منگل، 16 دسمبر، 2014

کس کی نظر لگ گئی اس آشیانے کو !

5 تبصرے
آج 16دسمبر ہے ، پاکستان کی تاریخ کاسیاہ ترین دن،آج سے 43سال قبل ہمارے اپنوں ہی سازشوں کے نتیجہ میں ہمارے وطن کو دو حصوں تقسیم ہونا پڑا، دوپہر اس سانحہ پر لکھنے کے لئے ابھی قلم اٹھایا ہی تھا کہ دوست کی کال آئی ،فوری ٹی وی آن کریں ،سقوط ڈھاکہ کے غم میں ڈوبے ہوئے دل کو ایک عجیب سانحہ کی خبر کا سامنا تھا ، پشاور کے سکول میں دہشت گردی کی کارروائی ، 14بچوں اور ایک ٹیچر کی شہادت کی خبر نے دل رنجیدہ کر دیا ،دیکھتے دیکھتے شہادتوں کی تعداد 123تک جا پہنچی ہے ۔ابھی تک ریسکیو آپریشن جاری ہے،سینکڑوں بچے زخمی ہیں ،ٹی وی پر سیاست دانوں کے روائتی بیانات زور شور سے جاری ہیں ،معصوم کلیاں اپنے دیس پر قربان ہو گئی ہیں ،ننھے فرشتے اس جنگ میں لقمہ اجل بن گئے ہیں جو ان کی اپنی بھی نہیں ،سمجھ نہیں آتی کہ بات کہاں سے شروع کی جائے اور کس پر ختم کی جائے ، کون ذمہ دار ہے ان معصوموں کے خون کا ، کتنے بچوں نے آج ضد کی ہوگی چھٹی کرنے کی مگر ماں نے اس لئے اجازت نہیں دی ہوگی کہ بیٹا تعلیم کا ہرج نہیں ہونے دینا ،پڑھو گے نہیں تو بڑے آدمی کیسے بنوگے،کیا کیا نہیں ارمان ہوں گے ان ماؤں گے جن کے پھول آج ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان سے بچھڑ گئے ۔ہر دفعہ جب کوئی ایسا سانحہ ہوتا ہے تو حکومتی وزراء کہتے ہیں دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے اور یہی بیانات سنتے ساری عمر بیت گئی ،کتنے دہشت گرد گرفتار ہوئے ، کتنے بڑے بڑے گینگ پکڑنے کے حکومتی دعوے روز سامنے آتے ہیں مگر میں نے تو آج تک کسی دہشت گرد کو سر عام پھانسی لگتے نہیں دیکھا،کسی ایک کو لٹکا دیا جائے تو پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ سلسلہ رک جائے گا مگر کیا کریں جس ملک کے حکمران ،سیاست دان ،اعلیٰ بیورو کریسی ،ادارے سب ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہوں ،جہاں روز اپنوں کے ہاتھوں اپنے قتل ہوتے ہوں ،جہاں اتحاد اتفاق نام کی کوئی چیز ہی سرے سے موجود نہ ہو ، جہاں دوسرے کی رائے کا احترام کرنے کی بجائے اسے فوری قابل گردن زنی سمجھ لیاجائے ،وہاں دشمن کے لئے کیسے ہم تر نوالہ ثابت نہیں ہوں گے،دشمن ہمارے دروازوں پر دستک دے رہا ہے اور اس نے ہمیں فرقہ ورانہ سیاست میں الجھا کر ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے مگر ہم دشمن کی چال کو سمجھنے کی بجائے اسی کے آلہ کار بننے کو تیار بیٹھے ہیں وہاں تو پھر ایسے سانحات جنم لیتے ہی رہیں گے ۔قومیں ہمیشہ ایسے سانحات سے سبق سیکھتی ہیں ،بعض اوقات ایسے سانحات قوم کے جذبوں کو زندہ کرنے میں اپنا کر دار ادا کرتے ہیں ،ایسی آزمائشوں سے گزر کرقومیں ایک نئے ولولے ،نئی امنگ سے اپنے سفر کا آغاز کرتی ہیں ۔اب دیکھنا ہے کہ ہمارے حکمران اور سیاست دان اس سانحہ سے کوئی سبق سیکھتے ہیں یا ایک دن کا سوگ منا کردوبارہ اسی ڈگر پر چل پڑتے ہیں ۔اگر ایسا ہوا تو سن لو میرے وطن کے حکمرانوں اور سیاست دانوں ! ایک دن ایسا آئے گا کہ لوگ تمہاری گردنوں میں پھندے ڈالے تمہیں سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور تمہاری مدد کو وہ بھی نہیں آئیں گے تم دن رات جن کی چاپلوسی میں اپنی ہی قوم کو فراموش کر بیٹھے ہو۔روزقیامت یہ معصوم بچے تمہارا گریبان پکڑ کے پوچھیں گے آخر کس جرم میں تم نے ہمیں اس آگ میں جھونکا تھا ۔ میرے بچو! مجھے یقین ہے تم تواللہ پاک کی جنتوں میں پہنچ گئے ہوں گے مگر اللہ میاں سے عرض کرنا تمہارے غمزدہ والدین کو بھی صبر جمیل عطا فرمائے۔
میرے معصوم پھول سے بچوں کو
نجانے کس کی نظر لگ گئی ہے
گھر سے جاتے ہوئے کہا بھی کہ
انکے رخسار کے دائیں طرف
ایک کالا ٹیکہ لگا دیا کرو
سنتے آئے ہیں کہ ا س طرح
نظر بد دور ہی رہتی ہے
تم نے دیکھا تھا کہ انکے چہرے
کتنے شاداب اور شگفتہ تھے
انکے لہجوں کی معصوم آوازیں
کس قدر دل کو خوش کرتی ہیں
انکے بے داغ ، اجلے یونی فارم
انکے جسموں پے کیسے سجتے تھے
انکی آنکھوں میں کھیلتی ہنسی
کس قدر شریر ہوتی تھی
کہا تھا تم سے کہ نا اتنے غور سے دیکھو
کبھی کبھی محبت سے دیکھنے پر بھی
نظر بد لگ جای جاتی ہے
کہا تھا تم سے کہ جب یہ گھر سے نکلیں
آیت الکرسی ور درود شریف
پڑھکر کر ان پر دم کردیا کرو
کہا تھا نا کہ کچھ شیطان
یوں ہی فضاووں میں گھومتے رہتے ہیں .
وہ خوبصورتی کے دشمن ہیں
الہو کی پیاس انکو بے چین رکھتی ہے
کہا تھا میں نے کہ دیکھو احتیاط کرنا
انکو نظر بد بچانے کے لئے
انکے رخسار کی دائیں طرف
ایک کالا ٹیکہ لگادیا کرو
تم سے آج بھول ہوگئی شائد
سفید رنگت او ر نیلی آنکھیں
آج سب ہی گل رنگ ہوگیں ہیں
آج شائد بہار کا دن ہے
آج سارے پھولوں کا رنگ سرخ ہے

