جمعرات، 10 نومبر، 2016

خزیمہ نصیر کی موت کا ذمہ دار کون ؟ حکمران یا والدین

0 تبصرے
پنجاب کے چھوٹے سے شہر ڈسکہ سے جرمنی جانے والا پچیس سالہ خزیمہ نصیر جرمنی کے ہسپتال میں بے کسی کی حالت میں صرف ایک دفعہ اپنے والدین تک پہنچ چانے کی خواہش دل میں لئے اپنی زندگی کی بازی ہار گیا،آنکھوں میں سہانے مستقبل کے خواب سجائے حزیمہ ایک سال سال قبل ایران، ترکی،یونان اور یورپ کے دیگر راستوں سے ہوتا ہوا جرمنی پہنچا تھا اس بھیانک اور طویل سفر کے دوران ایرانی بارڈر پر وہ اور اس کے ساتھی پکڑے بھی گئے اور حزیمہ کی ایک ٹانگ میں گولی لگ گئی اور وہ ایران کے ایک ہسپتال میں زیر علاج بھی رہا،اس کے ساتھی تو ملک بدر کر دیئے گئے مگر اس کو آزاد کر دیا گیا۔ اس نے سفر جاری رکھا اور یورپی ممالک کے غیر قانونی راستوں سے سفر کرتا ہوا جرمنی پہنچ گیا۔جرمنی آنے کے صرف چندماہ بعد ہی اسے شدید بخار ہوا اور اس کی ایک ٹانگ بہت زیادہ سوج گئی تھی۔ یہ اس کی وہی ٹانگ تھی، جس پر ایران میں اسے گولی لگی تھی۔ جب اسے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تو تفصیلی معائنے پر بتایا چلا کہ وہ سرطان کا مریض ہے۔ ہسپتال میں ایک ماہ تک زیر علاج رہنے کے بعد اسے کولون کے ایک بڑے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس ہسپتال میں ڈاکٹروں کو پتہ یہ چلا کہ خزیمہ نہ صرف ہڈیوں کے سرطان میں مبتلا ہے بلکہ اس کی یہ بیماری تب تک بہت خطرناک حد تک پھیل چکی تھی۔ پھر سرطان کے علاج کے لیے اس کی کئی طرح کی کیموتھراپی بھی کی گئی لیکن کینسر بڑھتا گیا اور آخر کار ڈاکٹروں کو اسے بتانا پڑا کہ وہ اس کا مزید علاج نہیں کر سکتے تھے۔ اپنا آخری وقت اپنے والدین کے ساتھ گزارنے کی خواہش لئے نو مارچ 1992ء کو ڈسکہ میں پیدا ہونے والا خزیمہ جو ابھی 25 برس کا بھی نہیں ہوا تھا کہ جمعہ چار نومبر کو صبح 10 بج کر 48 منٹ پر خزیمہ اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگیا۔جرمنی میں رہنے والے چند درمند پاکستانیوں نے اس کی والدہ کو جرمنی بلانے کے لیے ویزے کے حصول کی کارروائی بھی شروع کی مگر قانونی پیچیدگیوں کے باعث مکمل نہ ہو سکی اس پردیس میں ایک نوجوان اپنوں کو پکارتا اللہ کے حضور پہنچ گیا ۔
خزیمہ کی موت نے مجھ جیسے لاکھوں لوگوں کو رونے پر مجبور کردیا۔خزیمہ کے بارے میں مجھے معلومات ایک سرچ کے دوران جرمنی کی سرکاری اردو ویب سائیٹ سے ملیں۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ بدقسمت حزیمہ کی موت کا ذمہ دار کون ہے ،ہمارے حکمران یا اس کے والدین۔ریاست کے ہر شہری کی تعلیم ،روزگار اور کفالت کی ذمہ دار حکومت ہوتی ہے،اگر حکمران حزیمہ اور اس جیسے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کر دیں تو شائد کوئی اور حزیمہ اپنی ماں کے زیور فروخت کرکے سہانے مستقبل کے خواب سجائے پردیس نہ جائے ، ماں باپ کیا کریں ،جس باپ کو بڑھاپے میں اس لئے نیند نہ آتی ہو کہ چار جوان بیٹیوں کے جہیز کا کس طرح بندوبست کرنا ہے تو اس کا بیٹا اپنے والدین کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا پھر اس کے پاس پھر ایک ہی حل ہے یا تو گن اٹھا کر ڈاکو بن جائے یا پھر خزیمہ کی طرح دھکے کھاتا جرمنی چلا جائے اور پھر پھر ہمیشہ ہمیشہ کے ماں باپ سے دور ہوجائے ۔اب بھی وقت ہے کہ حکمران اور اپوزیشن دھرنا دھرنا کھیلنے کی بجائے عوام کو ریلیف دیں تاکہ آئندہ کوئی اور حزیمہ پردیس میں ایڑیاں رگڑرگڑ کر مرنے پر مجبور نہ ہو۔یاد رکھنا اگر حکمرانوں اگر آپ یہ نہ کر سکے تو روزقیامت خزیمہ کی ماں کا ہاتھ ہوگا اور آپ کا گریبان ہوگا۔
وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور میرٹ کے قتل عام نے ملک میں ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا جس نے دہشت گردی کو بھی پروان چڑھایا ،عوام کو تعلیم صحت ،روز گار انصاف اور چھت کی سہولت دینا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے مگر کسی حکومت نے بھی اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا جس کی وجہ سے آج کا نوجوان بے چینی ،مایوسیوں اور محرومیوں کا شکار ہو کر بیرون ملک جانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں خزیمہ نصیر جیسے واقعات جنم لیتے ہیں
یہ تحریر اردو کی بڑی ویب سائٹ دلیل ڈاٹ پی کے پر بھی شائع ہو چکی جو درج ذیل لنک سے پڑھی جا سکتی ہے

