‏Mustafa Malik لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Mustafa Malik لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 21 فروری، 2018

اخوت ،خواب سے تعبیر تک

0 تبصرے

میری اس سے پہلی ملاقات سالوں پہلے چنیوٹ میں ایک این جی او کی میٹنگ میں ہوئی جہاں وہ اس وقت اسسٹنٹ کمشنر تعینات تھے ، انہوں نے عمر حیات محل چنیوٹ کو ممکنہ حد تک اس کی اصل حالت میں واپس لانے کے لئے تزئین و آرائش کا کام شروع کروا رکھا تھا، چنیوٹ جیسے شہر کے باسیوں کے لئے یہ ایک دلچسپ اور حیرت انگیز تجربہ تھا کہ ایک بیو روکریٹ کو ایک ایسی عمارت کی تزئین و آرائش کا خیال کیوں کر آرہا ہے جس کی قیمتی کھڑکیاں اور دروازے تک لوگ اکھاڑ کر لے جا چکے ہیں جبکہ اوپر کی منزلوں سے ایک دو بالکل منہدم ہو چکی تھیں ۔میں نے ساتھ بیٹھے دوست سے کہا مجھے اس بندے کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک نظر آرہی ہے ، مجھے یہ افسر نہیں ولی اللہ لگ رہا ہے ،زندگی رہی تو دیکھنا ایک دن یہ بندہ کوئی بہت بڑا کام کرے گا اور آج میں اپنے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر حیران ہو رہا ہوں کہ اللہ کا یہ بندہ پاکستان بھر میں بلا رنگ و نسل اور مذہب 25لاکھ گھرانوں کو 55ارب سے زائد کی رقم قرضہ حسنہ دے کر انہیں بھیک منگتا بنانے کی بجائے انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرچکا ہے۔ یہ دنیا بھر میں قرض حسنہ کے لئے چلائی جانے سب سے بڑی این جی او اخوت کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب ہیں ۔ڈاکٹر امجد ثاقب نے امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے اعزاز کے ساتھ پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرزکی ڈگری حاصل کرکے ایک بڑی سرکاری نوکری حاصل کی،ترقی کی منازل طے کرتے یک لخت سرکاری ملازمت کو خیرباد کہہ کرانتہائی بے سروسامانی کے ساتھ ٹاؤن شپ لاہور کی ایک کیچڑ بھری بستی میں ایک لکڑی کے کیبن میں اس تنظیم کا دفتر بناکر اُن غریبوں کا جو بھیک مانگ کر نہیں، بلکہ محنت سے کما کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہوناچاہتے ہیں، سہارا بننے کے لئے اس پرُ خار وادی میں اُتر گیا اور آج بھی جبکہ یہ تنظیم اپنے پاؤں پر مضبوطی سے کھڑی ہو چکی ہے اور اربوں کا لین دین کرتی ہے اورجس کو وہ اپنے وقت کا تین چوتھائی حصہ دیتا ہے، وہ اس سے ایک روپیہ بھی بطور تنخواہ یا اعزازیہ نہیں لیتا ۔

اخوت اور ڈاکٹر امجد ثاقب پر اب تک اتنا لکھا جا چکا ہے اور ڈاکٹر صاحب کو اتنے سر کاری، غیر سر کاری،قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے اور وہ عزت اور شرف کے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ میں اب کچھ بھی لکھ دوں تو اُن کی عزت، شہرت اور مقام میں مزیدکوئی اضافہ نہیں کر سکتا، ڈاکٹر امجد ثاقب ایک لازوال کردار اوربامقصدخدمت خلق کا جذبہ رکھنے والوں کے لئے ایک رو ل ماڈل ہیں۔ہر چند کہ پاکستان میں بے شمار لوگوں نے غریبوں، مریضوں، یتیموں اور بے وسیلہ لوگوں کے لئے انتہائی قابل قدر کام کئے ہیں اوران کی جتنی بھی ستا ئش کی جائے کم ہے لیکن اخوت اور ڈاکٹر امجد ثاقب اس لحاظ سے اُن میں نمایا ں اور ممتاز ترہیں کہ انہوں نے ملک کے غریب اور بے وسیلہ لوگوں کی کسی وقتی ضرورت کو پورا کرنے کی بجائے انہیں کوئی کاروبار کرکے اپنے پاؤں پر کھڑاہونے میں مدد دی تاکہ وہ اپنی اور اپنے بچوں کی ضروریات خود پوری کریں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے دس ہزار روپے کے معمولی سرمائے سے غریب لوگوں کو بلا سود قرضے دینے کا آغاز کیا۔ آج ان کا ادارہ سود کے بغیر چھوٹے قرضے دینے والا دنیا کا ایک بہت بڑا ادارہ بن چکا ہے۔ اخوت تنظیم بلا سود قرضوں اور پیشہ وارانہ رہنمائی کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے غریب لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ اخوت نادار اور ضرورت مند لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے کے لیے بیس سے پچاس ہزار تک کے بلا سود قرضے فراہم کرتا ہے۔ یہ قرضے بغیر کسی لمبی چوڑی تفتیش کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک سادہ درخواست اور شخصی ضمانت کے ذریعے دیے جاتے ہیں۔گزشتہ سترہ برسوں میں اخوت تنظیم پچپن ارب روپے مالیت کے بلا سود قرضے غریب اور پسماندہ لوگوں میں تقسیم کر چکی ہے۔ اخوت کے قرضوں سے اب تک پچیس لاکھ سے زائد غریب خاندان مستفید ہو چکے ہیں۔ پاکستان بھرمیں اخوت کی پانچ سو سے زائدشاخیں قائم کی جا چکی ہیں۔ اخوت کی خدمات کا دائرہ چاروں صوبوں کے علاوہ فاٹا، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں تک پھیل چکا ہے۔اس سلسلے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اخوت کے قرضوں کی واپسی کی شرح تقریبا ننانوے فیصد ہے اور یہ قرضے اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بھی حاصل کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کہتے ہیں کہ پاکستانیوں کی معاشی مشکلات کا پائیدار حل غیر ملکی امداد سے ممکن نہیں، بھیک مانگنے والی اقوام کبھی ترقی نہیں کر سکتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اقتصادی حالات کی بہتری کے لیے پاکستانیوں کو ہی اٹھنا ہوگا۔ غربت کے خاتمے کے لیے یہاں لوگوں کو سماجی آگاہی، کپیسٹی بلڈنگ، کاروباری تربیت اوردوسروں کی مدد کرنے والی رضاکارانہ سوچ سے مزین کرنا ہوگا۔ ان کے خیال میں اگر پچاس فیصد پاکستانی بقیہ پچاس فیصد پاکستانیوں کی مدد کا مخلصانہ تہیہ کر لیں تو لوگوں کی مشکلات میں بہت حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔اپنا تجربہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی دیانتدار قوم ہے، اسی لئے تو لاکھوں لوگ چھوٹے چھوٹے قرضوں سے اپنے کاروبار سیٹ کر کے ہمیں قرضے واپس کر رہے ہیں بلکہ اخوت کے ڈونر بن رہے ہیں۔