سوموار، 8 دسمبر، 2014

8 دسمبر ، فیصل آباد کی تاریخ کا سیاہ ترین دن

4 تبصرے
تحریک انصاف کے پلان سی کے پہلا مرحلہ آج فیصل آباد سے شروع ہوا، فیصل آباد ہمیشہ سے پر امن شہر رہا ہے ،بڑی بڑی سیاسی تحریکوں نے اس شہر سے جنم لیا مگر زیادہ معاملات پر امن ہی رہے ، آج صبح گھر سے نکلتے ہی عجیب منظر دیکھنے میں آیا، چھوٹی عمر کے نوجوان ہاتھوں میں ڈنڈے لئے ٹائروں کو آگ لگا کر راستے بند کر رہے تھے، واپس آکر فیس بک پر اسٹیسس اپ ڈیٹ کیا تو احباب کے میسجز آنے شروع ہوگئے کہ بھائی گھبرائیں ناں ، کچھ نہیں ہوتا مگر پتہ نہیں کیوں چھٹی حس کسی آنے والے خطرہ سے کیوں ڈرا رہی تھی ،پہلا اپ ڈیٹ صبح دس بجے کے بعد کیا تھا ،ذرا اس کا مطالعہ کیجیئے
"پاکستان کا سب سے پر امن شہر فیصل آباد جلتے ٹائروں کے دھوائیں اور " گو نواز گو" اور" رو عمران رو " کے نعروں کی زد میں ہے

، ابھی صبح کا آغاز ہے ،ہر سڑک پر جوشیلے نوجوان ڈنڈے ہاتھوں میں تھامے لوگوں کو آگے جانے سے روک رہے ہیں ،حالات کی کشیدگی کسی بڑے ظوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے ، پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنوں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ہے ،خانہ جنگی کی سی فضا قائم کی جارہی ہے ،احتجاج ہرسیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے مگر اس کشیدگی کے نتیجہ میں اگر ماڈل ٹاؤن لاہور، قاسم باغ ملتان جیسا کوئی سانحہ رونما ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا"

ایک گھنٹہ بعددوسرا اپ ڈیٹ یہ تھاجس بات کا خطرہ تھا وہی ہوا 

"ایک ماں اپنے جگر گوشے سے محروم ہو گئی ہے
یا اللہ اس شہر پر امن کو اپنے حفظ و امان میں رکھ"

تھوڑی دیر بعد یہ اپ ڈیٹ کیا کہ

"ابھی گھنٹہ گھر چوک سے ہو کے آیا ہوں ، الیکٹرانک میڈیا کی گاڑیوں کے ارد گرد سو سے بھی کم افراد موجود ہیں ، اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں دو طرفہ نعرہ بازی کے ذریعے گرما گرم ماحول پیدا کیا گیا ہے ، دوسری طرف سمن ناولٹی پل پر ایک نوجوان اپنی زندگی کی بازی ہار گیا ہے ، صبح جس خدشہ کا اظہار کیا تھا , وہ درست ہوتا جا رہا ہے ، اللہ پاک میرے پر امن شہر کو نظر بد سے بچا

آمین "

دکھی دل کے ساتھ دوپہر کو یہ ٹویٹ کیئے

"وہی ہوا جس کا ڈر تھا ، ن لیگ اور تحریک انصاف کے کارکن گتھم گھتا ، ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال ، کون ذمہ دار ہے اس خانہ جنگی کا ؟"

"بد امنی اور خانہ جنگی سے بچا جا سکتا ھے ، ن لیگ اپنے کارکنوں کو واپس بلائے ، پی ٹی آئی کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا جائے

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں
میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں

#FaisalabadLockDown

اور لاسٹ اپ ڈیٹ کے نام سے یہ آخری اپ ڈیٹ لکھا ابھی ایک گھنٹہ قبل

"لاسٹ اپ ڈیٹ

#Faisalabad
ابھی چوک گھنٹہ گھر سے ہوتے ہوئے ناولٹی چوک کے قریب رانا ثناء اللہ کے ڈیرے کے باہر خان صاحب کے خطاب کے بعد گھر واپسی ہوئی ہے ، شہر پرسکون ہوچکا ہے ، چوک گھنٹہ گھر میں کھانے پینے کی دکانیں حسب معمول سجی ہوئی ہیں ، تین سو سے زائد افراد کے خلاف مقتول حق نواز کے قتل کی ایف آئی درج ہو گئی ہے ، خاں صاحب ہسپتال سے ہوئے ہوئے مقتول کے گھر بھی جائیں گے ، سب کچھ معمول پر آجائے گا مگر ماں کو اس کا بیٹا واپس نہیں ملے گا ، اگر کوئی مجھ سے تین لفظوں میں آج کے سانحہ کو سبب پوچھے تو میرے خیال میں یہ سب فیصل آباد کی نام نہاد تاجر قیادت کی مقامی ن لیگی قیادت کو ھلاشیری کا نتیجہ ہے ،احتجاج پی ٹی آئی کا حق تھا مگر ن لیگی کارکنوں کو درمیاں میں لا کر عمران خان کے ناکام شو کو کامیاب کروانے کے ساتھ ساتھ ایک انسانی جان کی بھی قربانی دے دی گئی"

میں نے تو یہی نتیجہ اخذ کیا ہے آج کے سانحہ کا

"اگر کوئی مجھ سے تین لفظوں میں آج کے سانحہ کو سبب پوچھے تو میرے خیال میں یہ سب فیصل آباد کی نام نہاد تاجر قیادت کی مقامی ن لیگی قیادت کو ھلاشیری کا نتیجہ ہے،احتجاج پی ٹی آئی کا حق تھا مگر ن لیگی کارکنوں کو درمیان میں لا کر عمران خان کے ناکام شو کو کامیاب کروانے کے ساتھ ساتھ ایک انسانی جان کی بھی قربانی دے دی گئی"
اللہ پاک میرے ملک کی حفاظت فرمائے(آمین)


منگل، 25 نومبر، 2014

اردو بلاگر ،مینار پاکستان پر جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں

10 تبصرے
جماعت اسلامی  کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں آرمی کے بعد یہ سب سے زیادہ منظم تنظیم ہے۔جماعت اسلامی نے مینار پاکستان پر اجتماع عام کا اعلان کیا تو جماعت اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم کے مرکزی ناظم شمس الدین نے اردو بلاگرز کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے مجھے مینار پاکستان پر ہونے والے کل پاکستان اجتماع عام کے سوشل میڈیا کیمپ میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے دیگر اردو بلاگرز کو بھی شرکت کا پیغام پہنچانے کا کہا۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ ہر ایک سے فوری رابطہ نہ ہو سکا۔ پاک اردو انسٹالر کے خالق محمد بلال محمود، جو سوشل میڈیا پر ایم بلال ایم کے نام سے ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں اور اردو کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں، میں نے ان سے بات کی اور کہا کہ اپنے ساتھیوں سمیت اجتماع کے سوشل میڈیا کیمپ کا دورہ کریں۔ کچھ بلاگرز کراچی سے پہلے ہی لاہور آئے ہوئے تھے جن میں کاشف نصیر، وقار اعظم،اسد خان،رضی اللہ اور دیگر کئی ایک شامل تھے۔ ایم بلال ایم نے ہنگامی طور پر چند احباب سے رابطہ کیا اور لاہور سے عاطف بٹ اور محمد عبداللہ سمیت کئی بلاگرز پاک ٹی ہاؤس میں اکٹھے ہوئے۔ اس کے علاوہ کئی احباب پہلے سے اجتماع میں موجود تھے۔ جن میں فتح جنگ سے ڈاکٹر اسلم فہیم،لاہور سے عمران ظہور غازی،فیصل آباد سے غلام اصغر ساجد اور راولپنڈی سے انعام الحق اعوان شامل تھے۔ سب نے مل کر جماعت اسلامی کے سوشل میڈیا کیمپ کا دورہ کیا۔ محترم شمس الدین نے اردو بلاگرز کا بڑا ہی پرتپاک استقبال کیا۔ اپنی سوشل میڈیا ٹیم اور ان کے کام کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ سب بلاگرز کے لئے بڑا ہی منفرد تجربہ تھا کیوں کہ جماعت اسلامی کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر ہے کہ یہ ایک روائتی مذہبی جماعت ہے جو شائد اس قسم کے جھمیلوں سے دور ہی رہتی ہو، کیمپ کا منطر واقعی حیران کن تھا،پانچ سو زائد افراداپنے اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف کار تھے ، بڑے منظم انداز میں بیٹھے تمام افراد فیس بک ،ٹویٹر اور دیگر سوشل سائٹ پر اجتماع میں ہونے پروگرامات کی اپ لوڈنگ کر رہے تھے۔ ہماری موجودگی کی اطلاع پر جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم بھی کیمپ میں آگئے اور ہمیں خوش آمدید کہا اور اجتماعات کی تفصیلات،پروگرامات اور انتظامات سے
آگاہ کیا ،شمس الدین نے بڑی پر تکلف تواضع کی۔ یہاں سے اردو بلاگرز تو لاہور میں موجود معروف اردو بلاگر نجیب عالم کی طرف سے ان کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ میں شرکت کے لئے چلے گئے لیکن میں اور میرے ایک دوست نے فیصلہ کیا کہ اجتماع کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور عام افراد سے مل کر ان کی رائے لی جائے ۔ہم نے عجیب منظر دیکھا،مینار پاکستان کے پورے گرانڈ کو ایک منظم شہر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ایک شہر کی طرح گلیاں ،بازار ، دکانیں ،رہائش گاہیں موجود تھیں ، ہر کیمپ پر شناخت کے لئے متعلقہ ڈویژن اورضلع کا نام تحریر تھا ،عارضی طور پر بنے ہوئے سینکڑوں کی تعداد میں بیت الخلا اور وضو گاہیں جماعت اسلامی کے منظم کارکنوں کی تربیت کی گواہی دے رہی تھیں۔ایک ستر سالہ بزرگ بیت الخلا کی طرف جاتے ،وہاں سے خالی لوٹا اٹھاتے اور نیا بھرا ہویا لوٹا اس کے باہر رکھ دیتے ہمارے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا ۔ میں نے پوچھا باباجی ! یہ جماعت اسلامی والوں نے آپ کو اس عمر میں کس کام پر لگا دیا ، خیبر پختون خواہ کے دور افتادہ گاں سے تعلق رکھنے والے اس بزرگ کے جواب نے ہمیں لاجواب کردیا،ٹوٹی پھوٹی اردومیں کہنے لگے مجھے کسی نے نہیں کہا اس کام کے لئے ، میں خود اس کام کو سرانجام دے رہاں ہوں کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہو جائے اور جنت میرے لئے آسان ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا اللہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں ،نماز کا وقت ہوتا ہے تو سارے کام چھوڑ کر نماز کے لئے دوڑ پڑتے لیکن جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ کھانے پر جماعت اسلامی کے کارکنوں کا نظم و ضبط اور بر وقت ترسیل ، مغرب اور عشاءکی درمیانی ایک گھنٹہ میں وہاں پر موجود لاکھوں افراد کو بیک وقت کھانے کی فراہمی ایک ایسا منفرد تجربہ تھا جو شائد پھر کبھی حاصل نہ ہو سکے۔ مرکزی کچن سے ایک سو سے زائد گاڑیاں ایک دم رہائشی کیمپوں پر پہنچ جاتیں اور وہاں موجود کھانے کی تقسیم کے ذمہ دار ان اس کو ایسے تقسیم کر دیتے کہ کوئی محروم نہ رہتا اور اگلے پھیرے میں وہی گاڑیاں خالی دیگیں مرکزی کچن واپس لے جاتیں اس طرح ایک گھنٹہ میں لاکھوں افراد کھانا کھا لیتے ۔سینکڑوں کارکن جو صفائی کی ڈیوٹی پر مامور تھے بڑے بڑے پلاسٹک بیگ لئے اور ہاتھوں پر پلاسٹک دستانے چڑھائے خیموں کے اس شہر میں ہمہ وقت موجود تھے ،ادھر کسی نے کاغذ کا بھی کوئی ٹکڑا گرایا ،فوراً ہی اچک لیا۔ایک صاحب نے ہمیں بتایا کہ یہ بندہ جو صفائی والا بیگ اٹھائے پھر رہا ہے ، سابق رکن اسمبلی ہے ،بس ڈیوٹی لگ گئی تو کام شروع کر دیا۔ جماعت اسلامی کے اس اجتماع میں ملک کے طول و عرض سے آئے لوگوں میں دو ماہ کے بچے سے لے کر نوے سال تک کی عمر کے بزرگ نظر آئے ، چمکتے چہروں والے جماعت اسلامی کے کارکنوں کا جذبہ دیدنی تھا میرے لئے یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو شائد میں ساری عمر نہ بھلا سکوں۔جماعت اسلامی کے ایک ذمہ دار سے میں نے پوچھا،اب جب کروڑوں روپیہ ایک حلقہ میں خرچ کر کے لوگ رکن اسمبلی منتخب ہوتے ہیں ،آپ کیسے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں تو انہوں نے فوراً کہا کہ ہمارا امیر کرائے کے مکان میں رہتا ہے ،دو دفعہ صوبے کا سنیئر وزیر رہ چکا ہے،بات پیسہ کی نہیں لوگوں کے سمجھ میں آنے کی ہے ، جماعت اسلامی کے درجنوں افرادسن ستر سے اسمبلیوں اور سینٹ میں موجود رہے ہیں،کیا کبھی جماعت اسلامی کے کسی ایک رکن پر بھی کرپشن کا داغ کسی نے دیکھا ہے،بس لوگ ایک دفعہ ہمارا ساتھ دیں ،انشاءاللہ پاکستان کی تقدیر ہی بدل دیں گے ، ہم نیا پاکستان نہیں بلکہ اسی کو اسلامی اور خوشحال پاکستان بنا نا چاہتے ہیں ،ہم اپنے لئے نہیں بلکہ اللہ کا نظام قائم کرنے کے لئے حکومت کرنا چاہتے ہیں اور دیکھنا ایک دن ہمارا یہ خواب پورا ہوگا،ویسے میری رائے ہے کہ اگر پاکستان کے لوگوں نے زرداری اور شریف خاندان جیسے لوگوں کو منتخب کیا ہے ،انہیں بھی ایک موقع ضرور دینا چاہئے ۔