جمعہ، 21 اکتوبر، 2016

کیا پنجابی بیہودہ زبان ہے ؟

1 تبصرے
تحریک انصاف کی خاتون راہنما کے سکولوں کے نیٹ ورک بیکن ہاؤس نے اپنے سکولوں میں پنجابی زبان کو بے ہودہ زبان قرار دیتے ہوئے اس زبان میں گفتگو کرنے پر پابندی لگانے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر کے پوری ایک تہذیب پر حملہ کیا ہے۔اس افسوس ناک خبر نے اپنی مادری زبان سے محبت کرنے والے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے جیسے کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کی ہے لیکن میرے خیال میں اس میں قصوروار شائد وہ سکول والے نہیں جتنے ہم خود پنجابی ہیں ،ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پنجابی متعصب نہیں ہیں،اس لئے پنجابی سے ان کی محبت بھی کمزور ہوتی جارہی ہے۔اگر آپ اندرون سندھ جائیں تو آپ کو ہر ریلوے اسٹیشن پر نام اردو کے ساتھ سندھی میں بھی لکھا نظر آئے گا۔ بعض جگہوں پر دکانوں کے سائن بورڈ بھی سندھی میں لکھے نظر آئیں ،دوسری طرف پختون بھائیوں کی ایک انتہائی اچھی عادت ہے ،جب بھی جہاں بھی دو پختون اکھٹے ہوں گے تو پشتو میں بات کریں گے لیکن ہمارے ہاں پہلے گھروں میں پنجابی کی جگہ اردو نے لی اور اب اس کی جگہ بتدریج انگریزی لے رہی ہے۔ ماؤں کا اپنے بچوں سے گفتگو کا سٹائل کچھ اس طرح ہے " پپو بیٹا،جلدی سے میڈیسن لے لو،یو نو سنڈے کو تمہاری برتھ ڈے ہے،مما پاپاآپ کو وش کریں گے،کیک کاٹیں گے،پپا آپ کو سرپرائز گفٹ دیں گے،اس لئے جلدی جدی ہیل اپ ہو جاؤ" اب جو لوگ اردو کے ساتھ یہ کھلواڑ کر سکتے ہیں پنجابی ان کی کیا لگتی ہے ۔ یہ لوگ جو جی چاہیں کریں مگر میرے جیسے کروڑوں پنجابی جنہیں اس زبان سے اپنی ماؤں کی خوشبو آتی ہے ،کبھی اس سے ناطہ نہیں توڑیں گے۔بچوں کے ساتھ ہونے والے اس کھلواڑ نے بچوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے،گھر میں اردو بولی جاتی ہے ، سکول میں انگریزی بولنے کا حکم آتا ہے تو محلے میں دوسرے بچوں کے ساتھ پنجابی بولنی پرتی ہے جس سے بچوں کی ذہنی نشوونما پر انتہائی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔پنجابی کو بیہودہ زبان کہنے والوں کو معلوم ہی نہیں کہ یہ تو صوفیا ء کرام کی زبان ہے ، یہ توبابا بلھے شاہ، بابا فرید گنج شکر، وارث شاہ اور شاہ حسین جیسے بزرگوں کی زبان ہے ۔کیا ایسا ممکن ہے کہ کسی زبان کو ہی بیہودہ قرار دے دیا جائے ۔آپ کوکبھی کینیڈا،برطانیہ یا ان یورپی ممالک جانے کا اتفاق ہو جہاں بھارتی سکھ آباد ہیں وہ آج بھی اپنے گھروں میں اور اپنے بچوں کے ساتھ پنجابی بولتے ہیں ،ان کے معصوم بچے ٹھیٹھ پنجابی میں گفتگو کرتے کتنے پیارے لگتے ہیں ،حیرت ہے ان لوگوں پر جو اپنی ماں بولی ،اپنی تہذیب کو چھوڑنے اور برا بھلا کہنے پر تلے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ اگر مادری زبان میں تعلیم دی جائے تو اس کے دورس اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ سکول جانے کی عمر سے پہلے ہی بچے کے پاس اپنی مادری زبان کے ہزاروں الفاظ کا ذخیرہ ہوتا ہے لیکن جب اسے سکول میں جاکر نئے الفاظ اور نئی زبان سیکھنی پڑتی ہے تو اسے اس کے لئے کئی سال لگ جاتے ہیں ۔ ایک طرف توآئین پاکستان کی دفعہ 251 میں صوبائی حکومتوں کو مقامی زبانوں کی ترویج و اشاعت کا پابند کیا گیا ہے تو دوسری طرف ایک سکول کی طرف سے اس طرح کا نوٹیفیکیشن جاری ہونا قابل افسوس ہے ،میرا خیال ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی اس پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔
یہ تحریر اردو بڑی ویب سائیٹ دلیل ڈاٹ پی کے پر بھی چھپ چکی ہے، نیچے دیئے گئے لنک سے اسے پڑھا جا سکتا ہے

