بات کا ہمیشہ خدشہ موجود رہا ہے کہیں اس سے چھوڑا جانے والا اضافی پانی سمندر میں بہہ کر ضائع نہ ہو جائے۔ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر کیا جائے تو تربیلا ڈیم اور کالا باغ ڈیم کے مشترکہ عمل سے 5800میگاواٹ سستی اضافی بجلی حاصل ہوگی جو ملک میں صنعتی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔یہ حقیقت ہے کہ توانائی کے بحران پر صرف کالا باغ ڈیم تعمیر کرکے ہی قابو پایاجاسکتا ہے۔اس حقیقت کا ہمارے شاطر دشمن بھارت کو بھی بخوبی احساس و ادراک ہے اس لئے وہ بھی کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو سبوتاژکرانے کیلئے اپنے وسائل اور سازشی ذہن بروئے کار لا رہا ہے جس نے بالخصوص سندھ میں اپنی سازشوں کا جال بچھا رکھا ہے۔ اس ڈیم کے خلاف زہریلے پراپیگنڈے کیلئے مبینہ طور پر سندھی قوم پرستوں کی مخصوص لابی کو بھارتی ایجنسی را کی جانب سے مالی طور پر نوازا رہا ہے چنانچہ اس لابی کی جانب سے تواتر کے ساتھ یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی صورت میں سندھ کے حصے کا پانی کم ہو جائے گا۔ اس کے برعکس سرحد میں ہندتا کے فلسفہ کے پرچارک سرحدی گاندھی کے پیروکاروں کی جانب سے اسی بھارتی ایجنڈہ کی بنیاد پر کالا باغ ڈیم کی مخالفت کیلئے اس دلیل کا سہارا لیا گیا کہ اس سے نوشہرہ اور سرحد کے کئی دوسرے شہر ڈوب جائیں گے۔پختون یا پٹھان، آبی ماہرین اور انجینئرز ان دونوں زہریلے پراپیگنڈوں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔ نااہل حکمرانوں کو شائید اس بات کا مکمل طور پر ادراک نہیں کہ توانائی کا بحران کسی بڑے طوفان پر منتج ہو سکتا ہے۔اس وقت کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اصولی طور پر تو قومی تعمیر و ترقی کے ضامن اس منصوبے پر شروع دن سے ہی اتفاق رائے قائم ہو جانا چاہئے تھا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں ہمیں کالاباغ ڈیم سمیت ہر چھوٹے بڑے ڈیم کو تعمیر کرلینا چاہئے تھا مگر ہماری حکومتیں اور سیاست دان ایک دوسرے پر محض سیاسی پوائنٹ سکور کرنے اور اپنے اپنے مفادات کے تحت کالاباغ ڈیم کے حق اور مخالفت میں آوازیں بلند کرنے میں ہی مصروف رہے کسی نے یہ نہ سوچا کہ کالاباغ ڈیم تعمیر نہیں ہو پائے گا تو ہم وقت کے تقاضوں کے مطابق بڑھتی ہوئی بجلی کی ضرورت کیسے پوری کرینگے؟ اگر قومی تعمیر و ترقی کا جذبہ سیاست دانوں کے پیش نظر ہوتا تو نہ سرحد سے اس ڈیم کو بم مار کر اڑا دینے کے زہریلے نعرے لگتے اور نہ ہی سندھی قوم پرستوں کو اس ڈیم کی مخالفت میں اپنی سیاست چمکانے کا موقع ملتا اور اب تک یہ ڈیم تعمیر ہو کر ملک میں توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوئے قومی معیشت کی ترقی و استحکام کی بنیاد رکھ چکا ہوتا۔مگر بدقسمتی سے جن فوجی اور سول حکمرانوں کو اپنے اپنے دور حکومت میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے قومی اتفاق رائے کی فضا قائم کرنے کا موقع ملا انہوں نے بھی اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا اور اس ڈیم کو سیاست کی نذر ہونے دیا۔
.