کسی زمانے میں چمنیوں کا شہر کہلوانے والا فیصل آباد آج دینا بھر میں ٹیکسٹائل سٹی کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کا اصل نام لائل پور تھا جو اس کو آباد کرنے والے انگریز گورنر سر چارلس جیمز لائل کے نام پر رکھا گیا تھا جسے ضیاء الحق کے زمانہ میں تبدیل کر کے سعودی فرماں روا فیصل بن عبد العزیز کے نام پر فیصل آباد کر دیا گیا ،اب بھی اس کے چاہنے والے اسے لائل پور کہنا ہی پسند کرتے ہیں مگر نئی نسل اس سے نا آشنا ہے۔ نصرت فتح علی خاں اور ارفع کریم کا یہ شہر اپنی صنعتی ترقی کی وجہ سے بہت اہمیت کا حامل ہے ، اسے ایشیا کا مانچسٹربھی کہا جاتا ہے ،کراچی اور لاہور کے بعد یہ پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے،شہر فیصل آباد کی تاریخ ایک صدی پرانی ہے۔ آج سے کم و بیش 100 سال پہلے جھاڑیوں پر مشتمل یہ علاقہ مویشی پالنے والوں کا گڑھ تھا۔ 1892ء میں اسے جھنگ اور گوگیرہ برانچ نامی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا۔ 1895ء میں یہاں پہلا رہائشی علاقہ تعمیر ہوا، جس کا بنیادی مقصد یہاں ایک منڈی قائم کرنا تھا۔ ان دنوں شاہدرہ سے شورکوٹ اور سانگلہ ہل سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مابین واقع اس علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان واقع دوآبہ رچنا کا اہم حصہ ہے۔ لائلپور شہر کے قیام سے پہلے یہاں پکا ماڑی نامی قدیم رہائشی علاقہ موجود تھا، یہ علاقہ لوئر چناب کالونی کا مرکز قرار پایا اور بعد ازاں اسے میونسپلٹی کا درجہ دے دیا گیا۔موجودہ ضلع فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ کرتے۔ اس زمانے کے انگریز سیاح اسے ایک شہر بنانا چاہتے تھے۔ فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ،جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا،لاہور جانے کے لئے تمام تاجر اور سیاح یہاں پڑا کرتے تھے،آہستہ آہستہ اس کی اہمیت بڑھتی گئی اور اس بڑھتی ہوئی اہمیت کا اندازہ ایک سیاح انگریز کو بہتر طور پر ہوا تو اس نے اِس شہر کو بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ اس کا نمونہ کیپٹن پوہم ینگ نے برطانیہ کے جھنڈے یونین جیک کی طرز پر ڈیزائن کیا۔ جھنڈے پر بنی آٹھ لکیروں کو ظاہر کرنے کے لے آٹھ بازار بنائے گئے اور ان کے عین وسط میں ایک بہت بڑا کلاک ٹاور تعمیر کیا گیا ،ان بازاروں کو بڑے عمدہ فنِ تعمیر سے تیار کیا گیا، انگریزوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ لائلپور کے آٹھ بازاروں کی صورت میں اپنی شناخت، برطانوی پرچم (یونین جیک) ہمیشہ کے لئے اس خطے میں امر کر کے جا رہے ہیں مگر یہاں کے باسیوں کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ برطانیہ کے پرچم کو صبح و شام اپنے قدموں تلے روندھتے رہیں گے۔
قیام پاکستان کے بعد شہر میں آہستہ آہستہ انڈسٹریل کاموں کا آغاز ہوتا گیا اور ملحقہ علاقوں میں سے لوگ شہر کی طرف آنا شروع ہو گئے۔1985میں اس شہر کوڈویژن کا درجہ دے دیا گیا جس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور فیصل آباد اضلاع شامل کیے گئے۔اب ضلع چنیوٹ بھی شامل ہو گیا ہے۔ضلع فیصل آباد کا کل رقبہ1280مربع کلو میٹر کے قریب ہے جبکہ اس کی آبادی تقریبا پچاس لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے اس طرح یہ کراچی اور لاہور کے بعد ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے۔
فیصل آباد کی تاریخ ، نمایاں افراد ، تعلیمی اداروں اور تاریخی مقامات کے بارے میں انشا ء اللہ اقساط میں لکھوں گا۔
اس پوسٹ کی تیاری میں مختلف تحقیاتی مقالہ جات ،ضلعی انتظامیہ اور تاریخی کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔
فیصل آباد کی تاریخی عمارات اور دیگر مقامات کی تصویریں دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں
جدید تھری ڈی ٹیکنالوجی سے فیصل آباد کے آٹھ بازار اور ملحقہ علاقے دیکھنے لئے یہاں کلک کریں
منگل، 11 مارچ، 2014
چمنیوں کا شہر ، فیصل آباد
rdugardening.blogspot.com
منگل, مارچ 11, 2014
15
تبصرے


اس تحریر کو
فیصل آباد ، مصطفےٰ ملک کا بلاگ ،
کے موضوع کے تحت شائع کیا گیا ہے
15 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔
.