سوموار، 13 اکتوبر، 2014

انقلاب ان فیصل آباد ، ہم بھی وہیں موجود تھے

15 تبصرے
میڈیا کی مہربانی سے پچھلے دو ماہ میں قادری صاحب اور عمران خان گھر گھر پہنچ چکے ہیں ،جو نہیں بھی جانتا تھا ان دھرنوں کی بے پناہ کوریج نے ان سے متعارف ہوچکا تھا ،دھرنوں سے دل بھرنے کے بعدعمران خان کے بعد محترم قادری صاحب نے بھی شہر شہر جاکر جلسوں کا پروگرام بنا لیا اور ان کی پہلی منزل فیصل آباد قرار پائی۔میں قادری صاحب اور عمران خان کا مخالف نہیں ہوں ،دونوں نے پاکستانی سیاست میں اپنی بہترین جگہ بنا لی ہے اور روائتی سیاست کی جگہ نئے نئے آئیڈیاز متعارف کروائے ہیں اور ان کی پروموشن میں ان کی متحرک ترین میڈیا ٹیموں،وسائل کا بے انتہا اور بے دریغ استعمال اور پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کا بہت ہاتھ ہے ۔ان کی میڈیا ٹیموں کی کارکردگی واقعی قابل تعریف ہے اور الیکٹرانک میڈیا جس انداز سے ان کا ساتھ دے رہا ہے وہ واقعی حیرت انگیز ہے۔ ڈی چوک اسلام آباد،لاہور ، کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں ہونے والے جلسوں کی جس انداز میں کوریج کی جارہی ہے وہ آج تک پاکستان کے حکمرانوں کو بھی نصیب نہیں ہو سکی قطع نظر اس بات کے کہ اس کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما
ہیں ۔
 یہاں میرا اصل مدعا ان حقائق کو سامنے لانا ہے جو میں نے پچھلے دو تین دنوں میں اکھٹے کئے ہیں اور آپ کو بتا نا ہے الیکٹرانک میڈیاکی بڑی بڑی کرینوں اور اب فضائی ویڈیو گرافی کوریج کی وجہ سے چند ہزار کے مجمع کو کیسے لاکھوں کا کراؤڈ بنا دیا جاتا ہے، اس مقام پر اگر ایک ہزار افراد سما سکتے ہیں تو یہ فضائی کوریج اسے ایک لاکھ تک لے جاتی ہے اور دنیا بھر میں دیکھنے والے حیرتوں کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔
یہاں میں آپ کو چند تصویر کے ذریعے دھوبی گھاٹ گراؤنڈ دکھاتا ہوں اور پارک میں لگائی جانے والی کرسیوں کتنی تعداد میں لگ سکتی ہیں اور ارد گرد کی وہ سڑکیں جن پر محترم طاہرالقادری صاحب نے تین لاکھ افراد جمع ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہاں کتنے لوگ آ سکتے ہیں اور چینلز نے کیا تعداد بتائی ہے۔ اس سے پہلے دھوبی گھاٹ کا مختصر سا تعارف یہ ہے کہ یہ پارک قیام پاکستان سے قبل سے یہاں موجود ہے اور شہر کے قلب میں واقع ہے جبکہ تاریخی گھنٹہ گھر سے محض نصف کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔بانی پاکستان محترم قائد اعظم قیام پاکستان سے قبل یہاں خطاب کر چکے ہیں،ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز یہاں سے کیا،اس گراؤنڈ کو اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کے ہر بڑے سیاسی لیڈر نے یہاں خطاب کیا، اس تصویر کودیکھیں

 یہ گوگل سے لیا گیا دھوبی گھاٹ اور اس کے گردو نواح کا میپ ہے،اس سے آپ کو دھوبی گھاٹ گراؤنڈ کی لمبائی چوڑائی کا اندازہ ہو جائے گا۔ پہلے یہ سارا ایک ہی گراؤنڈ تھا اور اس میں ہر جلسہ کے لئے سٹیج بنایا جاتا تھا جبکہ اب ضلعی انتظامیہ نے یہاں پختہ سٹیج تعمیر کروا دیا جو ایک بڑے ھال کی چھت ہے ،ھال میں نوجوانوں کے لئے جم قائم ہے،اب گراؤنڈ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ، تین حصہ جلسہ گاہ ہے جبکہ ایک حصہ میں بچوں کے لئے جھولے وغیرہ لگا دیئے گئے ہیں جب کوئی جلسہ ہوتا ہے تو ضلعی انتظامیہ حفاظتی تدابیر کے طور پر گراؤنڈ کے تین حصوں میں سے ایک حصہ جس طرف سٹیج بنا ہوا ہے کو سیکورٹی حصار کا درجہ دے کر خاردار تاروں اور آہنی پائپوں سے بند کر دیتی ہے یو ں سٹیج اور پنڈال کے درمیان تقریباً 100فٹ سے زائد جگہ خالی رہ جاتی ہے جہاں کسی صور ت بھی پنڈال سے کوئی فرد داخل نہیں ہو سکتا۔اب جو جگہ وہاں خالی رہتی ہے اس میں مردوں کے لئے کرسیاں لگائی جاتی ہیں جبکہ جو حصہ پیچھے والابچوں کا پارک ہے وہاں خواتین کے کرسیاں لگائی جاتی ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے نواز شریف،عمران خان ، سنی اتحاد کونسل اورسراج الحق کے جلسوں کے لئے یہی حکمت عملی اپنائی گئی۔ایک ماہر تعمیرات نے اس حصہ کی جگہ کو باقاعدہ ناپنے کے بعد دو طرح سے کرسیاں لگا کے دکھائی ہیں جوآپ ان تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

 یہاں کسی طور پر بھی پانچ ہزار سے زائد کرسی نہیں لگائی جا سکتی جبکہ خواتین کے لئے مخصوص حصہ میں بہت زیادہ بھی ہوں تو دو ہزار افراد کے لئے کرسیاں لگائی جا سکتی ہیں۔اس طرح اس پارک میں کسی طور پر سات ہزار سے زائد کرسیاں نہیں لگائی جا سکتیں، میرا ان پانچوں جلسوں کی منتظمین اور سارے الیکٹرانک میڈیا کو چیلنج ہے کہ وہ میری بات کو جھٹلا کے دکھائیں مگر اس کے باوجود ایک چینل نے کہا کہ تیس ہزار کرسیاں لگ گئی ہیں،دوسرے نے بیس ہزار اور تیسرے نے تعداد اٹھارہ ہزار بتائی جبکہ منتظمین کرسیوں کی تعداد پچیس ہزار بتاتے رہے۔اب آپ اس تصویر کو دیکھیں جو ہمارے فوٹو گرافر نے دوپہر ایک بجے بنائی ہیں ،آپ زوم کر کے کرسیاں گن سکتے ہیں،