جمعرات، 10 نومبر، 2016

خزیمہ نصیر کی موت کا ذمہ دار کون ؟ حکمران یا والدین

0 تبصرے
پنجاب کے چھوٹے سے شہر ڈسکہ سے جرمنی جانے والا پچیس سالہ خزیمہ نصیر جرمنی کے ہسپتال میں بے کسی کی حالت میں صرف ایک دفعہ اپنے والدین تک پہنچ چانے کی خواہش دل میں لئے اپنی زندگی کی بازی ہار گیا،آنکھوں میں سہانے مستقبل کے خواب سجائے حزیمہ ایک سال سال قبل ایران، ترکی،یونان اور یورپ کے دیگر راستوں سے ہوتا ہوا جرمنی پہنچا تھا اس بھیانک اور طویل سفر کے دوران ایرانی بارڈر پر وہ اور اس کے ساتھی پکڑے بھی گئے اور حزیمہ کی ایک ٹانگ میں گولی لگ گئی اور وہ ایران کے ایک ہسپتال میں زیر علاج بھی رہا،اس کے ساتھی تو ملک بدر کر دیئے گئے مگر اس کو آزاد کر دیا گیا۔ اس نے سفر جاری رکھا اور یورپی ممالک کے غیر قانونی راستوں سے سفر کرتا ہوا جرمنی پہنچ گیا۔جرمنی آنے کے صرف چندماہ بعد ہی اسے شدید بخار ہوا اور اس کی ایک ٹانگ بہت زیادہ سوج گئی تھی۔ یہ اس کی وہی ٹانگ تھی، جس پر ایران میں اسے گولی لگی تھی۔ جب اسے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تو تفصیلی معائنے پر بتایا چلا کہ وہ سرطان کا مریض ہے۔ ہسپتال میں ایک ماہ تک زیر علاج رہنے کے بعد اسے کولون کے ایک بڑے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس ہسپتال میں ڈاکٹروں کو پتہ یہ چلا کہ خزیمہ نہ صرف ہڈیوں کے سرطان میں مبتلا ہے بلکہ اس کی یہ بیماری تب تک بہت خطرناک حد تک پھیل چکی تھی۔ پھر سرطان کے علاج کے لیے اس کی کئی طرح کی کیموتھراپی بھی کی گئی لیکن کینسر بڑھتا گیا اور آخر کار ڈاکٹروں کو اسے بتانا پڑا کہ وہ اس کا مزید علاج نہیں کر سکتے تھے۔ اپنا آخری وقت اپنے والدین کے ساتھ گزارنے کی خواہش لئے نو مارچ 1992ء کو ڈسکہ میں پیدا ہونے والا خزیمہ جو ابھی 25 برس کا بھی نہیں ہوا تھا کہ جمعہ چار نومبر کو صبح 10 بج کر 48 منٹ پر خزیمہ اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگیا۔جرمنی میں رہنے والے چند درمند پاکستانیوں نے اس کی والدہ کو جرمنی بلانے کے لیے ویزے کے حصول کی کارروائی بھی شروع کی مگر قانونی پیچیدگیوں کے باعث مکمل نہ ہو سکی اس پردیس میں ایک نوجوان اپنوں کو پکارتا اللہ کے حضور پہنچ گیا ۔
خزیمہ کی موت نے مجھ جیسے لاکھوں لوگوں کو رونے پر مجبور کردیا۔خزیمہ کے بارے میں مجھے معلومات ایک سرچ کے دوران جرمنی کی سرکاری اردو ویب سائیٹ سے ملیں۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ بدقسمت حزیمہ کی موت کا ذمہ دار کون ہے ،ہمارے حکمران یا اس کے والدین۔ریاست کے ہر شہری کی تعلیم ،روزگار اور کفالت کی ذمہ دار حکومت ہوتی ہے،اگر حکمران حزیمہ اور اس جیسے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کر دیں تو شائد کوئی اور حزیمہ اپنی ماں کے زیور فروخت کرکے سہانے مستقبل کے خواب سجائے پردیس نہ جائے ، ماں باپ کیا کریں ،جس باپ کو بڑھاپے میں اس لئے نیند نہ آتی ہو کہ چار جوان بیٹیوں کے جہیز کا کس طرح بندوبست کرنا ہے تو اس کا بیٹا اپنے والدین کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا پھر اس کے پاس پھر ایک ہی حل ہے یا تو گن اٹھا کر ڈاکو بن جائے یا پھر خزیمہ کی طرح دھکے کھاتا جرمنی چلا جائے اور پھر پھر ہمیشہ ہمیشہ کے ماں باپ سے دور ہوجائے ۔اب بھی وقت ہے کہ حکمران اور اپوزیشن دھرنا دھرنا کھیلنے کی بجائے عوام کو ریلیف دیں تاکہ آئندہ کوئی اور حزیمہ پردیس میں ایڑیاں رگڑرگڑ کر مرنے پر مجبور نہ ہو۔یاد رکھنا اگر حکمرانوں اگر آپ یہ نہ کر سکے تو روزقیامت خزیمہ کی ماں کا ہاتھ ہوگا اور آپ کا گریبان ہوگا۔
وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور میرٹ کے قتل عام نے ملک میں ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا جس نے دہشت گردی کو بھی پروان چڑھایا ،عوام کو تعلیم صحت ،روز گار انصاف اور چھت کی سہولت دینا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے مگر کسی حکومت نے بھی اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا جس کی وجہ سے آج کا نوجوان بے چینی ،مایوسیوں اور محرومیوں کا شکار ہو کر بیرون ملک جانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں خزیمہ نصیر جیسے واقعات جنم لیتے ہیں
یہ تحریر اردو کی بڑی ویب سائٹ دلیل ڈاٹ پی کے پر بھی شائع ہو چکی جو درج ذیل لنک سے پڑھی جا سکتی ہے

منگل، 25 نومبر، 2014

اردو بلاگر ،مینار پاکستان پر جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں

10 تبصرے
جماعت اسلامی  کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں آرمی کے بعد یہ سب سے زیادہ منظم تنظیم ہے۔جماعت اسلامی نے مینار پاکستان پر اجتماع عام کا اعلان کیا تو جماعت اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم کے مرکزی ناظم شمس الدین نے اردو بلاگرز کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے مجھے مینار پاکستان پر ہونے والے کل پاکستان اجتماع عام کے سوشل میڈیا کیمپ میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے دیگر اردو بلاگرز کو بھی شرکت کا پیغام پہنچانے کا کہا۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ ہر ایک سے فوری رابطہ نہ ہو سکا۔ پاک اردو انسٹالر کے خالق محمد بلال محمود، جو سوشل میڈیا پر ایم بلال ایم کے نام سے ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں اور اردو کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں، میں نے ان سے بات کی اور کہا کہ اپنے ساتھیوں سمیت اجتماع کے سوشل میڈیا کیمپ کا دورہ کریں۔ کچھ بلاگرز کراچی سے پہلے ہی لاہور آئے ہوئے تھے جن میں کاشف نصیر، وقار اعظم،اسد خان،رضی اللہ اور دیگر کئی ایک شامل تھے۔ ایم بلال ایم نے ہنگامی طور پر چند احباب سے رابطہ کیا اور لاہور سے عاطف بٹ اور محمد عبداللہ سمیت کئی بلاگرز پاک ٹی ہاؤس میں اکٹھے ہوئے۔ اس کے علاوہ کئی احباب پہلے سے اجتماع میں موجود تھے۔ جن میں فتح جنگ سے ڈاکٹر اسلم فہیم،لاہور سے عمران ظہور غازی،فیصل آباد سے غلام اصغر ساجد اور راولپنڈی سے انعام الحق اعوان شامل تھے۔ سب نے مل کر جماعت اسلامی کے سوشل میڈیا کیمپ کا دورہ کیا۔ محترم شمس الدین نے اردو بلاگرز کا بڑا ہی پرتپاک استقبال کیا۔ اپنی سوشل میڈیا ٹیم اور ان کے کام کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ سب بلاگرز کے لئے بڑا ہی منفرد تجربہ تھا کیوں کہ جماعت اسلامی کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر ہے کہ یہ ایک روائتی مذہبی جماعت ہے جو شائد اس قسم کے جھمیلوں سے دور ہی رہتی ہو، کیمپ کا منطر واقعی حیران کن تھا،پانچ سو زائد افراداپنے اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف کار تھے ، بڑے منظم انداز میں بیٹھے تمام افراد فیس بک ،ٹویٹر اور دیگر سوشل سائٹ پر اجتماع میں ہونے پروگرامات کی اپ لوڈنگ کر رہے تھے۔ ہماری موجودگی کی اطلاع پر جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم بھی کیمپ میں آگئے اور ہمیں خوش آمدید کہا اور اجتماعات کی تفصیلات،پروگرامات اور انتظامات سے
آگاہ کیا ،شمس الدین نے بڑی پر تکلف تواضع کی۔ یہاں سے اردو بلاگرز تو لاہور میں موجود معروف اردو بلاگر نجیب عالم کی طرف سے ان کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ میں شرکت کے لئے چلے گئے لیکن میں اور میرے ایک دوست نے فیصلہ کیا کہ اجتماع کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور عام افراد سے مل کر ان کی رائے لی جائے ۔ہم نے عجیب منظر دیکھا،مینار پاکستان کے پورے گراﺅنڈ کو ایک منظم شہر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ایک شہر کی طرح گلیاں ،بازار ، دکانیں ،رہائش گاہیں موجود تھیں ، ہر کیمپ پر شناخت کے لئے متعلقہ ڈویژن اورضلع کا نام تحریر تھا ،عارضی طور پر بنے ہوئے سینکڑوں کی تعداد میں بیت الخلا اور وضو گاہیں جماعت اسلامی کے منظم کارکنوں کی تربیت کی گواہی دے رہی تھیں۔ایک ستر سالہ بزرگ بیت الخلا کی طرف جاتے ،وہاں سے خالی لوٹا اٹھاتے اور نیا بھرا ہویا لوٹا اس کے باہر رکھ دیتے ہمارے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا ۔ میں نے پوچھا باباجی ! یہ جماعت اسلامی والوں نے آپ کو اس عمر میں کس کام پر لگا دیا ، خیبر پختون خواہ کے دور افتادہ گاﺅں سے تعلق رکھنے والے اس بزرگ کے جواب نے ہمیں لاجواب کردیا،ٹوٹی پھوٹی اردومیں کہنے لگے مجھے کسی نے نہیں کہا اس کام کے لئے ، میں خود اس کام کو سرانجام دے رہاں ہوں کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہو جائے اور جنت میرے لئے آسان ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا اللہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں ،نماز کا وقت ہوتا ہے تو سارے کام چھوڑ کر نماز کے لئے دوڑ پڑتے لیکن جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ کھانے پر جماعت اسلامی کے کارکنوں کا نظم و ضبط اور بر وقت ترسیل ، مغرب اور عشاءکی درمیانی ایک گھنٹہ میں وہاں پر موجود لاکھوں افراد کو بیک وقت کھانے کی فراہمی ایک ایسا منفرد تجربہ تھا جو شائد پھر کبھی حاصل نہ ہو سکے۔ مرکزی کچن سے ایک سو سے زائد گاڑیاں ایک دم رہائشی کیمپوں پر پہنچ جاتیں اور وہاں موجود کھانے کی تقسیم کے ذمہ دار ان اس کو ایسے تقسیم کر دیتے کہ کوئی محروم نہ رہتا اور اگلے پھیرے میں وہی گاڑیاں خالی دیگیں مرکزی کچن واپس لے جاتیں اس طرح ایک گھنٹہ میں لاکھوں افراد کھانا کھا لیتے ۔سینکڑوں کارکن جو صفائی کی ڈیوٹی پر مامور تھے بڑے بڑے پلاسٹک بیگ لئے اور ہاتھوں پر پلاسٹک دستانے چڑھائے خیموں کے اس شہر میں ہمہ وقت موجود تھے ،ادھر کسی نے کاغذ کا بھی کوئی ٹکڑا گرایا ،فوراً ہی اچک لیا۔ایک صاحب نے ہمیں بتایا کہ یہ بندہ جو صفائی والا بیگ اٹھائے پھر رہا ہے ، سابق رکن اسمبلی ہے ،بس ڈیوٹی لگ گئی تو کام شروع کر دیا۔ جماعت اسلامی کے اس اجتماع میں ملک کے طول و عرض سے آئے لوگوں میں دو ماہ کے بچے سے لے کر نوے سال تک کی عمر کے بزرگ نظر آئے ، چمکتے چہروں والے جماعت اسلامی کے کارکنوں کا جذبہ دیدنی تھا میرے لئے یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو شائد میں ساری عمر نہ بھلا سکوں۔جماعت اسلامی کے ایک ذمہ دار سے میں نے پوچھا،اب جب کروڑوں روپیہ ایک حلقہ میں خرچ کر کے لوگ رکن اسمبلی منتخب ہوتے ہیں ،آپ کیسے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں تو انہوں نے فوراً کہا کہ ہمارا امیر کرائے کے مکان میں رہتا ہے ،دو دفعہ صوبے کا سنیئر وزیر رہ چکا ہے،بات پیسہ کی نہیں لوگوں کے سمجھ میں آنے کی ہے ، جماعت اسلامی کے درجنوں افرادسن ستر سے اسمبلیوں اور سینٹ میں موجود رہے ہیں،کیا کبھی جماعت اسلامی کے کسی ایک رکن پر بھی کرپشن کا داغ کسی نے دیکھا ہے،بس لوگ ایک دفعہ ہمارا ساتھ دیں ،انشاءاللہ پاکستان کی تقدیر ہی بدل دیں گے ، ہم نیا پاکستان نہیں بلکہ اسی کو اسلامی اور خوشحال پاکستان بنا نا چاہتے ہیں ،ہم اپنے لئے نہیں بلکہ اللہ کا نظام قائم کرنے کے لئے حکومت کرنا چاہتے ہیں اور دیکھنا ایک دن ہمارا یہ خواب پورا ہوگا،ویسے میری رائے ہے کہ اگر پاکستان کے لوگوں نے زرداری اور شریف خاندان جیسے لوگوں کو منتخب کیا ہے ،انہیں بھی ایک موقع ضرور دینا چاہئے ۔