فیصل آباد شہر سے میرا بھی ایک تعلق بنتا ھے کہ آج سے 26 سال پہلے عملی زندگی کا پہلا قدم فیصل آباد زرعی یونیورسٹی سے اٹھا تھا۔ بہت خوب
بہت معلوماتی مضمون ہے . بتانے کاشکریہ
بہت اعلی شہر اور خوبصورت تحریر و عکاسی
آپ نے تو گھر بیٹھے ہمیں فیصل آباد کی سیر کرادی،زندگی میں ایک بار جانے کا اتفاق ہوا لیکن،وہ بھی ایک ایمرجنسی صرتحال میں اب تو اس ہاسپٹل کا نام بھی یاد نہیں لیکن اس کا نقشہ تھوڑا تھوڑا ذہن میں موجود ہے
بہت مفید بلاگ ہے۔ + ئندہ اقساط سے مزید معلومات ہوں گی۔
فیصل آباد میں بہت مختصر قیام رہا مگر تھوڑے وقت میں مصطفیٰ بھائی نے بہت کچھ دکھا دیا تھا، خاص کر مین گھنٹہ گھر چوک ، اس کی تاریخ اور یونین جیک کی طرز کے بازار۔ آج آپ کی تحریر میں لائل پور کی تاریخ کے بارے میں جان کراور بھی معلومات حاصل ہوئیں۔
کوئی سات آٹھ گھنٹے میں بھی فیصل آباد میں گزار چکا ہوں اس لیے میرا بھی تعلق گنا جائے۔ ویسے یہ بہت اچھا سلسلہ ہے ہم سب کو اپنے اپنے شہروں بارے لکھنا چاہیے
میرا ویسے بھی ارادہ ہے اگر کبھی موقع ملا تو تمام پاکستان کے شہروں بارے تصویری کتاب چھاپوں گا
بہت اعلیٰ سر، خوبصورت تحریر
فیصل آباد کا چھوٹا سا مگر ایک یادگار سفر میں نے بھی کیا، اورمختصر سے وقت میں ملک صاحب نے ہمیں اس شہر کی تاریخ بتائی۔ شکریہ سر
فیصل آباد کا تاریخی احوال بہت عمدگی سےاور مختصر الفاظ میں بیان کیا۔ لیکن فیصل آباد کا "حال" بھی ہمارے دوسرے گنجان آباد شہروں کی طرح اتنا عمدہ نہیں ۔ اس شہر میں اکثر سفر کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔مذہبی رجحان کے حوالے سے یہ شہر مجھے بہت متاثر کرتا ہے۔ موٹر وے سے اس شہر میں داخل ہوتے وقت سب سے پہلے نظر دعاؤں کے بڑے بڑے بل بورڈز پر پڑتی ہے تو شہر کا پہلا تاثر بہت سکون دیتا ہے۔
شکریہ
فیصل آباد وہ واحد شہر ہے جہاں گھوڑوں کی لِد کو محو پرواز دیکھا ہے۔ امید ہے اب فیکٹریاں بند ھونے کے بعد کچھ صاف ستھرا اور پلوشن سے پاک ھو گیا ہوگا۔
فیصل آباد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا شکریہ۔ مزید تحاریر کا انتظار رہے گا۔ ویسے آپ کی وساطت سے آٹھ بازار اور گھنٹہ گھر ہم نے بھی دیکھ لیا تھا۔
شکریہ ۔ بلال بھائی ۔ آپ کی آمد نے میرے بلاگ کو چار چاند لگا دیئے ہیں ،
شکریہ ، جوانی پٹا ۔۔۔۔۔۔ واقعی پہلے ایسا ہی تھا مگر اب وہ والا فیصل آباد نہیں رہا ، موقع ملے تو ضرور چکر لگایئے گا
ماشاء اللہ !
حق بنتا تھا کہ میری جائے پیدائش کا آپ اس انداز میں تعارف فرماتے ، :)
جس کے لئے آپ بے پناہ محبت اور ستائش کے مستحق ہیں ۔
پکا ماڑی یا پکی ماڑی حالی وی ہے گی وا
ابوُ احمد مدنی
جی ابواحمد منی ، پکی ماڑی کا علاقہ شہر کے قریب ترین ہے اب بھی،طارق آباد کے علاقہ میں اور وہیں بابا نور شاہ ولی کا مزار بھی ہے،روایات کے مطابق پکی ماڑی اس کا سب سے ابتدائی حصہ ہے جو اس شہر کے وجود سے آنے سے موجود ہے