سوموار، 6 جنوری، 2014

میرا قاضی بابا

1 تبصرے
رات کا آخری پہر تھا ، سیل فون کی گھنٹی سے میں نیم غنودگی کی حالت میں یک دم چونک کر اٹھا ، بیٹی کی کال تھی ۔۔ یا اللہ خیر اس وقت آنے والی کال کبھی خیر کی خبر نہیں لاتی۔ میں نے آن کیا ہی تھا میرے سلام سے پہلے اس کی آواز آئی ۔ابو جی !!!!!! کیا ہوا بیٹا ، ابو جی! ٹی وی پرقاضی بابا کے انتقال کی خبر چل رہی ہے۔ میں نے کہا بیٹا یہاں تو لائٹ آف ہے ،آپ دوبارہ غور سے پڑ ھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو کافی دیر سے دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔۔ اچھا میں پتہ کرتا ہوں۔ میں نے فون بندکردیا ، مجھے ایسے لگا یہ لوڈ شیڈنگ کا اندھیرا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ واقعی دور کہیں اندھیرا چھا گیا ہے۔ بیٹی کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا ، بجلی تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی،کس سے تصدیق کروں۔۔ کچھ دیر بعد احباب کی ایس ایم ایس آنا شروع ہوگئے،بابا واقعی چلا گیا۔ قاضی صاحب پاکستان کی سیاست کا ایک ایسا روشن ستارہ تھے جو آنے والوں کے لئے مینارہ نور ثابت ہوں گے۔اقتدار کے ایوانوں سے افغانستان کے سنگلاک پہاڑوں تک ہر جگہ اپنی دیانت داری ، شرافت، بردباری اور اخلاق کی ایسی مثالیں چھوڑ گئے ہیں جنہیں لوگ رہتی دنیا تک بطور مثال پیش کیا کریں گے۔ میں اپنی زندگی میں ن لوگوں سے بے حد متاثر ہوا ان میں قاضی بابا کا نام سر فہرست ہے بلکہ قاضی صاحب کی طلسماتی شخصیت ہی تھی جو مجھے جماعت کے قریب لے کر آئی۔میری والدہ کے انتقال پر میرے گھر خود تشریف لائے ، لوگ انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے ،اتنی بڑی شخصیت اور اتنی سادگی۔2008 میں جماعت اسلامی کے مینار پاکستان پر کل پاکستان اجتماع عام کے موقع پر ان کی اختتامی تقریر ہو رہی تھی ۔میں پریس انکلوژر میں موجود تھا،مغرب کا وقت قریب تھا کہ اچانک انہوں نے کہا کہ میرے عزیزو! اب انشا ء اللہ جنت میں ملاقات ہوگی۔ میں نے پاس کھڑے دوست سے کہا یار، بابا جی تو بہت بڑی بات کہہ گئے ہیں۔پتہ نہیں کسی کو سمجھ بھی لگی کہ نہیں،قاضی کا اپنے ان لاکھوں بیٹوں سے بچھڑنے کا وقت آ گیا ہے، پھر جب انہوں نے اگلے امیر جماعت بننے سے معذرت کی تو لگا کہ ولی اللہ کو اپنے جانے کا وقت معلوم ہو گیا ہے۔قاضی صاحب جیسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے ۔ بنی اکرم ﷺ اور امت مسلمہ سے محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی،انہوں نے اپنی زندگی امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ان کی المناک رحلت سے قوم ایک محب وطن اور امت مسلمہ کا درد دل رکھنے والے مدبر اورزیرک سیاست دان سے محروم ہو گئی ۔ پاکستان کی سیا ست میں ان کا لازوال کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ملکی سیاست پر ان شخصیت کے انمٹ نقوش ہمیشہ موجود رہیں گے۔ پاکستان میں امانت،دیانت اور شجاعت کی سیاست کا ایک باب بند ہوگیا ہے،ملک میں قیامِ امن،اور اتحاد امت کے لیے ان کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کی سربلندی کی کوششوں میں گزاری۔وہ اتحاد امت کے داعی تھے۔وہ ملک میں یکجہتی اور بھائی چارے کے فروغ کیلئے کوشاں رہے۔اختلافات رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے افراد کو انہوں نے ایک لڑی میں پرویا۔ان کی زندگی سادگی ،قناعت اور محنت سے عبارت تھی۔وہ اتحاد و اخوت کے علمبردار رہے۔ پاکستان میں امن،سیاسی استحکام اور اسلامی نظام کا نفاذ ان کی شدید خواہش تھی۔ اللہ پاک ان پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔

قاضی حسین احمد کی پہلی برسی پر

1 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

.