جمعہ، 6 دسمبر، 2013

مائی جھوٹ بولتی ہے

6 تبصرے
ساٹھ سالہ رشیداں بی بی تین چار سال پہلے میرے پاس آئی تھی، اس کے ساتھ اس کا بیٹا اور بہو تھے، رشیدہ بی بی ساہیوال کے قصبے یوسف والا کی رہنے والی تھی، اس کے بیٹے نے گاؤں کے با اثر گھرانے کی لڑکی سے لو میرج کر لی تھی اور وہ جان کو خطرے کی وجہ سے لاہور میں کہیں پناہ لئے ہوئے تھے، رشیداں بی بی نے بتایا کہ اس کی بہو کے ورثاء اسے اٹھا کر لے گئے تھے اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا،انہوں نے اس کے بوڑھے خاوند پر بھی جھوٹا مقدمہ بنا کر ساہیوال جیل میں بند کرا رکھا تھا، یوسف والا میں اسکی جواں سال بیٹی جو بی اے کی طالبہ تھی جان اور عزت بچانے کے لئے اپنے ہی گھر کے ایک کمرے میں قیدی بن کر رہ رہی تھی، اس خاندان کی مدد کو گاؤں کا کوئی شخص سامنے نہیں آیا تھا، پولیس رشیدہ بی بی سے اجتماعی زیادتی کا پرچہ کاٹنے کی بجائے اسے خوفزدہ کر رہی تھی کہ وہ اپنے بیٹے اور بہو کو پیش کردے ورنہ اس کی طالبہ بیٹی کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو اس کے ساتھ کیا گیا۔۔۔
رشیدہ بی بی اپنے اور اپنے خاندان کے ساتھ گزرنے والی کسی قیامت کو کسی ٹی وی چینل پر چلوانا چاہتی تھی نہ کسی اخبار میں چھپوانا،،،،، وہ انصاف چاہتی تھی۔۔ لیکن کوئی عدالت کوئی تھانہ اس کے لئے نہیں بنا تھا، روزانہ وقوع پذیر ہونے والےاس طرح کے سیکڑوں،ہزاروں واقعات تو تماشہ ہوتے ہیں ۔ جنہیں ہم بڑی دلچسپی سے دیکھتے اور سنتے ہیں۔۔
میں نے ساہیوال میں دی نیوز کے نمائندے علمدار حسین شاہ کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ رشیدہ بی بی کی مدد کرے، میں نے اس خاتون کی آئی جی سے ملاقات بھی کروائی، لیکن نتیجہ کوئی نہ نکلا، رشیدہ بی بی در بدر رہی
دو تین مہینے گزر گئے، رشیدہ بیگم آئی نہ اس کی کوئی کال،پھر جب وہ آئی تو اس حالت میں کہ اسے دیکھا نہیں جا سکتا تھا، اس کے چہرے پر تیزاب ڈال دیا گیا تھا، پولیس اس کامقدمہ بھی نہیں درج کر رہی تھی، ساہیوال پولیس کا کہنا تھا کہ مائی ڈرامے کر رہی ہے،اپنے اوپر تیزاب بھی اس نے خود اپنے اوپر ڈالا ہے
رشیدہ بی بی اپنی بپتا مجھے سنا رہی تھی کہ اسی دوران پنجاب اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر راجہ ریاض میرے کمرے میں آ گئے، میں نے رشیدہ بی بی سے کہا کہ اچھا ہوا کہ آپ کی موجودگی میں راجہ صاحب آ گئے، شاید یہ آپکی کوئی مدد کر سکیں۔۔ میں نے راجہ صاحب کے کرسی پر بیٹھتے سے پہلے ہی انہیں رشیدہ بی بی کی کہانی سنادی، انہوں نے اپنے سیکرٹری سے کہا۔۔۔ ڈی پی او ساہیوال کا نمبر ملاؤ۔۔۔۔۔ راجہ  صاحب نے ڈی پی او سے رشیدہ بی بی کی بابت پوچھا اور پانچ سیکنڈ میں ہی جواب سن کر موبائل سیکرٹری کو واپس کرتے ہوئے کہا
!
!
مائی جھوٹ بولتی ہے
اور پھراس واقعہ کے چند دن بعد ہی رشیدہ بی بی کے بیٹے کی کال آئی۔۔۔۔۔


ماں مر گئی ہے جی


اس تحریر کے راوی معروف صحافی اور دانشور خاور نعیم ہاشمی ہیں جو آج کل جیو نیوز نیٹ ورک سے منسلک ہیں