پھر قوم کو ان فضائی کوریج کے ذریعے کیوں بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔زوار چوہدری نامی ایک نیا دانشور کراچی بیٹھ کر تبصرہ کر رھا تھا کہ جلسہ گاہ میں پچاس ہزار افراد کی گنجائش ہے اور لاکھوں لوگ باہر کھڑے ہیں۔
اب آتے ہیں جلسہ گا کی باہر کی طرف جہاں بقول علامہ صاحب تین لاکھ سے زائد لوگ موجود تھے،اگر آپ دوبارہ گوگل والا میپ دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ جلسہ گاہ کے سٹیج کے بالکل بیک پر جی سی یونیورسٹی ہے جہاں علامہ صاحب کے بقول وہ بھی یہیں پڑھتے رہے ہیں ، دھوبی گھاٹ گراؤنڈ اور یونیورسٹی کے درمیان صرف ایک سڑک حائل ہے،سٹیج سے دیکھیں تو بائیں طرف محلہ دھوبی گھاٹ ہے ، سٹیج کے بالکل سامنے پارک کے اختتام پر میونسپل لائبریری کی نو تعمیر شدہ بلند عمارت ایستادہ ہے،اس کا مطلب ہے کہ باہر کھڑے ہونے کے لئے صرف پارک کے دائیں طرف والی دو روریہ سڑک ہے جسے کوتوالی روڈ کہا جاتا ہے موجود ہے مگر اس کی صورت حال یہ ہے کہ اس دوریہ سڑک کو لائبریری سے لے کر جی سی یونیورٹی چوک تک قناتیں لگا کر بند کر دیا گیاتاکہ کوئی بندہ کسی اور طرف سے جلسہ گاہ میں داخل نہ ہو سکے ،جلسہ گاہ میں داخل ہونے کے لئے اسی دورویہ سڑک کے جلسہ گاہ والی طرف سے لائبریری کے پاس سے ایک واک تھرو گیٹ لگا کر باقی حصہ کو بیریئرز لگا کر بند کیا گیا تھا،بس یہی داخلی راستہ تھا اور اس کو سڑک پر لائبریری سے جلسہ گاہ کے مین گیٹ تک بیریئرز کی تین رویہ لائنیں بنائی گئی تھی تاکہ لوگ قطار میں جلسہ گاہ پہنچیں اور بد نظمی نہ ہو سکے یہیں ایک منی ٹرک پر ساؤنڈ سسٹم کا آخری حصہ نصب تھا ۔اس کا مطلب یہاں کسی بندے کی کھڑے ہونے کی گنجائش ہی نہیں۔اسی سڑک کا دوسرا خالی حصہ گزشتہ جلسوں کی طرح جی سی یونیورسٹی سے لے کر امین پور بازار تک مکمل طور پر انتظامیہ کے کنٹرول میں تھا اور وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا،انتظامیہ کے پلان کے مطابق سبھی جلسوں کے لئے یہی حکمت عملی کے اپنائی گئی تاکہ کسی ناگہانی صورت حال میں ایک متبادل روٹ موجود رہے۔آپ چنیوٹ بازار سے امین پور بازار تک آسکتے ہیں آگے سارا راستہ انتظامیہ نے اسی حکمت عملی کے تحت بند کر دیا تھا جب محترم طاہرالقادری صاحب کہہ رہے تھے کہ چنیوٹ بازار تک تین لاکھ لوگ کھڑے ہیں تومیں اپنی موٹر سائیکل پر چنیوٹ بازار سے امین پور بازار کی طرف جارہا تھا اور امین پور بازار جہاں سے بیریئر لگا کر آگے جانے کا راستہ بند کر دیا تھا وہاں جلسہ کی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔
میں ایک عام شہری ہوں،میرے لئے طاہرالقادری،عمران خان سمیت سبھی سیاسی لوگ قابل احترام ہیں مگر جب جلسہ کے اختتام پر علامہ صاحب کی طرف سے لوگوں کو ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین کرتے ہوئے جلسہ گاہ کو انسانی سمندر اور جلسہ گاہ سے باہر تین سے چار لاکھ افراد کی موجودگی کی خبر نے مجھے حیرت زدہ کر دیا،مجھے حیرت تو اس الیکٹرانک میڈیا پر بھی ہے جو جانتے ہوئے بھی ،دیکھتے ہوئے بھی کیا کیا سے بنا رہا ہے۔
ویسے میں نے اپنی زندگی میں دو دفعہ دھوبی گھاٹ اور جی سی یونیورسٹی سے چنیوٹ بازار تک کے علاقہ کو انسانی سمندر بنتے دیکھا ہے اور میرے شہر کے باسی اس کے گواہ ہیں،پہلی دفعہ سن1977ء میں جب قومی اتحاد کا انتخابی مہم کا جلسہ تھا اور دوسری دفعہ 1986ء میں جب محترمہ بے نظیربھٹو طویل جلا وطنی کے بعد پاکستان آئی تھیں اورمینار پاکستان پر ہونے والے جلسہ کے بعد پنجاب کا دورہ کرتے ہوئے فیصل آباد آئیں تھیں جبکہ بزرگ کہتے ہیں 1970ء میں ذوالفقار علی بھٹو جلسہ بھی بہت بڑا تھا ۔

بدھ، 20 اگست، 2014

سارا کچھ ایک طے شدہ پلان اور سکر پٹ کے تحت ہو رہا ھے

3 تبصرے
سارا کچھ ایک طے شدہ پلان اور سکر پٹ کے تحت ہو رہا ہے ، بلانے والوں نے بلایا ہے اور جہاں جہاں تک حکم ہوگاوہاں وہاں ان پر دروازے کھلتے جا رہے ہیں ، جہاں ضرورت ختم ہو جائے گی ان کو واپسی کا حکم ہو جائے گا ، نہ نیا پاکستان بنے گا نہ انقلاب آئے ، جس "طوطے" میں ان سب کی جان ہے اسے پھر سے اڑا دیا جائے گا ،چند ردوبدل کے بعد سب کچھ معمول کے مطابق آجائے گا ، انقلاب ، انصاف اور نیا پاکستان بنانے کے لئے اسلام آباد کا رخ کرنے والے غریب عوام کھجل خوار ہو کر  گھروں کو واپس آ جائیں گے ــــــــــ
لیکن طوطا آزاد ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
لیکن قوم ان سب کو مت بھولے جنہوں نے اسے سرسٹھ سالوں میں پہلی بار یوم آزادی بھی سکون سے منانے نہیں دیا اور پندرہ دن تک قوم کے اعصاب کو سولی پر ٹانگے رکھا ۔۔۔۔۔۔۔
اس ملک کو کچھ نہیں ھو گا انشاء اللہ
کیونکہ اس کی بنیادوں میں لاکھوں ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کی عصمتوں کا خون شامل ہے ۔
تو سلامت رہے گا سدا میرے پاک وطن

بدھ، 4 جون، 2014

قائد واقعی ایسے ہوتے ہیں

3 تبصرے
میری اس سے کوئی ذاتی سناشائی نہیں تھی،کبھی ملا بھی نہیں ،بس اتنا پتہ تھا کہ سابق ایم پی اے اور جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر ہیں،
کہیں کبھی کسی خبر میں ان کا نام سننے میں آجاتا تھا ،گزشتہ روز اچانک پاکستان کے تمام چینلز پر ان کے دریائے کنہار بالاکوٹ میں ایک بچے کو بچاتے ہوئے بہہ جانے کی خبریں بریکنگ نیوز کی شکل میں آنا شروع ہو گئیں، سوشل میڈیا پر جماعت اسلامی کے کارکنوں کے جذبات ایسے تھے کہ رونا آرہاتھا، یہی وہ جذبہ ہے جو جماعت اسلامی کو دوسری جماعتوں سے ممتاز کرتا ہے ، جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ہر دور میں قربانی اور عزم و استقلال کی مثالیں قائم کی ہیں۔گزشتہ برس گجرات میں بچوں سے بھری سکول وین کو آگ لگنے کا سانحہ پیش آیا تو بچوں کو آگ سے نکالتے خود جل کر شہید ہونے والی سکول ٹیچر کا گھرانہ بھی جماعت اسلامی سے ہی تعلق رکھتا تھا، میں حیران ہوں اس عظیم انسان کی بہادری پر جس کے اپنے معصوم بچے ہیں مگر کسی کے بچے کو بچاتے بچاتے اپنی قربانی دے دی۔یہی وہ جذبہ ہے جو میرے جیسے لوگوں کو جماعت اسلامی اور اس کے کارکنوں سے محبت پر مجبور کر دیتا ہے، حیرانی ہے جو شخص سندھ اسمبلی کا رکن رہا ہو اپنے آپ کو ایک استاد کہلوانے پر فخر محسوس کرتا ہو اور بطور استاد اور شفیق باپ ان بچوں کو پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیر پر لے کے جارہا ہو، قائد واقعی ایسے ہوتے ہیں،

منگل، 29 اپریل، 2014

میاں صاحب ، خدا کے لئے بچ جاؤ ان مظلوموں کی بددعاؤں سے !