سوموار، 17 اکتوبر، 2016

سلام ٹیچرز ڈے ، دوسرا رخ

0 تبصرے

ممکن ہے میری اس تحریر سے بہت سے لوگوں کو دکھ پہنچے مگر جس واقعہ نے میرا مستقبل تباہ کردیا اور میں باوجود لاکھ کوشش کے آج تک اسے منظر عام پر نہ لا سکا، سلام ٹیچر ڈے نے میرے زخم ایک بار پھر تازہ کر دیئے اور سالوں بعد آج لکھنے پر مجبور کردیا،اسی کی دہائی کے آغاز کی بات ہے،میٹرک کے بعد کالج جانے کا شوق پھر پری میڈیکل میں داخلہ اور ڈاکٹر بننے کا خواب، ایسا سہانا سپنا ہے جو ان دنوں ہر نوجوان کوہواؤں میں اڑا کے رکھ دیتاہے۔میں نے بھی میٹرک میں اپنے اچھے نمبروں کی وجہ سے شہر کے معروف کالج میں داخلہ لیا،سارے دوست بھی وہیں تھے ،والدین سے ضد کرکے نئے کپڑے اور جوتے خریدے کیونکہ ان دنوں کالجوں میں یونیفارم لازمی نہیں تھی۔ کالج میں یہ ہمارا دوسرا یا تیسرا دن تھا،فرسٹ ایئر فولنگ سے بچنے کے لئے ہم دیہاتوں سے آئے نئے چوزے کبھی ادھر اور کبھی ادھر چھپ رہے تھے ،کالج کے لمبے کاریڈور میں ہمارے آگے آگے ایک محترم استاد تشریف لے جارہے تھے کہ سیٹی جیسی تیز آواز ایک طرف سے آئی، موصوف نے مڑ کر دیکھا اور مجھے کہا کہ پہلے ہی دن اساتذہ سے مذاق،میری جان نکل گئی،میں نے کہا کہ سر میں نے کچھ نہیں کیا،غصہ سے واپس پلٹے تو سیٹی کی وہی تیز آواز دوبارہ مجھے اپنے پاؤں کے نیچے سے آتی محسوس ہوئی،پروفیسر صاحب پھر پلٹے تو میں ڈر کے مارے زمین پر بیٹھ گیا ، میں نے جوتا اتار کر دیکھا تو اس کے تلوے نیچے ایک باریک کیل کی نوک باہر نکلی ہوئی تھی جس نے فرش پر رگڑ پیدا کرکے سیٹی جیسی آواز نکال دی تھی ،میں نے انہیں صورحال بتائی تو وہ بجائے میری بات سنتے مجھے سخت سست کہتے چلے گئے،میں بھی بہت شرمندہ ہوا ،کوشش کر کے کیل کو جوتی سے نکالا اور اپنی کالج لائف کا پہلا پیریڈ پڑھنے کے لئے لیکچر ہال کا رخ کیا۔
حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ وہی پروفیسر صاحب لیکچر ہال میں موجود ہیں ، میں چونکہ ایک لائق طالبعلم تھا اور پہلی سے دسویں تک ہمیشہ پہلے ڈیسک پر بیٹھتا رہا اس لئے حسب عادت فرنٹ لائن میں بیٹھنے کی کوشش کی تو صاحب کا پہلا آرڈر موصول ہوا،"میرے پیریڈ میں آپ کو میرے سامنے بیٹھنے کی اجازت نہیں ،پیچھے چلے جائیں " یا اللہ خیر ! یہ کیا ہوا ، پہلا دن ، نئی جگہ ، نئے لوگ ، یہ کیسا تعارف ۔ کلاس ختم ہوئی تو سٹوڈنٹس نے مجھے گھیر لیا ، بھائی کیا ہوا ، یہ صاحب آپ کو پہلے سے جانتے ہیں ، ایسا کیوں کہا ، میرے پاس تو کسی سوال کا جواب نہ تھا ، صبح جو ہوا وہ بتا دیا ۔
کلاسز کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ، سر آتے مجھے کھڑا کر لیتے ، کوئی ایسا سوال پوچھ لیتے جس کا پڑھے ہوئے نصاب سے تعلق ہی نہ ہوتا ، کبھی کلاس سے باہر جانے کا کہہ دیتے ، کبھی سارا پیریڈ کھڑا رہنے کی سزا دے دیتے، شرمندگی اور احساس کمتری کا ایک احساس پیدا ہونا شروع ہوگیا جس نے ذہن کو کند کرنا شروع کر دیا،لڑکپن کے ہنسی خوشی کے دن ہوا ہونے لگے ،دوستوں نے حالت دیکھی تو ایک نرم مزاج پروفیسر صاحب سے ملاقات کرکے ان صاحب سے دوبارہ ملاقات کرنے اور معافی مانگنے کا پروگرام بنا لیا ، پروفیسر صاحب نے حامی بھر لی کہ پہلے ان سے ملاقات کر لیتا ہوں بعد میں آپ سب کو بھی لے کر چلا جاؤں گا۔ دوسرے دن انہوں نے انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملاقات کرنے اور معافی دینے سے انکار کرتے ہوئے مزید سبق سکھانے کا بھی اعلان کردیا ۔
بہر حال دو سال گزر گئے ،داخلے بجھوانے کا وقت آگیا ۔" سر"نے میرے لیکچرز شارٹ کر دئے،کالج انتظامیہ نے میرا داخلہ بھیجنے سے انکار کردیا،میں ایک دفعہ پھر ان کے پاس حاضر ہو گیا ، گڑ گڑاکر ان سے التجا کی کہ سر کتنی دفعہ آپ سے معافی مانگ چکا ہوں ، خدا کے واسطے میرے ساتھ یہ ظلم نہ کریں ،میرا داخلہ نہ گیا تو میری تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو جائے ، گھر والے کسی موٹر سائیکل مکینک کی دکان پر بٹھا دیں گے ، میرا مسقتبل تباہ ہوجائے گا مگر اس اللہ کے بندے نے میری ایک نہ سنی اور میرا داخلہ نہ جا سکا ۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ،تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا میں بھائیوں کے ساتھ کاروبار میں شریک ہو گیا۔دل سے تعلیم چھوٹنے کا دکھ جاتا نہیں تھا ،کئی سال بعد پرائیویٹ ایف اے کیا ،بی اے کیا ، فکر معاش کی وجہ سے ماسٹرز کرنے کا شوق دل میں ہی رہ گیا۔
سلام ٹیچرز ڈے آتا ہے تو دل کے پھپھولے پھوٹ پڑتے ہیں ، صاحب یاد آتے ہیں ،میں اعتراف کرتا ہوں بہت کو شش کے باوجود میں ان کو معاف نہیں کر سکا لیکن میں نے اس کہانی میں پھر بھی ان کی عزت رکھی ہے ، نہ تو ان کا نام مینشن کیا ہے اور نہ ہی کالج کا نام لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ سلام ٹیچرز
یہ تحریر اردو کی بڑی ویب سائٹ دلیل ڈاٹ پی کے پر بھی چھپ چکی ہے ،اسے نیچے دیئ گئے لنک پر کلک کر کے پڑھا جا سکتا ہے