پیر، 25 فروری، 2013

ھائے کرپشن

4 تبصرے
وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے بعض وزرا اور اہم شخصیات کے شدید دبائو پر حکومت کی مدت پوری ہونے سے 23 روز قبل 40ارب روپے کی سبسڈی اور باقاعدہ طریقہ کار کے تحت منظور نہ ہونے والے بعض منصوبوں کی 2 ارب روپے کی ادائیگیوں سے انکار پر موجودہ دور حکومت کی سب سے طاقتور ترین سمجھی جانے والی بیورو کریٹ وفاقی سیکرٹری نرگس سیٹھی کو تبدیل کرکے ان کی جگہ صدر زرداری پر نواز شریف دور میں بننے والے کرپشن کے مقدمات کے شریک ملزم اور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر کے طور پر آصف زرداری کیلیے پی ایس او کی خدمات انجام دینے والے گریڈ 21کے جونیئر افسر رائے سکندرکو پانی و بجلی کی وزارت کاقائمقام سیکرٹری مقرر کر دیا جبکہ وزارت کے اسپیشل سیکرٹری حمایت اللہ خان گریڈ 22 ‘ایڈیشنل سیکرٹری ارشد مرزا بھی نئے قائمقام سیکرٹری سے سینئر ہیں۔  انتہائی ذمہ دار حکومتی ذرائع کے مطابق نرگس سیٹھی سے نہ صرف وفاقی وزیر پانی و بجلی چوہدری احمد مختار ،وفاقی وزیر امورکشمیر منظور وٹو بلکہ کئی انتہائی اہraja-parveez-asharafم شخصیات بھی ناراض تھیں جس پر نرگس سیٹھی نے خود وزیراعظم کودرخواست کی تھی کہ ان سے وزارت پانی و بجلی کا چارج واپس لیا جائے ۔کابینہ ڈویژن کی سیکرٹری نرگس سیٹھی جنہیںچندماہ قبل ظفر محمودکی جگہ پانی وبجلی کی وزارت کی سیکرٹری کا اضافی چارج دیا گیا تھا، نے چارج سنبھالنے کے بعد وزارت پانی و بجلی،این ٹی ڈی سی سمیت دیگراداروں میں اربوں روپے کی کرپشن روکنے کے لیے اہم اقدامات کیے،  جبکہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرانے، شہری اور دیہی علاقوں میںمساوی لوڈشیڈنگ کرنے کے اقدامات جبکہ وزارت میںبجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوںکے سی ای اوز کے ساتھ روزانہ 2 مرتبہ ویڈیوکانفرنس کے ذریعے لوڈ شیڈنگ کی تازہ صورتحال اور کار کردگی کا جائزہ لیتی رہی ہیں، وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے ایکسیئنز اور ایس ڈی اوز کے تبادلوں کی سفارشیںبھی مستردکر دیتی تھیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر پانی و بجلی چوہدری احمد مختار نے نرگس سیٹھی کو سفارش کی تھی کہ این ٹی ڈی سی کے ایم ڈی کے عہدے پر گوجرانوالہ ڈسٹری بیوشن کمپنی کے قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسر محبوب عالم کو تعینات کیا جائے اور محبوب عالم کی جگہ سپرنٹنڈنٹ انجینئر جاوید آزاد کو چیف ایگزیکٹو آفیسر لگایاجائے جس پر نرگس سیٹھی نے یہ کہہ کر وفاقی وزیر کے احکامات ماننے سے انکارکر دیا کہ محبوب عالم ایم ڈی کے عہدے کے لیے انتہائی جونیئر آفیسر ہیں اس عہدے پر انہیں تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اہم عہدہ ہے جس کیلیے سینئر اور اہل آفیسر ہی تعینا ت کیا جائیگا جبکہ محبوب عالم کے پاس چیف ایگزیکٹو کا عہدہ بھی عارضی طو رپر ہے ۔ وفاقی حکومت کی طرف سے قائم کی گئی چار رکنی کمیٹی جس میں وزیردفاع ،وزیر امور کشمیر ،سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری پانی و بجلی شامل تھے،کمیٹی کے اجلاسوںمیں میاںمنظور وٹو کے دباؤ پر سابق سیکرٹری خزانہ را نا واجد اور نرگس سیٹھی نے بجلی کے ٹیوب ویلوں کوفلیٹ ریٹ دینے کے لیے 40 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی شدید مخالفت کی تھی۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ق) اور دیگر بعض اہم وزرا کی طرف سے بعض ایسی کمپنیوںکو اربوں روپے کی جعلی ادائیگی کے لیے بھی نرگس سیٹھی پر دبا و ڈالا گیا تھا تاہم نرگس سیٹھی نے ایسی ادائیگیاں کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔

اتوار، 17 فروری، 2013

کینیڈین شہریت چھوڑ دی تو امت کی رہنمائی کون کریگا

3 تبصرے
ایک میراثن کی شادی سید صاحب سے ہو گئی۔ گرمیوں کے موسم میں میراثن اپنے گھر کے باہر کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھی تھی۔ جب زیادہ گرمی لگی تو میراثن نے کپڑے کو پنکھے کی طرح ہلا کر ہوا لینا شروع کر دی۔ تھوڑی دیر بعد کچھ اور خواتین بھی وہاں آ گئیں، تو میراثن نے گرمی سے تنگ آکر کہا ”ساڈا ایہہ حال اے تے ساڈی امت دا کی حال ہووے دا“ یہی حال جناب خود ساختہ شیخ الاسلام کا ہے ایسے رہنمائی کرنے والے تو ایک اینٹ اٹھائیں نیچے سے دس نکل آتے ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں جید علماءکرام موجود ہیں۔ آج تک کسی نے بھی امت کی رہنمائی کو کسی ملک کی شہریت سے منسلک نہیں کیا۔ علامہ صاحب نے عجیب ڈرامہ کر دیا ہے۔ پہلے کہا ”کہو سپریم کورٹ زندہ باد“ لیکن اب اپنی منشا کے مطابق فیصلہ نہ آنے پر سپریم کورٹ پر ہی تبراءشروع کر دیا ہے۔ اب علامہ صاحب ٹوپی اتار کر عدالت جائیں تو شاید ججز پہچان نہ سکیں اور اس طرح ان کا کوئی داﺅ چل جائے ورنہ ان کی دال گلتی نظر نہیں آ رہی۔ امت کے رہبر اور رہنما دارالسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے ”دار“ میں سکونت اختیار نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے مریدین کو بھی دارالسلام میں بلا لیتے ہیں لیکن خیالی رہنما نے تو چار سال ملک سے باہر رہ کر طوفانی انقلاب لانے کادعویٰ کیا ۔جو اپنے دامن کو نہیں بچا سکا وہ ریاست کو خاک بچائے گا۔

منگل، 5 فروری، 2013

میں خاندانی فرانسیسی عورت ہوں اور میرا دین اسلام ہے

0 تبصرے




Hijjabبرقعے میں لپٹی، چہرے پر نقاب لئے ایک مسلمان خاتون فرانس کی ایک سپر مارکیٹ میں خریداری کر رہی تھی ٹرالی میں مطلوبہ سامان ڈالنے کے بعدکیش کاؤنٹر کی طرف ادائیگی کیلئے بڑھی

اتفاق سے کاؤنٹر پر اُس سے پہلےایک فیشن ایبل عورت پیسے دینے کیلئے کھڑی تھی۔ جو اپنے نین نقش اورلہجے سے عرب لگ رہی تھی عربانی نے حجاب میں لپٹی عورت کو حقارت سے دیکھا اور اپنے غصے کے اظہار کیلئے 
اپنی سامان والی ٹوکری کو کاؤنٹر پر پٹخ کر رکھااور بڑبڑاتے ہوئے سامان کاؤنٹر پر ڈالنے لگی
یہ حجاب والی بہن نہایت صبر اور خاموشی کے ساتھ اس عربانی کی یہ ساری حرکات دیکھتی رہی
اس بہن کی یہ خاموشی اور صبرعربانی کیلئے اور بھی تلملاہٹ کا باعث بن گیا
عربانی اپنی جھنجھلاہٹ کو نہ دبا سکی اور آخر بول ہی پڑی

پہلے کیا کم مسائل ہیں فرانس میں ہم مسلمانوں کیلئے
ایک سے بڑھ کر ایک مصیبت روز کھڑی ہو جاتی ہےاور تمہارا یہ نقاب ان سب مصائب کی ایک جڑ ہے 
ہم یہاں پر تجارت یا سیاحت کیلئے آتے ہیں نہ کہ دین کی اشاعت یا اپنے اسلاف کی تاریخ بیان کرنے
اگر تم اتنا ہی دینی شعار کی پابند ہو توجاؤ اپنے وطن کو اور جیسے رہنا چاہو رہو
اس پردہ دار بہن نے اپنا پرس اپنی ٹرالی میں رکھا