7 تبصرے

میری اس یہ پہلی ملاقات تھی ، لاپتہ افراد کے لئے ایک احتجاج کے سلسلہ میں وہ فیصل آ باد کے ضلع کونسل چوک میں موجود تھی،مجھے اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی نظر آئی جس نے خود مجھے رنجیدہ کردیا مگر جب اس نے میرے ساتھ گفتگو شروع کی تو بلا کااعتماد، سنجیدگی اورمتانت اس کے چہرے پر عیاں تھی،اپنی زندگی کے سب سے بڑے کرب سے گزرنے کے باوجود وہ اوروں کی بات کر رہی تھی ، وہ دوسروں کا انصاف فراہم کروانے کے لئے پر عزم تھی ، وہ ایک ایک کا نام جانتی تھی،ایک ایک بیوہ ماں اور بوڑھے باپ کا نام لے کر بتا رہی تھی کہ کس کس کے جوان بیٹے کو لاپتہ ہوئے کتنی کتنی دیر ہو چکی ہے، وہ جس ہمت سے میرے سامنے کھڑی تھی مجھے نہیں حوصلہ تھا کہ ان کا سامنا کرسکوں ۔مجھے میرا اپنا وجود اس کا مجرم لگ رہا تھا کیونکہ میں اس معاشرہ کا فرد ہوں جہاں آمنہ مسعود اور ڈاکٹر عافیہ جیسی خواتین ہمارے سامنے انصاف کی طلب گار ہیں مگر ہم ان کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہے مگرآفرین ہے اس بپر جو اپنے سر کا تاج گنوا کر بھی وہ ناامید نہیں اسے یقین ہے کہ اگر اسے انصاف نہیں ملا مگر وہ باقی دکھیاروں کو انصاف کے حصول میں مدد گار ضرور بنے گی۔
آمنہ مسعودجنجوعہ کا خاوند جب آمر پرویز مشرف کے دور میں لا پتہ ہوا تو کبھی نہ گھر سے نکلنے والی اس باپردہ خاتون نے اپنے خاوند کی تلاش کا بیڑا اٹھایا اورسالوں سے اپنے گمشدہ خاوند کی تلاش میں ماری ماری بھٹکتی رہی مگر کسی کو اس پررحم نہ آیا۔نام نہاد این جی اوز کا لبادہ اوڑھ کر مال پانی بنانے والی مغرب زدہ خواتین کو بھی اس کی مدد کی توفیق نہ ہوئی اور جب اس کو اس کے خاوند کے قتل کیاطلاع مل گئی تو اس نے تھک ہار کر بیٹھنے کی بجائے ان سینکڑوں بے سہارا خواتین کا سہارا بننے کا فیصلہ کر لیا جن کے پیارے لاپتہ ہیں اور اس سلسلہ میں کبھی وہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکا رہی ہوتی ہیں کبھی پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا اورکبھی شہر شہر امن واک مگر آج اسلام آباد کی فضاؤں نے جو منظر دیکھا اور ناقابل بیان ہے ،اس آمنہ کو پارلیمنٹ کے سامنے سڑکو ں پر گھسیٹا گیا۔ گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی،وردی پوش اخلاقیات تمیز احترام کے معنی بھول گئے،بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑادیں،خواتین اہل کاروں نے آمنہ مسعود پر مکوں کی بارش کردی اور اسی ہلڑ بازی میں گھسیٹتے ہوئے آمنہ مسعود کو گاڑی میں ڈالا گیا اور مظاہرین پر تاک تاک کر لاٹھیاں برسائی گئیں اور یہ سب ہوا بھی نواز شریف کے دور میں ، لگتا ہے نواز شریف کو ان مظلوموں کو لے ڈوبیں گی،ظلم آخر ظلم ہے اور پھر مظلوم کی آہ تو عرش ہلا دیتی ہے ،مجھے یاد ہے پرویز مشرف کی طرف سے نواز شریف کی حکومت کے خاتمہ سے صرف چند ماہ پہلے لاہور میں جماعت اسلامی کے بوڑھے کارکنوں کو انہیں میاں صاحبان کے حکم پر لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا،سیاسی کارکنوں پر اس تشدد کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی تب ایک بوڑھے کو میں نے بددعا دیتے دیکھا تھا،اس نے دونوں ہاتھ پھیلاکر چہرہ آسمان کی طرف کیا ہوا تھا، پتہ نہیں وہ زیر لب کیا بڑبڑا رہا مگر مجھے ایسا لگا کہ وہ اپنے رب سے ہم کلام ہورہا ،جیسے اللہ تبارک تعالی کے کانوں میں کوئی بات کہہ رہا ہے اور پھر چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ چند ماہ بعد ہی میاں صاحب جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے اورپھر انہیں جہاز کی کرسی سے باندھ کر جدہ پہنچایا گیا ۔مجھے آج پھر وہ منظر یاد آرہا ہے ،
میاں صاحب خدا کے لئے بچ جاؤ ان مظلوموں کی بددعاؤں سے ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 26 اپریل، 2014

لالچ کے اندھے اور تبدیلی کے خواہش مند

1 تبصرے
کل رات فیملی کے ہمرا فیصل آباد کے بڑے پیزا ریسٹورانٹ
جانے کا تفاق ہوا ۔وہاں اتنا رش ہوتا  ہے کہ دو سو سے زائد سیٹ ہونے کے باوجود اپنی باری کے لئے  بیس پچیس منٹ انتظار کرنا پڑتا ہے۔پیزا کے ساتھ دی جانے والی کولڈ ڈرنک انتہائی غیر معیاری تھی ،یوں سمجھ لیں کہ  پانی کے ایک گلاس میں  کوک کا ایک گھونٹ  مکس کر دیا گیا تھا،میں نے منیجر کو بلایا اور کہا  اس سے صرف ایک گھونٹ پی کر دیکھ لیں،کہنا لگا مجھے معلوم ہے سر ، ہماری مشین خراب ہے،میں نے کہا کہ اگر آپ کی مشین خراب ہے تو لکھ کر لگا دو یا لوگوں کو کولڈ ڈرنک دینے سے معذرت کر لو ، دوسری صورت میں لوگوں کو  شیشے والی بوتل دو حالانکہ ہونا بھی یہی  چاہیے کہ ہر فرد کو جراثیم سے پاک علیحدہ علیحدہ بوتل ملے ناکہ ایک بڑے ڈرم سے گلاس بھر بھر لوگوں کو  دیئے جائیں،اگر دو سو روپے والا پیزا تم لوگوں کو سات سو  روپے میں فروخت کر رہے ہو تو کم از کم اتنا تو کر لو کہ  لالچ میں اندھے ہوکر لوگوں کی صحت نہ برباد کرو۔
میرا بدلتا موڈ دیکھ کر اس نے فوری طور پر پاس سے گزرتے ہوئے ویٹر کو روکا اور کہا کہ سر کے لئے فوری طور پر فرج سے بوتل نکال کر لاؤ،میں نے اس کی ضرورت نہیں  اور نہ یہ آپ کا قصور ہے بلکہ قصور ان مالکان کا ہے جو اتنا کما کر بھی اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے اور لالچ میں میں پڑے ہوئے ہیں اور واقعی ایسے لوگوں کا پیٹ قبر کی مٹی ہی بھرے گی یا پھر وہ حکومتی ادارے  جن کی ذمہ داری ہے چیک اینڈ بیلنس کی مگر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے کیونکہ ان کو ان کا حصہ انتہائی عقیدت سے ان کے گھروں میں پہنچ جاتا ہے لیکن میری نظر میں سب سے بڑے قصور وار ہم ہیں جو پیسے ادا کرنے کے باوجود شکائت نہیں کرتے ،ظاہر اس وقت وہاں دوسو سے زائد کھا رہے تھے اور اتنے ہی اپنی باری کے انتظار میں باہر کھڑے تھے مگر اسٹیسس کے مارے شکائت کرنا  شائد توہین سمجھتے ہوں گے یا محسوس کرتے ہوں کہ لوگ کیا کہیں گے مگر یہی لوگ جب ریڑھی والے سے مونگ پھلی لے رہے ہوں تو ایک دانہ غلط آنے پر اس کو  ماں بہن کی گالیاں تک دے ڈالتے ہیں مگر یہاں اپنے اسٹیسس کو  بچانے کے لئے چپ چاپ کھائے جارہے ہیں حالانکہ مینیجر نے اقرار کیا کہ کہ ان کی مشین کی خرابی ہے جبکہ نہ تو مشین خراب تھی اور نہ کوئی اور مسئلہ ،صرف لالچ نے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے اور یہ لوگ سب سے زیادہ پاکستان میں تبدیلی کے خواہشمند ہیں،