ایک باپ کا اپنے بیٹے کے نام جوابی خط

0 تبصرے
عزیز ازجان بیٹے!
تمہارا خط پڑھا، خوشی ہوئی میرا بیٹا اس قابل ہوگیا ہے کہ اپنے باپ کو مخاطب کر سکے، سب سے بڑھ کر خوشی یہ بھی کہ میرے بیٹے نے اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لکھنا شروع کردیا ہے۔ قومی اخبارات اور اردو کی بڑی ویب سائٹس پر اس کے کالم چھپ رہے ہیں۔ تمہیں پتہ ہے کہ دنیا میں کوئی کسی کو اپنے سے آگے نکلتا اور ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتا، سگے بھائی بھی اپنے بھائیوں کی ترقی سے جل جاتے ہیں، تم نے برادران یوسف کا قصہ تو پڑھا ہے مگر میری جان! دنیا میں صرف باپ وہ واحد فرد ہے جو چاہتا ہے کہ میرا بیٹا مجھ سے زیادہ ترقی کرے، مجھ سے زیادہ تعلیم یافتہ ہو، مجھ سے زیادہ بڑے گھر اور کاروبار کا مالک ہو۔ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ اپنی ساری توانائیاں خرچ کرتا ہے، دن رات محنت کرتا ہے، اوور ٹائم لگاتا ہے تاکہ تمہارے تعلیمی اخراجات پورے ہوسکیں اور تمہارے دوستوں کے سامنے تمہیں سبکی نہ ہو۔
یں نے تمہارے خط کو بار بار پڑھا ہے، کبھی ہنسی آئی اپنے بیٹے کی معصومیت پر تو کبھی حیرانی ہوئی اپنے بیٹے کے خیالات پر، مجھے خوشی ہے کہ تم نے بار بار مجھے یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ میں تمہارا آئیڈیل ہوں، تمہیں مجھ سے بہت محبت ہے، تمہیں ہر جگہ میری محبت کا عکس کا نظر آتا ہے مگر تمہیں دکھ ہوا ہے ہمیشہ میرے غصہ پر، تم نے لکھا ہے،
آپ کو یاد ہوگا کہ بچپن میں آپ نے مجھے سو روپے دے کر گھر کے ساتھ والی شاپ سے دودھ لانے کا کہا اور جب میں واپس آیا تو میری مٹھی میں پیسے دودھ کے ریٹ کے حساب سے کم تھے۔ آپ نے صرف بقیہ پیسوں کا پوچھا تھا اور میں سہم کر بیڈ کے نیچے چھپ گیا تھا۔ جب آپ نے بیڈ کے نیچے جھک کر دوبارہ سوال کیا تو میں رونے لگا تھا۔ بابا! اس وقت میں صرف سات سال کا تھا۔ مجھے کائونٹنگ نہیں آتی تھی اور آپ کا رعب مجھ پر اس قدر حاوی تھا کہ میں آپ سے یہ وضاحت بھی نہ کر سکا تھا کہ پیسے مجھے دکاندار نے کم دیے ہیں۔بابا! رویے کی اس سختی کے پیچھے ضرور آپ کے ذہن میں کوئی معقول وجہ ہوگی لیکن آپ کا وہ رویہ ہمیشہ میری خود اعتمادی، سیلف ریسپیکٹ اور خودداری میں کمی کا سبب بنتا رہا۔
بیٹا جی! آپ نے خود ہی سوال کر کے خود ہی جواب بھی دے دیا، سوچو آج چودہ سال بعد بھی تمہیں وہ واقعہ یاد ہے، کیا یہ سبق تمہاری زندگی میں کام نہیں آیا گا؟ تم کبھی بھی بغیر کائونٹنگ کے ریزگاری واپس نہیں لوگے، اس وقت تو وہ چند روپے تھے، مستقبل میں تو تمہیں لاکھوں کروڑوں کا حساب کرنا ہے، چھوٹا سا ایک سبق تمہیں زندگی بھر کے لیے راستہ نہیں دے گیا۔ بس بیٹا یہی معقول وجہ تھی، باپ کبھی بھی نہیں چاہےگا کہ اس کے بیٹے کی خود اعتمادی، سیلف ریسپیکٹ اور خودداری میں کمی ہو۔آگے لکھتے ہو،
بابا! زندگی کے قدیم آداب پر آپ کا ایقان اپنی جگہ درست ہے لیکن موجودہ وقت کا تقاضا ہے کہ نئے دور کی کئی چیزوں کو قبول کیے بغیر ہم آگے نہیں جا سکتے۔ میں نے کئی دفعہ گھر میں ٹی وی رکھنے اور صرف پی ٹی وی چینل چلانے کی اجازت چاہی تاکہ میرے علاوہ گھر کے دوسرے بچے بھی باہر کی دنیا اور نت نئی چیزوں سے آگاہ ہو سکیں لیکن آپ کبھی نہیں مانے۔
آپ ٹھیک کہتے ہو میرے بیٹے! مجھے ادراک ہے کہ نئے دور کی چیزوں کو قبول کرکے ہم آگے نہیں جا سکتے، مگر مجھے پتہ ہے اب تم بڑے ہوگئے ہو، اب تمہیں اچھے اور برے کی تمیز آنے لگی ہے مگر جب تم چھوٹے تھے تو میں نے اور تمہاری امی نے فیصلہ کیا تھا کہ بچوں کی تعلیم کے ابتدائی سالوں میں انہیں ٹی وی سے دور رکھا جائے تاکہ یکسوئی سے تعلیم پر توجہ دیں، کچھ بڑے اور سمجھدار ہو جائیں گے تو ٹی وی چلالیں گے، کبھی تم نے سوچا ہے کہ یہ فیصلہ ہم نے کتنا خود پر جبر کرکے کیا تھا، تب ہم کوئی بوڑھے نہیں تھے کہ ہم بھی ٹی وی نہ دیکھیں مگر تم سب کی بہتری کے لیے ہم نے خود پر بھی ٹی وی دیکھنے کی پابندی عائد کر لی۔
تمہیں اپنے بچپن کا واقعہ بتاتا ہوں، جب میں چھٹی کلاس میں تھا تومیرے والد نے مجھے اپنے ایک دوست کےگھر جانے اور ان سے ملنے ملانے سے منع کر دیا۔ بار بار منع ہونے پر میری پٹائی بھی ہوئی، تب میری سوچ بھی تمہارے جیسی ہی تھی۔ میری بھی خود اعتمادی، سیلف ریسپیکٹ اور خودداری مجروح ہوئی تھی مگر آج میں سوچتا ہوں تو سب سے پہلے اپنے والد کے لیے دعا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے ایک بہت بڑی دلدل میں پھنسنے سے بچا لیا، وہ اگر آج میرا دوست ہوتا تو میں آج ایک بہت بڑے منشیات فروش کا ساتھی ہوتا۔ بیٹا! باپ کی نظریں بہت گہری ہوتی ہیں، اس کے پیش نظر ہمیشہ اپنی اولاد کی بھلائی ہوتی ہے۔ بعض اوقات مجھ سے غلط فیصلے بھی ہوئے ہوں گے مگر اس کے پیش نظر ہمیشہ تمہاری بھلائی ہی رہی ہے۔
تم نے بجا لکھا ہے کہبابا! والدین کا اولاد کی شخصیت پر اثر ہوتا ہی ہے لیکن ایک بیٹا اپنی شخصیت کے غالب رنگ اپنے باپ سے ہی مستعار لیتا ہے۔ اس لیے احتیاط اور حساسیت کا دامن چھوڑے بغیر باپ کو اپنے بیٹے پر ویسا ہی یقین اور اعتماد رکھنا چاہیے جیسا وہ خود اپنی ذات پر رکھتا ہے۔بیٹا مجھے تم پر یقین ہے اور ہمیشہ رہےگا مگر میری پھر وہی بات ہے کہ باپ تو صرف تمہاری بھلائی چاہتا ہے وہ جس رنگ میں بھی ہو۔خوش رہو، جیتے رہو، تمہاری ہر خوشی ہی ہماری خوشی ہے، زندگی میں ہمیشہ کامیابیاں اور کامرانیاں تمہارا مقدر بنیں۔
 ،یہ تحریر اردو کی بڑی ویب سایئٹ دلیل ڈاٹ پی کے پر چھپ چکی ہے ، جہاں   چھپنے والی ایک تحریر بیٹے کا باپ کے نام ایک خط کے جواب میں لکھی گئی ،
نیچے دونوں تحریروں کے لنک موجود ہیں جہاں اسے  کلک کر کے پڑھا جا سکتا ھے