اور اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا
سنہرے بال اور گہری نیلی آنکھیں
عربانی سے کہا

 میں خاندانی فرانسیسی عورت ہوں
میرا دین اسلام ہے اور فرانس میرا وطن ہے

تم لوگوں نے اپنے دین کو بیچ دیا

اور ہم نے اس دین کو خرید کر اپنا لیا ہے۔

(فیس بک سے لی گئی ایک تحریر) 


 


 



 

 


 



منگل، 29 جنوری، 2013

,ہم بھی وہاں موجود تھے , دو روزہ عالمی اردو بلاگرز کانفرنس

18 تبصرے
فیس بک اردوبلاگرز گروپ پر اس کانفرنس کا دعوت نامہ ملا تو بہت سے لوگوں کی طرح ہمیں بھی لگا کہ میلہ کسی اور نے کسی اور کے کہنے پر کسی اور کے ایجنڈا پر سجانا ہوگا۔بہر حال رجسٹریشن کر وا دی تو منتظمین کی طرف سے باقاعدہ دعوت نامہ اور تفصیلات بھی موصول ہو گیئں۔ ایم بلال ایم کا نام پڑھ کر بھی پروگرام بنایا کہ چلو یار اس نیک بندے سے تو ملاقات ہو گی جس نے مجھ جیسے ہزاروں افراد کے لئے اردو کمپیوٹنگ کو آسان بنایا۔26جنوری کی علی الصبح لاہور کے لئے روانہ ہوئے اور سیدھے ایوان صنعت و تجارت کی بلڈنگ پہنچ کر دم لیا تو منتظمین کو وہاں سب کا منتظر پایا۔ کراچی،پشاور، گلگت،سوات،ڈیرہ اسماعیل خان،فیصل آباد،کوئٹہ،ملتان حتیٰ کہ میرے ضلع فیصل آباد کے دور دراز کے گائوں سے بھی۔۔۔۔۔۔۔ سارا پاکستان موجود تھا۔ غیرمتوقع حاضری اور نان این جی او پروگرام ، عجیب ہے بھائی ...... محسن عباس، نواز طاہر اور بلال سب کا استقبال کر رہے تھے۔
اسلام علیکم مصطفےٰ بھائی میں بلال ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوئے توں بلال ایں ، نہیں کسی بڑے کو بلائو ،تم نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔۔۔۔
پر واقعی وہ ابھی کھلنڈرہ نوجوان ہے اتنا کام کرنے والا پر ، ویسا ہی بچوں جیسا معصوم ،کہتا آپ بھی تو ویسے بوڑھے نہیں ہیں جتنا تصویروں میں بنایا ہو اہے۔ سب سے ملاقاتیں ہوئیں دو دن تک کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا ۔کتنے پیارے پیارے مخلص اور درد دل رکھنے والے دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ معروف شاعر فرحت عباس شاہ دونوں دن موجود رہے،نوجوان بلاگرز میں کاشف نصیر،شاکر عزیز،خرم ابن شبیر،راجہ اکرام،کراچی سے شعیب صفدر،اقبال حیات، غلام عباس،زوہیر چوہان،شاکر عزیز،سعد، جڑانوالہ سے ساجد امجد،سوات سے نعیم،پشاور سے مسرت اللہ جان،لنڈی کوتل سے بہت ہی پیارے مدثر شاہ، گوجرانوالہ سے فخر نوید،اسلام آباد سے مہتاب عزیز، لاہور سے سعد ملک،نجیب عالم ،کوئٹہ سے حسن معراج اور بہت پیارے ساتھی جن کا نام بھول گیا ہوں ان سے معذرت، پھر منتظمین میں خاموش طبع احمد ہمایوں اور ساتھی ۔۔۔۔۔
اللہ آپ سب کو اس کا خوش رکھے جس کام کی ابتدا آپ نے کر دی ہے اس کا صلہ آپ کو وہ ذات پاک ہی دے سکتی ہے کیونکہ ہم نے تو یہی کہنا ہے کہ

379238_3999677640894_1293204056_n"آٹا گھن دی کیوں ہل دی اے"

امید یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ آپ نے ظلمت شب کا شکوہ کرنے کی بجائے اپنے حصہ کا چراغ جلا دیا ہے
جیو محسن بھائی اور جیو بلال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویل ڈن

پیر، 14 جنوری، 2013

یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟

0 تبصرے

کوئٹہ میں رگوں میں اتر جانے والی سردی ہے، درجہ حرارت منفی آٹھ سے بھی بڑھ چکا ہے. معصوم بچے اور باپردہ خواتین گزشتہ تین دن سے اپنے بیاسی بے گناہ پیاروں کی لاشیں لئے بیٹھے ہیں۔ایسا احتجاج تو شائد معلوم تاریخ میں کہیں نہ ہوا ہو۔اس نے ملک کے کونے کونے میں موجود ہر انسان کو ہلا کر رکھ دیا 


پاکستان کی تاریخ کا دردناک احتج بےحس حکمران خاموش تماشا ئی بنے ہوئے ہیں ۔ کب ان کی غیرت جاگے گی کب تک ہم یونہی بے گناہوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ سینکڑوں لوگ لاشوں کو لے کر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ پکار پکار کر پوری قوم کو اپنی بے بسی سے آگاہ کررہے ہیں ان کی آواز میں آواز ملانا پوری قوم کا فرض ہے ۔ آج وہ جس اذیت سے دوچار ہیں اگر ان کا ساتھ نہ دیا گیا تو کل دوسرے صوبے میں بھی لوگ میتیں اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔ پوری قوم شہدا کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے ۔ وفاقی حکومت کو ان کے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے 


-یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟

منگل، 24 جولائی، 2012

’’اماں!بھائی کب مرے گا؟‘‘

0 تبصرے




 عرصہ ہواایک ترک افسانہ پڑھا تھا، یہ میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتمل گھرانے کی کہانی تھی، جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگاہوا تھا، آخر اسی حالت میں ایک روز بچوں کو یتیم کرگیا۔ رواج کے مطابق تین روز تک پڑوس سے کھانا آتا رہا، چوتھے روز بھی وہ مصیبت کا مارا گھرانہ کھانے کا منتظر رہا مگر لوگ اپنے اپنے کام دھندوں میں لگ چکے تھے، کسی نے بھی اس گھر کی طرف توجہ نہیں دی۔ بچے باربار باہر نکل کر سامنے والے سفیدمکان کی چمنی سے نکلنے والے دھویں کو دیکھتے، وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے کھانا تیار ہورہا ہے، جب بھی قدموں کی چاپ آتی انہیں لگتا کوئی کھانے کی تھالی اٹھائے آرہا ہے مگر کسی نے بھی ان کے دروازے پر دستک نہ دی۔ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے، اس نے گھر سے روٹی کے کچھ سوکھے ٹکڑے ڈھونڈ نکالے، ان ٹکڑوں سے بچوں کو بہلاپھسلاکر سلادیا۔ اگلے روز پھر بھوک سامنے کھڑی تھی، گھر میں تھا ہی کیا جسے بیچا جاتا، پھر بھی کافی دیر کی ’’تلاش‘‘ کے بعد دوچار چیزیں نکل آئیں، جنہیں کباڑیے کو فروخت کرکے دو، چار وقت کے کھانے کا انتظام ہوگیا۔ جب یہ پیسے بھی ختم ہوگئے تو پھر جان کے لالے پڑگئے، بھوک سے نڈھال بچوں کا چہرہ ماں سے دیکھا نہ گیا، ساتویں روز بیوہ ماں خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹ کر محلے کی پرچون کی دکان پر جاکھڑی ہوئی، دکان دار دوسرے گاہکوں سے فارغ ہوکر اس کی طرف متوجہ ہوا، خاتون نے ادھار پر کچھ راشن مانگا تو دکان دار نے نہ صرف صاف انکار کردیا، بلکہ دوچارباتیں بھی سنا دیں۔ اسے خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑا۔ ایک تو باپ کی جدائی کا صدمہ اوپر سے مسلسل فاقہ، 8سالہ بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بخار میں مبتلاہوکر چارپائی پر پڑگیا، دوادارو کہاں سے ہو، کھانے کو لقمہ تک نہیں تھا، چاروں گھر کے ایک کونے میں دبکے پڑے تھے، ماں بخار سے آگ بنے بیٹے کے سر پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی، جبکہ پانچ سالہ بہن اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بھائی کے پاؤں دبارہی تھی، اچانک وہ اٹھی، ماں کے پاس آئی اور کان سے منہ لگاکر بولی ماں کے دل پر تو گویا خنجر چل گیا، تڑپ کر اسے سینے سے لپٹا لیا اور پوچھا ’’میری بچی، تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ بچی معصومیت سے بولی ’’ہاں اماں! بھائی مرے گا تو کھانا آئے گا ناں!‘‘


 

 

 

جمعرات، 10 مئی، 2012

قابل رحم ہے وہ قوم جس کا حکمران سزا یافتہ مجرم ہو

4 تبصرے

 اٹارنی جنرل نے فرمایا کہ ’’ شعرو شاعری سے سزا نہیں دی جا سکتی‘‘ لیکن انہیں شاید یہ نہیں معلوم کہ جس شعرو شاعری کا وہ حوالہ دے ہیں اس کا تعلق سزا کے فیصلے سے نہیں ہے بلکہ فیصلے سے ہٹ کر جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اضافی نوٹ ہے اور اس کا تعلق بھی اخلاقیات سے ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جسٹس کھوسہ نے لبنان کے عیسائی شاعر اور فلسفی خلیل جبران کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے وہ فیصلے کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی فیصلے کی جان ہے۔ اس سب کا تعلق بھی ا خلاقیات سے ہے لیکن اس میں غلط کیا ہے؟ یہ بات کس کو ناگوار گزری کہ’’ قابل رحم ہے وہ قوم جس کے رہنما قانون کی نافرمانی کرکے شہادت کے متلاشی ہیں‘ قابل رحم ہے وہ قوم جس کے حکمران قانون کا مذاق اڑاتے ہیں اور قابل رحم ہے وہ قوم جو اپنے کمزوروں کو سزا دیتی ہے مگر طاقت وروں کو کٹہرے میں لانے سے کتراتی ہے ۔ ترس آتاہے ایسی قوم پر جو مخصوص افراد کے لیے من پسند انصاف چاہتی ہے‘‘۔ اگر پاکستان میں صورتحال ایسی ہی ہے تو اس کے ذمہ داران کو شرم کرنی چاہیے اور اگر وہ سمھجتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے تو چراغ پا ہونے کی ضرورت نہیں۔ مگر اس کا کیا کیاجائے کہ یہ قوم واقعی قابل رحم ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی فی الوقت تو مجرم ہو گئے لیکن وہ نجانے کس حد تک جانے کی بات کرتے ہیں اور وکیل استغاثہ مجرم کی پشت پر کھڑا اعلان کررہاہے کہ فیصلہ تسلیم نہ کیاجائے۔ کیا اس لیے کہ مخصوص فرد کو من پسند ’’انصاف ‘‘ نہیں ملا۔ گیلانی صاحب خط لکھ دینے سے آپ کے صدر کا کچھ نہ بگڑتا مگر آپ نے خود بات بگاڑدی۔ قابل رحم ہے وہ قوم جس کا حکمران سزا یافتہ مجرم ہو۔

پیر، 23 اپریل، 2012

فوج سیاچن میں کیا کررہی ہے؟

0 تبصرے

   نوازشریف کی سیاچن کو یکطرفہ خالی کرنے کی بات بھی انتہائی مضحکہ خیز ہے.اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سیاچن کی جنگ پاکستان اور بھارت پر بوجھ بن چکی ہے، ماہانہ کروڑوں روپے اس میں پھونکے جارہے ہیں، اگر یہی رقم فلاح وبہبود کے کاموں پر خرچ کی جائے تو بہت سے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں، لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا میاں صاحب نے بیان کیا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں فوج سیاچن میں کیا کررہی ہے؟ میاں صاحب! فوج وہاں پر پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑرہی ہے، سجیلے جوانوں نے بھارت کی پیش قدمی کو روکا ہوا ہے۔ نئی دہلی کی نظریں برف پوش پہاڑوں پر نہیں گلگت بلتستان اور شاہراہ قراقرم پر ہے۔ اگر پاک فوج جانوں کا نذرانہ دے کر بھارت کو سیاچن پر نہ روکتی تو آج یہ جنگ اسلام آباد کے قریب لڑی جارہی ہوتی۔ ’’دنیا کو پتا ہے کہ پاک فوج سیاچن میں کیوں بیٹھی ہے، کوئی بغیر کسی وجہ کے 22ہزار فٹ بلند چوٹیوں پر نہیں بیٹھتا جہاں آکسیجن بھی نہ ہو۔‘‘، پاک فوج کی حیثیت وہاں پر حملہ آور کی نہیں ہے جو وہ خود غیرمشروط طو رپر علاقہ چھوڑکر واپس آجائے۔ دوسری بات، بالفرض اگر پاک فوج پیچھے ہٹتی بھی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ بھارت آگے نہیں بڑھے گا؟ اور کیا یہ
Aپسپائی عملاً بھارت کا قبضہ تسلیم کرنا نہیں ہوگی؟ 

جمعرات، 19 اپریل، 2012

ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال ، خون ناحق کس کی گرد ن پر ہو گا ؟