منگل، 11 مارچ، 2014

چمنیوں کا شہر ، فیصل آباد

15 تبصرے
کسی زمانے میں چمنیوں کا شہر کہلوانے والا فیصل آباد آج دینا بھر میں ٹیکسٹائل سٹی کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کا اصل نام لائل پور تھا جو اس کو آباد کرنے والے انگریز گورنر سر چارلس جیمز لائل کے نام پر رکھا گیا تھا جسے ضیاء الحق کے زمانہ میں تبدیل کر کے سعودی فرماں روا فیصل بن عبد العزیز کے نام پر فیصل آباد کر دیا گیا ،اب بھی اس کے چاہنے والے اسے لائل پور کہنا ہی پسند کرتے ہیں مگر نئی نسل اس سے نا آشنا ہے۔ نصرت فتح علی خاں اور ارفع کریم کا یہ شہر اپنی صنعتی ترقی کی وجہ سے بہت اہمیت کا حامل ہے ، اسے ایشیا کا مانچسٹربھی کہا جاتا ہے ،کراچی اور لاہور کے بعد یہ پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے،شہر فیصل آباد کی تاریخ ایک صدی پرانی ہے۔ آج سے کم و بیش 100 سال پہلے جھاڑیوں پر مشتمل یہ علاقہ مویشی پالنے والوں کا گڑھ تھا۔ 1892ء میں اسے جھنگ اور گوگیرہ برانچ نامی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا۔ 1895ء میں یہاں پہلا رہائشی علاقہ تعمیر ہوا، جس کا بنیادی مقصد یہاں ایک منڈی قائم کرنا تھا۔ ان دنوں شاہدرہ سے شورکوٹ اور سانگلہ ہل سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مابین واقع اس علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان واقع دوآبہ رچنا کا اہم حصہ ہے۔ لائلپور شہر کے قیام سے پہلے یہاں پکا ماڑی نامی قدیم رہائشی علاقہ موجود تھا، یہ علاقہ لوئر چناب کالونی کا مرکز قرار پایا اور بعد ازاں اسے میونسپلٹی کا درجہ دے دیا گیا۔موجودہ ضلع فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ کرتے۔ اس زمانے کے انگریز سیاح اسے ایک شہر بنانا چاہتے تھے۔ فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ،جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا،لاہور جانے کے لئے تمام تاجر اور سیاح یہاں پڑا کرتے تھے،آہستہ آہستہ اس کی اہمیت بڑھتی گئی اور اس بڑھتی ہوئی اہمیت کا اندازہ ایک سیاح انگریز کو بہتر طور پر ہوا تو اس نے اِس شہر کو بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ اس کا نمونہ کیپٹن پوہم ینگ نے برطانیہ کے جھنڈے یونین جیک کی طرز پر ڈیزائن کیا۔ جھنڈے پر بنی آٹھ لکیروں کو ظاہر کرنے کے لے آٹھ بازار بنائے گئے اور ان کے عین وسط میں ایک بہت بڑا کلاک ٹاور تعمیر کیا گیا ،ان بازاروں کو بڑے عمدہ فنِ تعمیر سے تیار کیا گیا، انگریزوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ لائلپور کے آٹھ بازاروں کی صورت میں اپنی شناخت، برطانوی پرچم (یونین جیک) ہمیشہ کے لئے اس خطے میں امر کر کے جا رہے ہیں مگر یہاں کے باسیوں کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ برطانیہ کے پرچم کو صبح و شام اپنے قدموں تلے روندھتے رہیں گے۔ 
قیام پاکستان کے بعد شہر میں آہستہ آہستہ انڈسٹریل کاموں کا آغاز ہوتا گیا اور ملحقہ علاقوں میں سے لوگ شہر کی طرف آنا شروع ہو گئے۔1985میں اس شہر کوڈویژن کا درجہ دے دیا گیا جس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور فیصل آباد اضلاع شامل کیے گئے۔اب ضلع چنیوٹ بھی شامل ہو گیا ہے۔ضلع فیصل آباد کا کل رقبہ1280مربع کلو میٹر کے قریب ہے جبکہ اس کی آبادی تقریبا پچاس لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے اس طرح یہ کراچی اور لاہور کے بعد ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے۔

فیصل آباد کی تاریخ ، نمایاں افراد ، تعلیمی اداروں اور تاریخی مقامات کے بارے میں انشا ء اللہ اقساط میں لکھوں گا۔

اس پوسٹ کی تیاری میں مختلف تحقیاتی مقالہ جات ،ضلعی انتظامیہ اور تاریخی کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔

فیصل آباد کی تاریخی عمارات اور دیگر مقامات کی تصویریں دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

جدید تھری ڈی ٹیکنالوجی سے فیصل آباد کے آٹھ بازار اور ملحقہ علاقے دیکھنے لئے یہاں کلک کریں

اتوار، 26 جنوری، 2014

مریم سجاد کو انصاف مل گیا ، شکریہ سوشل میڈیا

2 تبصرے

ایک سال پہلے فیصل آباد کے ایک درندہ صفت ڈاکٹر پروفیسر رسول چوہدری نے غلط آپریشن کر کے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بی ایس سی پلانٹ بریڈنگ اینڈ جنیڈر نگ انجینئر نگ میں تیسرے سال اور پانچویں سمسٹر کی طالبہ اور وزیر اعلی پنجاب کی سکیم کے تحت لیپ ٹاپ ہولڈر مریم سجاد کو عمر بھر کے لئے معذور کر دیا ، میں نے بھی اس پر بلاگ لکھا اور سوشل میڈیا پر مہم بھی چلائی ، فیصل آباد کے پریس نے  اس معصوم بچی کا بھر پور ساتھ دیا ، ہم لوگ اگر چہ اس کو  اس کا صحت مند جسم واپس تو نہ دلا سکے مگر اس ڈاکٹر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ان کی ضرور مدد کی جس کے نتیجہ میں  پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے ڈاکٹر پروفیسر رسول چوہدری کی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی ممبر منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تاحیات مراعات ، پنشن وغیرہ ضبط کر کے  متاثرہ بچی کو دینے کا حکم دیا ہے جبکہ  الائیڈ ہسپتال کی انتظامیہ کو بھی غفلت کا مرتکب پائے جانے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ پاک اس معصوم بچی کو صحت کاملہ عطا فرمائے ، میں فیصل آباد کی صحافی برادری کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اس کیس کو ہائی لائٹ کیا اور سوشل میڈیا پر موجود ان  ہزاروں احباب کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے میرے بلاگ کو فیس بک ، ٹویٹر  پر شیئر کیا ، وہ احباب جنہوں نے اسے میرے بلاگ سے کاپی کر کے اپنے اخبارات میں چھاپا اور اس معصوم بچی کو انصاف کا حصول ممکن ہوا،اگر چہ  یہ  سب کچھ مریم کا وہ سب نہیں  لوٹا سکتے جو اس نے کھو دیا لیکن  توقع کی جا سکتی ہے شائد  ان سزاؤں پر عمل درآمد سے ان انسان کے لبادے میں چھپے ہوئے بھیڑیوں میں کچھ کمی آ سکے۔