سوموار، 24 اگست، 2015

کریڈٹ کارڈ ، دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

15 تبصرے
سر ، ایک ضروری بات کرنی ہے آپ سے  ؟
جی ، آجائیں ، اس نے  آہستہ سے کرسی  سرکائی اور میرے سامنے بیٹھ گیا ، آفس میں بطور اسسٹنٹ کام کرنے والا نوجوان  مجھے کئی دنوں سے پریشان نظر آرہا تھا ،اس سے پہلے کہ  میں اس سے پوچھتا ،شائد وہ خود ہی بتانے کے لئے آگیا ،
 سر ۔۔۔۔۔۔ کچھ پیسوں کی ضرورت پڑ گئی ہے ،گھر میں کچھ پریشانی ہے ، میں نے پوچھا ،کتنے ؟
جی بیس ہزار ،  جی آئندہ تنخواہ پر لوٹا دوں گا ، میں نے پوچھا کہ تمہاری تنخواہ  توپندرہ ہزار ہے تم بیس ہزار کیسے لوٹا دو گے؟
بس جی اگلے ماہ ایک کمیٹی نکلنی ہے ۔
مجھے آج ہی اہلیہ نے پچیس ہزار روپے دیئے تھے بیٹی کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کے لئے ، میں نے اس کی مشکل حل کرنے کے لئے اسے دراز سے بیس ہزار روپے نکال کر دے دیئے ۔اس نے میرے شکریہ ادا کرتے ہوئے  دوبارہ بر وقت ادا کرنے کی یقین دہانی بھی کروا دی ۔ ابھی وہ کمرے سے نکلا ہی تھا کہ  دوسرا اسسٹنٹ آ گیا ، کہنے لگا ،سر کتنے پیسے لے گیا ؟
کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔ سر جی آپ تو بھولے بادشاہ او ، اس کا تو کام ہی یہی ہے ، کریڈٹ کارڈ بنوانے کا شوق تھا ، اب ادائیگیاں نہیں ہو رہی ہیں ، بنک والے پیچھے پیچھے اور یہ آگے آگے ، بس اب بھول جائیں اپنے پیسوں کو ، میں نے انہیں بتایا کہ وہ مجھ سے پیسے لینے نہیں بلکہ اپنے کارڈز کے سلسلہ میں مشورہ کرنے آیا تھا ۔
میں نے اسے اگلے دن بلالیا ، بھائی کیا بنا تمہاری پریشانی کا ؟ جی ۔۔ جی ، وہ    ۔۔۔ جی
بھائی مجھے اصل بات بتاؤ گے تو میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں گا ۔ وہ چند لمحے خلاؤں میں گھورتا رہا ، اچانک اٹھ کر زمین پر بیٹھ گیا اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگ گیا  ،میرے لئے یہ غیر متوقع صور حال تھی ، سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کروں ، میں نے جلدی سے دروازہ اندر سے لاک کر دیا ، اسے حوصلہ دیا  ۔۔۔۔ بس وہ ایک ہی بات کئے جارہاتھا ، سر مجھے بچا لیں ، میرے بہت چھوٹے بچے ہیں ، میں خود کشی کر لوں گا ، میرے بچے رل جائیں گے سر ۔۔۔۔ میں نے کہا کہ بھائی حوصلہ کرو ، کچھ بتاؤ گے تو بات بنے گی ناں ،
سر ۔۔۔ میں نے ایک کریڈٹ کارڈ بنوا لیا تھا ، تین لاکھ کا ، پہلے چند ماہ تو بہت مزا آیا ، بیوی اور بچوں کو لے خوب گھومے ، اسی کے  لون پر موٹر سائیکل بھی لے لی ، پھربیوی کی بہن کی شادی تھی ، بیگم کے کہنے پر جی بھر کے شاپنگ بھی کر لی اور اس کی بہن کے لئے تحائف بھی لے لئے  ،  بیگم کہنے لگی ،بنک کا کیا  ہے ، قسطوں میں ہی تو واپس کرنا ہے ،ایک سال تک تنخواہ سے جیسے تیسے قسطیں دیتا رہا ہوں ، ایک سال بعد دیکھا ، وہ تین لاکھ تو وہیں کہ وہیں  اور الٹا کچھ انٹرسٹ اور اوپر  چڑھ گیا ہے ،تنخواہ ان کو دیتا ہوں  تو کھانے کے لئے کچھ نہیں بچتا ، ان کو نہیں دیتا تو بنک ریکوری افسران گھر  آکر گالی گلوچ کرتے ہیں ، پچھلے ماہ بیوی کا کچھ زیور بیچ کر شارٹ قسطیں جمع کروائیں تو پتہ چلا وہ ساری رقم لیٹ پیمنٹ اور جرمانوں کی مد میں جمع ہو گئی ، سر میں تباہ و برباد ہو گیا ہوں ، میں بس اب خود کشی کرلینی ہے ، میں نے اسے حوصلہ دیا ،اسے اٹھا کر کرسی پر بٹھایا اور کہا کہ پہلے پانی پیو پھر بات کرتے ہیں ،اس کو حوصلہ دیا اور اس کے چائے بنوائی۔