0 تبصرے

 ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال ان کے پیشے کی بنیادی اخلاقیات کے خلاف اورصوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی غریبوں کوقتل کرنے کے مترادف ہے ۔ ینگ ڈاکٹرزکو اپنے مطالبات منوانے کے لیے کوئی دوسراراستہ اختیارکرناچاہیے یہ طریقہ مسیحائی کے منافی ہی نہیں بلکہ مسیحائی کے نام پربدنما داغ ہے۔ پنجاب حکومت اورڈاکٹروں کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں ہسپتالوں میں ہونے والی اموات ذمہ داروں کے خلاف سخت اقدام کیے جائیں، ڈاکٹروں اور صوبائی حکومت کومریضوں کو بے یارو مدد گار چھوڑنے کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیارکریں۔ اپنے جائز مطالبات کے لئے احتجاج ڈاکٹروں کا حق ہے مگر ڈاکٹرز اپنے پیشہ کا احترام کرتے ہو ئے مریضوں کے علاج معالجہ میں کمی نہ کریں۔ڈاکٹروں کی شکایات اپنی جگہ درست، لیکن کیا انہیں اپنے مقام اور فرائض منصبی کا بالکل بھی اندازہ نہیں رہا اور کیا ان کے سینے میں دھڑکتے دل میں رحم نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی جو ہر کچھ عرصے بعد اپنی شکایات کے ازالے کے لئے ہڑتال کا سہارا لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بیمار اور حادثات کے شکار لوگوں کی تکالیف کئی گنا بڑھ جاتی ہیں اور اس ہڑتال کے نتیجے میں ہونے والے اموات کا خون ناحق کس کی گردن پر ہو گا؟

جمعرات، 12 اپریل، 2012

جسے دیکھواٹھ کر پاکستان کے خلاف بولنا شروع کردیتاہے

6 تبصرے

جسے دیکھواٹھ کر پاکستان کے خلاف بولنا شروع کردیتاہے اور جوبراہ راست مخالفت نہیں کرتا وہ پاکستان توڑنے پر تلا ہو اہے۔ کہیں بلوچ علیحدگی پسند ہیں اور کہیں سندھی قوم پرست ۔ کچھ لوگ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں اور کچھ سندھ کو علیحدہ ملک بنانے کے دعویدار ہیں۔ اسی اثناء میں کراچی میں ایک بار پھر مہاجر صوبے کی تحریک چل پڑی ہے۔ اس کے پیچھے کون ہے‘ یہ کوئی راز نہیں مہاجر صبوبے کی تحریک کو تقویت دینے کے لیے کانگریسی لیڈر ابوالکلام آزاد کو زندہ کردیا گیا ہے اور قیام پاکستان سے پہلے کی ان کی تقاریرٹی وی چینلزپر چلوائی جار ہی ہیں جن میں بھارت سے ہجرت کرکے آنے والوں کو اکسایا جارہاہے ۔ حکومت تو سوئی پڑی ہے ورنہ اس کے لیے یہ معلوم کرنا مشکل نہیں کہ ٹی وی چینل پر ابوالکلام کی تقاریر مسلسل کون چلوارہاہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت سے کوئی شکوہ ہی بے جا ہے۔ اے این پی کو پہلی مرتبہ ایک صوبے کی حکومت ملی ہے۔ اس کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے کبھی بھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا اوراس جماعت کے بانیوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی۔ خان عبدالغفار عرف باچا خان نے تو پاکستان کی مٹی میں دفن ہونا بھی گوارہ نہیں کیا۔ پاکستان کی مخالفت کی وجہ سے وہ سرحدی گاندھی کہلاتے تھے۔

منگل، 10 اپریل، 2012

A Tribute to Siachen Mujahids

2 تبصرے


میں اکثر ماں سے کہتا تھا
اْس دن کا انتظار کرنا
جب دھرتی تیرے بیٹے کو پکارے گی
اور ان عظیم پربتوں کے درمیان بہتے
اْشو کے دریا کا نیلا پانی
اور سوات کی گلیوں میں بارش کے قطروں کی طرح گرتی
روشنی کی کرنیں پکاریں گی۔ ۔ ۔
اور پھر اس دن کے بعد
میرا انتظار نہ کرنا
کہ خاکی وردی میں جانے والے اکثر
سبز ہلالی میں لوٹ کر آتے ہیں۔ ۔ ۔
مگر میری ماں۔ ۔ ۔
آج بھی میرا انتظار کرتی ہے
گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھی لمحے گنتی رہتی ہے
میرے لیے کھانا ڈھک رکھتی ہے۔ ۔ ۔
کبھی جو تمہیں میری ماں ملے
تو اْس سے کہنا،
وہ گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر
میرا انتظار نہ کیا کرے۔ ۔ ۔ ۔
خاکی وردی میں جانے والے
لوٹ کر کب آتے ہیں؟
میں اکثر ماں سے کہتا تھا
یاد رکھنا !
اس دھرتی کے سینے پہ
میری بہنوں کے آنسو گرے تھے،
مجھے وہ آنسو انہیں لوٹانے ھیں۔ ۔ ۔
میرے ساتھیوں کے سر کاٹے گئے تھے
اور ان کا لہو پاک مٹی کو سرخ کر گیا تھا۔۔
مجھے مٹی میں ملنے والے
اْس لہو کا قرض اتارنا ہے۔ ۔ ۔
اور میری ماں یہ سن کر
نم آنکھوں سے
مسکرا دیا کرتی تھی۔ ۔ ۔
کبھی جو تمہیں میری ماں ملے
تو اْس سے کہنا
اس کے بیٹے نے لہو کا قرض چکا دیا تھا
اور
دھرتی کی بیٹیوں کے آنسو چن لیے تھے۔ ۔ ۔
میں اکثر ماں سے کہتا تھا
میرا وعدہ مت بھلانا،
کہ جنگ کے اس میدان میں
انسانیت کے دشمن درندوں کے مقابل
یہ بہادر بیٹا پیٹھ نہیں دکھائے گا
اور ساری گولیاں
سینے پہ کھائے گا
اور میری ماں
یہ سن کر
تڑپ جایا کرتی تھی
کبھی جو تمہیں میری ماں ملے
تو اْس سے کہنا،
اس کا بیٹا بزدل نہیں تھا
اس نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی
اور ساری گولیاں سینے پہ کھائیں تھی۔ ۔۔ ۔
میں اکثر ماں سے کہتا تھا
تم فوجیوں سے محبت کیوں کرتی ہو؟
ہم فوجیوں سے محبت نہ کیا کرو، ماں!
ہمارے جنازے ہمیشہ جوان اْٹھتے ہیں۔ ۔ ۔
اور میری ماںـ ـ ـ
میری ماں یہ سن کر
رو دیا کرتی تھی ـ ـ ـ
کبھی جو تمہیں میری ماں ملے
تو اْس سے کہنا،
وہ فوجیوں سے محبت نہ کیا کرے۔ ۔ ۔
اور
دروازے کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر
میرا انتظار نہ کیا کرے
سنو۔ ۔ ۔!
تم میری ماں سے کہنا
اْس سے کہنا وہ اب بھی ہنستی رہا کرے کہ
شہیدوں کی مائیں رویا نہیں کرتیں

.