جمعرات، 23 جنوری، 2014

ذرا سوچئے ! کب ہمارے حالات بدلیں گے

3 تبصرے
یہ تحریر 2013کی جنوری میں  اپنے سابقہ بلاگ پرلکھی تھی،تب بھی موسم اتنا ہی سرد تھا ، یہی خون کو جمادینے والی سردی اور یہی حادثہ ، اسی طرح لوگ میتوں کو لئے بیٹھے تھے ، آج ایک سال گزر گیا ، ایک حکومت آئی چلی گئی،دوسرے بھی سات ماہ گزار چکے ہیں ، نہ بدلے تو ان غریبوں کے حالات نہ بدلے، ان کی زندگیاں محفوظ نہ ہو سکیں۔آج پھر یہ اپنے پیاروں کی لاشیں لئے لئے بیٹھے ہیں۔ ذرا سابق تحریر کو پڑھیئے ، سوچئے ! کب ہمارے حالات بدلیں گے



یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟
By Mustafa Malik on جنوری 13, 2013
کوئٹہ میں رگوں میں اتر جانے والی سردی ہے، درجہ حرارت منفی آٹھ سے بھی بڑھ چکا ہے. معصوم بچے اور باپردہ خواتین گزشتہ تین دن سے اپنے بیاسی بے گناہ پیاروں کی لاشیں لئے بیٹھے ہیں۔ایسا احتجاج تو شائد معلوم تاریخ میں کہیں نہ ہوا ہو۔اس نے ملک کے کونے کونے میں موجود ہر انسان کو ہلا کر رکھ دیا

پاکستان کی تاریخ کا دردناک احتجاج ہے بےحس حکمران خاموش تماشا ئی بنے ہوئے ہیں ۔ کب ان کی غیرت جاگے گی کب تک ہم یونہی بے گناہوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ سینکڑوں لوگ لاشوں کو لے کر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ پکار پکار کر پوری قوم کو اپنی بے بسی سے آگاہ کررہے ہیں ان کی آواز میں آواز ملانا پوری قوم کا فرض ہے ۔ آج وہ جس اذیت سے دوچار ہیں اگر ان کا ساتھ نہ دیا گیا تو کل دوسرے صوبے میں بھی لوگ میتیں اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔ پوری قوم شہدا کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے ۔ وفاقی حکومت کو ان کے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے

یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟





سوموار، 6 جنوری، 2014

میرا قاضی بابا

1 تبصرے
رات کا آخری پہر تھا ، سیل فون کی گھنٹی سے میں نیم غنودگی کی حالت میں یک دم چونک کر اٹھا ، بیٹی کی کال تھی ۔۔ یا اللہ خیر اس وقت آنے والی کال کبھی خیر کی خبر نہیں لاتی۔ میں نے آن کیا ہی تھا میرے سلام سے پہلے اس کی آواز آئی ۔ابو جی !!!!!! کیا ہوا بیٹا ، ابو جی! ٹی وی پرقاضی بابا کے انتقال کی خبر چل رہی ہے۔ میں نے کہا بیٹا یہاں تو لائٹ آف ہے ،آپ دوبارہ غور سے پڑ ھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو کافی دیر سے دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔۔ اچھا میں پتہ کرتا ہوں۔ میں نے فون بندکردیا ، مجھے ایسے لگا یہ لوڈ شیڈنگ کا اندھیرا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ واقعی دور کہیں اندھیرا چھا گیا ہے۔ بیٹی کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا ، بجلی تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی،کس سے تصدیق کروں۔۔ کچھ دیر بعد احباب کی ایس ایم ایس آنا شروع ہوگئے،بابا واقعی چلا گیا۔ قاضی صاحب پاکستان کی سیاست کا ایک ایسا روشن ستارہ تھے جو آنے والوں کے لئے مینارہ نور ثابت ہوں گے۔اقتدار کے ایوانوں سے افغانستان کے سنگلاک پہاڑوں تک ہر جگہ اپنی دیانت داری ، شرافت، بردباری اور اخلاق کی ایسی مثالیں چھوڑ گئے ہیں جنہیں لوگ رہتی دنیا تک بطور مثال پیش کیا کریں گے۔ میں اپنی زندگی میں ن لوگوں سے بے حد متاثر ہوا ان میں قاضی بابا کا نام سر فہرست ہے بلکہ قاضی صاحب کی طلسماتی شخصیت ہی تھی جو مجھے جماعت کے قریب لے کر آئی۔میری والدہ کے انتقال پر میرے گھر خود تشریف لائے ، لوگ انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے ،اتنی بڑی شخصیت اور اتنی سادگی۔2008 میں جماعت اسلامی کے مینار پاکستان پر کل پاکستان اجتماع عام کے موقع پر ان کی اختتامی تقریر ہو رہی تھی ۔میں پریس انکلوژر میں موجود تھا،مغرب کا وقت قریب تھا کہ اچانک انہوں نے کہا کہ میرے عزیزو! اب انشا ء اللہ جنت میں ملاقات ہوگی۔ میں نے پاس کھڑے دوست سے کہا یار، بابا جی تو بہت بڑی بات کہہ گئے ہیں۔پتہ نہیں کسی کو سمجھ بھی لگی کہ نہیں،قاضی کا اپنے ان لاکھوں بیٹوں سے بچھڑنے کا وقت آ گیا ہے، پھر جب انہوں نے اگلے امیر جماعت بننے سے معذرت کی تو لگا کہ ولی اللہ کو اپنے جانے کا وقت معلوم ہو گیا ہے۔قاضی صاحب جیسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے ۔ بنی اکرم ﷺ اور امت مسلمہ سے محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی،انہوں نے اپنی زندگی امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ان کی المناک رحلت سے قوم ایک محب وطن اور امت مسلمہ کا درد دل رکھنے والے مدبر اورزیرک سیاست دان سے محروم ہو گئی ۔ پاکستان کی سیا ست میں ان کا لازوال کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ملکی سیاست پر ان شخصیت کے انمٹ نقوش ہمیشہ موجود رہیں گے۔ پاکستان میں امانت،دیانت اور شجاعت کی سیاست کا ایک باب بند ہوگیا ہے،ملک میں قیامِ امن،اور اتحاد امت کے لیے ان کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کی سربلندی کی کوششوں میں گزاری۔وہ اتحاد امت کے داعی تھے۔وہ ملک میں یکجہتی اور بھائی چارے کے فروغ کیلئے کوشاں رہے۔اختلافات رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے افراد کو انہوں نے ایک لڑی میں پرویا۔ان کی زندگی سادگی ،قناعت اور محنت سے عبارت تھی۔وہ اتحاد و اخوت کے علمبردار رہے۔ پاکستان میں امن،سیاسی استحکام اور اسلامی نظام کا نفاذ ان کی شدید خواہش تھی۔ اللہ پاک ان پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔

قاضی حسین احمد کی پہلی برسی پر
.