اس کی ساری رام کہانی سننے کے بعد میں نے اسے کہا کہ اب حوصلہ کرے ، رونے کی ضرورت نہیں ،نہ ہی پریشان ہونے کی ، بنک کے اہلکار آئیں تو انہیں پیسے جمع نہیں کروانے بلکہ  انہیں مجھ سے ملوانا ہے ،  کچھ عرصہ قبل کراچی میں ایک نوجوان کے ساتھ اسی طرح کا المناک واقعہ پیش آیا جب بنک کے  ریکوری نمائندوں نے اسے ڈرایا دھمکایا اور اس کے گھر جاکر گالی گلوچ کی جس کے نتیجہ میں اس نے خود کشی کرلی  جس عدالت عالیہ نے نوتس لیا جس کے بعد سٹیٹ بنک آف پاکستان نے یہ قوانین  لاگو کردیئے کہ بنک کا کوئی بھی نمائندہ بغیر اپنے کلائینٹ سے  ایڈوانس اپوئنٹمنٹ کے اس کے گھر یا دفتر نہیں جا سکتا ، اس کے علاوہ اس کے کسی عزیز سے پوچھ کچھ نہیں کر سکتا اور اگر اس سے ملاقات ہو بھی تو دن کے اوقات میں ہو گی ۔ اگلے ہی دن اس نے بتایا کہ بنک کا ایک نمائندہ آیا ہے میں نے اس کو ملاقات کے لئے بلوا لیا ، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے اسٹیٹ بنک کے قوانین کا مطالعہ کیا ہے ، تم کس بنیاد پر اس کو اور اس کے گھر والوں ں کو ڈرا دھمکا رہے ہو ،جائیں ہم رقم ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ، آپ اپنے بنک کو بتا دیں کہ وہ بنکنگ کورٹ میں ہمارے خلاف دعویٰ کر دے ۔آپ نے ایک شریف آدمی کی ساری جمع پونجی بھی لوٹ لی ہے اور اسے ڈرا دھمکا بھی رہے ہو، ہم الٹا تمہارے خلاف کیس بنوائیں گے ، اسے بات کی سمجھ آ گئی ، اس نے اجازت لینے میں ہی عافیت جانی ،میں نے اسے کہا کہ اگر آپ نے اپنی رقم واپس لینی ہے تو کوئی پلان بنا کر لے آئیں،ہم اپنی سہولت کے مطابق آپ کو رقم واپس کردیں گے کیونکہ یہ ہمارے ذمہ ہے مگر آئندہ دھونس نہیں چلے گی ۔
"کریڈٹ کارڈ ایک شیطانی چال ہےلوگوںکوپھنسانےکی ،اس کا انجام صرف ڈیفالٹر کی شکل میں سامنے آتا ہے
اس وقت پاکستان میں ان ڈیفالٹرز کی تعداد لاکھوں میں ہوگی جو بے چارے گھر پر "نہیں ہوتے" فون پر "نہیں ہوتے" اور آفس یا کاروبار پر "نہیں ہوتے" کیونکہ ان سب کو بنک کے ہرکاروں کا ڈر ہوتا ہے جو کہلاتے تو ریکوری افسر ہیں لیکن دراصل " بھائی لوگ" یا "کن ٹٹے" ہوتے ہیں"
کریڈٹ کارڈ ایک دھوکہ کا نام ہے جس کے چکر میں ہزاروں لوگ اپنے گھر برباد کر چکے ہیں کیونکہ ایڈوانس رقم بغیر کسی محنت میں  حاصل ہوتی اس لئے اسی طرح خرچ ہو جاتی ہے ، پھر انسان  اس کی ادائیگی کرنے لے لئے اور اور کریڈٹ کارڈ بنوا لیتا ہے پھر اس کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے تو پھر دوستوں سے ادھا ، گھر کی اشیاء ، بیوی کے زیور تک بکنے کے لئے آجاتے ہیں مگر ادائیگیاں نہیں ہوتا اور انسان سود درسود کی دلدل میں دھنستا ہی چلا جاتا ہے ، پھر اگر بات عدالتوں تک چلی جائے تو وکلاء کے اخراجات ، پیشیوں پرپورے پورے دن کا ضیاع ،پھر سزا اورگرفتاری کا  خطرہ ۔
پھر اس کا حل کیا ہے ، بس اس کا حل یہی ہے کہ اپنے اخراجات کو محدود رکھیئے ، سود کو اللہ رب العزت نے اپنے سے جنگ قرار دیا ہے تو پھر کون اللہ سے جنگ جیت سکتا ہے،اس لئے سود سے بچیں لیکن اگر آپ اس چنگل میں پھنس چکے ہیں تو گھبرانے کی بجائے  ، ان کو ماہانہ ادائیگیوں کی بجائے کسی وکیل سے مشورہ کریں ، بنک والوں کے پاس آپ کو ڈارنے دھمکانے یا بلیک میل کرنے کا اختیا نہیں ، ان سے وعدہ کیجیئے ، ادائیگیوں کا پلان بنوائیں  ، یکمشت ادائیگی میں بنک تیس فیصد سے زیادہ چھوٹ دے دیتا ہے ،وہ بھی اصل زر میں سے ، سود سارا معاف ہو جاتا ہے ،تین یا چار قسطوں میں بھی بنک مان جاتا ہے اور چھوٹ بھی دے دیتا ہے،اگر بنک عدالت میں بھی چلا جائے تو عدالتیں حسب معمول پانچ پانچ سال لگا دیتی ہیں فیصلے کرنے میں ،ایسے میں کہیں نہ کہیں سے ، کوئی چھوٹی موٹی کمیٹی دال کر رقم کا بندوبست کریں اور جس موڑ پر چاہیں بنک کو کچھ لے دے کر اپنی چان چھڑوالیں کیونکہ سود بہت بری چیز ہے سب کچھ کھا جاتی ہے ،بس یاد رکھیں ڈرنا نہیں ،ایک غلطی کر لی  اب دوسری غلطی نہ کریں ،بنک سے براہ راست بات کریں لیکن  پہلے ہی چھوٹی چھوٹی قسطوں میں انہیں ادائیگی نہ کریں 

سوموار، 17 اگست، 2015

17 اگست 1988 ء کی خون آشام شام

5 تبصرے
سترہ  اگست 1988ءکی شام آٹھ بجے تھے ، میں اپنے دوست کے ہمراہ لاہور سے واپس آرہاتھا ، تب لاہور فیصل آباد کا سفر بھی تین گھنٹہ سے زیادہ طویل ہوتا تھا اس لئے کوچز شیخوپور ہ گزرنے کے بعد مانانوالہ کے قریب ایک چھپڑ ہوٹل پر ضرور رکتی تھیں اور مسافر چائے وغیرہ پی لیتے تھے ۔ کوچ کے رکتے ہی چائے والے کی پہلی آواز جو کانوں میں پڑی وہ یہ تھی "ضیاء الحق کا طیارہ تباہ"مسافروں کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا ،اک عجیب سی خاموشی پھیل گئی ، خبر ہی ایسی تھی کہ کسی کو یقین ہی نہیں آرہا تھا ۔دراصل ہم نے ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں جمہوریت تھی ہی نہیں ،1977ء کے عام انتخابات کے بعد اس وقت کی حکومت کے خلافانتخابات میں دھاندلیکروانے پر تحریک کا آغاز ہوا جو بعد میں مشہور زمانہ تحریک نظام مصطفیٰ   کا روپ اختیار کرگئی ،اس وقت ہم ساتویں یا آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے،جلسے جلوسوں کا شوق تھا ، روز انہ کی بنیاد پر جلوس نکلتا تھا ، پھر ایک دن گولی بھی چلی ، دو افراد اپنی جان سے بھی گئے ۔جنازے پر بھی پولیس نے ہوائی فائرنگ  کی ، بھٹو صاحب جو ان دنوں وزیر اعظم تھے  ، انہیں ایک انتہائی ظالم اور جابر انسان بنا کر پیش کیا جاتا تھا اس لئے سب لوگوں کی  ہمدردیاں تحریک کے ساتھ تھیں ، ایسے میں جب تحریک کے راہنماؤں اور بھٹو صاحب کے درمیان مزاکرات عروج پر پہنچے تو  ضیاالحق صاحب قوم کے نجات دہندہ بن کر آ گئے ، بھولی  بھالی قوم کو لگا جیسا طوفان رک گیا ،ملک میں امن و امان ہو گیا ، ویسے بھی ہم نے بڑوں سے سنا تھا کہ فوج کے آنے پر ہی اب امن ہو سکتا ہے ۔پھر ضیا صاحب ہی اس کے ملک مرد آہن بنگئے، اسلامائزیشن کا عمل شروع ہوگیا ،ملک کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر سارا دن کے گن گائے جاتے اور بھولی بھالی قومسب بھول کر ان کے گن گانے لگی ۔ہم لڑکپن سے جوانی کا فسر بھی شروع کر چکے مگر ان کا اقتدار تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لینا  چاہتا تھا ، سارا دن مرد مومن مرد حق کی صدائیں ہی آتی رہتیں ۔ان کےاقتدار کی طوالت پر تو فیصل آبادی جگت بازوں نے بڑے بڑے لطیفے بنا رکھے تھے ،ضیا صاحب ہر دو تین ماہ بعد سرکاری یڈیو ٹی وی  پرقوم سے خطاب کیا کرتے تھے ، کسی نے ایک فیصل آبادی سے پوچھا " بھائی صدر صاحب کا اقتدار کب ختم ہو گا ، اس نے جواب دیا ،آپ کو پتہ ہے وہ ہر دو تین ماہ بعد قوم سے خطاب کرتے ہیں اور اس چند آئتیں بھی پڑھتے ہیں ، اب حساب لگا لو پورا قرآن کتنے وقت میں ختم ہو گا"۔ کسی کا اتنا طویل اقتدار اور بھی آمر کا ، اس لئے جب ان کے طیارہ تباہ ہونے کی خبر سنی تو عجیب سا دھجکا لگا ،شائد کسی اتنے بڑے آدمی کی اس موت پہلی دفعہ سنی تھی ، اب تو دہشت گردی کی اس لہر نے بڑے بڑے نام نگل لئے ہیں ۔پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ قوم کی ان سے محبتکی نشانی تھی کیونکہ انہوں نے کچھ کام ایسے ضرور کئے جنہیں بھلایا نہیں جا سکتا ۔وہ ایک سچے عاشق رسول تھے ، روس کو اس کی سرزمین پر شکست اور پاکستان میں اسلامائزیشن کا عمل ان کے ایسے کارنامے ہیں جن پر فخر کیا جا سکتا ہے ۔ ان کے زمانہ میں تو صرف سرکاری ٹی وی تھا ، آج جب تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو صحافیوں ، ٹریڈیونین اور  طلبا تنظیموں کے نمائندوں پر حکومتی جبرو تشدد ، کوڑوں کی سزائیںایک ایسی کالک ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ان کی رحلت کے دو تین برس بعد اسلام آباد میں ان کی قبر پر جانے کا اتفاق ہوا ،میرے لئے اپنی زندگی میں ایک تجربہ تھا ، میں اپنے احساسات کو بیان نہیں کر سکتا کیونکہ جس شخص کو ہم نے اپنے بچپن سے جوانی تک اپنے پورے جلال میں دیکھا ،اس کی قبر پر جا کر جو احساس ہوا اس کو بیان کرناہی میرے لئے مشکل ہے ، وہ اب دنیا میں نہیں ہیں دعا ہے کہ اللہ کریم ان کو مغفرت کرے ۔

اتوار، 9 اگست، 2015

کپل آف فیصل آباد

8 تبصرے
 منفرد رہنے کی خواہش بعض اوقات انسان کو بہت دور تک لے جاتی ہے اور کچھ لوگ اس کے لئے کچھ ایسا بھی کر جاتے ہیں جو عام زندگی میں ممکن نہیں ہوتا ، بعض لوگ پہاڑیوں کی چوٹیوں سے چھلانگ لگا دیتے ہیں اور بعض اپنی شادی کی تقریبات گہرے پانیوں میں منعقد کروا کے اپنے آ پ کو دنیا سے منفرداور ممتاز  نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک جوڑا فیصل آباد میں بھی رہائش پزیر ہے جو سماجی تقریبات میں ایک جیسا لباس پہن کر شرکت کرتے ہیں اور اپنی انفرادیت کو برقرار رکھنے کے لئے اس کو مزید بہتر سے بنانے کے لئے کو شاں رہتے ہیں ۔ان کی اس انفرادیت کو دیکھتے ہوئے زندہ دلان فیصل  آباد نے انہیں "کپل آف فیصل آباد" کے  خطاب سے نواز رکھا ہے۔مسٹر اینڈ مسز ناصر حسین فیصل آباد کے رہائشی ہیں ، ناصر حسین کی جناح کالونی میں پلاسٹک کی کرسیوں اور دیگر سامان کی شاپ ہے ، اس سے قبل وہ الیکٹرنکس کا کامبھی کرتے تھے ۔ساٹھ سالہ ناصر حسین  اور شگفتہ ناصرتین جوان بیٹوں کے  والدین ہیں ۔ناصر حسین کا کہنا ہے کہ وہ اکثر فیصل آباد آرٹس کونسل کے زیر اہتمام ہونے والی سماجی تقریبات میں شرکت کرتے رہتے تھے ،ہماری ہر تقریب میں اکھٹے شرکت  پر ہمیشہ ہماری حوصلہ افزائی کی جاتی جس پر انہوں نے سوچا کہ کچھ ایسا کیا جائے جس پر ہماری انفرادیت قائم ہو ۔
میں نے اور میری اہلیہ نے فیصلہ کیا کہ ان سماجی تقریبات میں ایک جیسا لباس پہن کر شرکت کی جائے  تو پھر ہم نے ایک رنگ ،کڑھائی اور ڈیزائن کے لباس کا استعمال شروع کر دیا ۔شروع شروع میں ہمیں مذاق کا نشانہ بھی بنایا گیا مگر ہم اپنے اس عزم پر قائم رہے اور آہستہ آہستہ  ہماری یہ انفرادیت ہی ہماری اور ہمارے شہر کی پہچان بن گئی  پھر 2005ء میں ہونے والی ایک تقریب میں فیصل آباد کے شہریوں نے اپنی محبتوں سے نوازتے ہوئے ہمیں "کپل آف فیصل آباد" کے اعزاز دے دیا جو ہمارے لئے باعث فخر ہے ۔اسی اعزاز کی بنیاد پر پھر ہم نے  مختلف ٹی وی پروگراموں اور بیرون ملک اپنے شہر کی نمائندگی کی ۔انہیں اس پر بے حد خوشی ہے کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں لوگ انہیں  ان کے شہر کے نام سے پہچانتے ہیں ، لوگ ان کے ساتھ تصاویر کھنچواتے ہیں ،آٹو گراف لیتے ہیں  ۔

.