منگل، 11 مارچ، 2014

چمنیوں کا شہر ، فیصل آباد

15 تبصرے
کسی زمانے میں چمنیوں کا شہر کہلوانے والا فیصل آباد آج دینا بھر میں ٹیکسٹائل سٹی کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کا اصل نام لائل پور تھا جو اس کو آباد کرنے والے انگریز گورنر سر چارلس جیمز لائل کے نام پر رکھا گیا تھا جسے ضیاء الحق کے زمانہ میں تبدیل کر کے سعودی فرماں روا فیصل بن عبد العزیز کے نام پر فیصل آباد کر دیا گیا ،اب بھی اس کے چاہنے والے اسے لائل پور کہنا ہی پسند کرتے ہیں مگر نئی نسل اس سے نا آشنا ہے۔ نصرت فتح علی خاں اور ارفع کریم کا یہ شہر اپنی صنعتی ترقی کی وجہ سے بہت اہمیت کا حامل ہے ، اسے ایشیا کا مانچسٹربھی کہا جاتا ہے ،کراچی اور لاہور کے بعد یہ پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے،شہر فیصل آباد کی تاریخ ایک صدی پرانی ہے۔ آج سے کم و بیش 100 سال پہلے جھاڑیوں پر مشتمل یہ علاقہ مویشی پالنے والوں کا گڑھ تھا۔ 1892ء میں اسے جھنگ اور گوگیرہ برانچ نامی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا۔ 1895ء میں یہاں پہلا رہائشی علاقہ تعمیر ہوا، جس کا بنیادی مقصد یہاں ایک منڈی قائم کرنا تھا۔ ان دنوں شاہدرہ سے شورکوٹ اور سانگلہ ہل سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مابین واقع اس علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان واقع دوآبہ رچنا کا اہم حصہ ہے۔ لائلپور شہر کے قیام سے پہلے یہاں پکا ماڑی نامی قدیم رہائشی علاقہ موجود تھا، یہ علاقہ لوئر چناب کالونی کا مرکز قرار پایا اور بعد ازاں اسے میونسپلٹی کا درجہ دے دیا گیا۔موجودہ ضلع فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ کرتے۔ اس زمانے کے انگریز سیاح اسے ایک شہر بنانا چاہتے تھے۔ فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ،جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا،لاہور جانے کے لئے تمام تاجر اور سیاح یہاں پڑا کرتے تھے،آہستہ آہستہ اس کی اہمیت بڑھتی گئی اور اس بڑھتی ہوئی اہمیت کا اندازہ ایک سیاح انگریز کو بہتر طور پر ہوا تو اس نے اِس شہر کو بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ اس کا نمونہ کیپٹن پوہم ینگ نے برطانیہ کے جھنڈے یونین جیک کی طرز پر ڈیزائن کیا۔ جھنڈے پر بنی آٹھ لکیروں کو ظاہر کرنے کے لے آٹھ بازار بنائے گئے اور ان کے عین وسط میں ایک بہت بڑا کلاک ٹاور تعمیر کیا گیا ،ان بازاروں کو بڑے عمدہ فنِ تعمیر سے تیار کیا گیا، انگریزوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ لائلپور کے آٹھ بازاروں کی صورت میں اپنی شناخت، برطانوی پرچم (یونین جیک) ہمیشہ کے لئے اس خطے میں امر کر کے جا رہے ہیں مگر یہاں کے باسیوں کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ برطانیہ کے پرچم کو صبح و شام اپنے قدموں تلے روندھتے رہیں گے۔ 
قیام پاکستان کے بعد شہر میں آہستہ آہستہ انڈسٹریل کاموں کا آغاز ہوتا گیا اور ملحقہ علاقوں میں سے لوگ شہر کی طرف آنا شروع ہو گئے۔1985میں اس شہر کوڈویژن کا درجہ دے دیا گیا جس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور فیصل آباد اضلاع شامل کیے گئے۔اب ضلع چنیوٹ بھی شامل ہو گیا ہے۔ضلع فیصل آباد کا کل رقبہ1280مربع کلو میٹر کے قریب ہے جبکہ اس کی آبادی تقریبا پچاس لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے اس طرح یہ کراچی اور لاہور کے بعد ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے۔

فیصل آباد کی تاریخ ، نمایاں افراد ، تعلیمی اداروں اور تاریخی مقامات کے بارے میں انشا ء اللہ اقساط میں لکھوں گا۔

اس پوسٹ کی تیاری میں مختلف تحقیاتی مقالہ جات ،ضلعی انتظامیہ اور تاریخی کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔

فیصل آباد کی تاریخی عمارات اور دیگر مقامات کی تصویریں دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

جدید تھری ڈی ٹیکنالوجی سے فیصل آباد کے آٹھ بازار اور ملحقہ علاقے دیکھنے لئے یہاں کلک کریں

اتوار، 26 جنوری، 2014

مریم سجاد کو انصاف مل گیا ، شکریہ سوشل میڈیا

2 تبصرے

ایک سال پہلے فیصل آباد کے ایک درندہ صفت ڈاکٹر پروفیسر رسول چوہدری نے غلط آپریشن کر کے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بی ایس سی پلانٹ بریڈنگ اینڈ جنیڈر نگ انجینئر نگ میں تیسرے سال اور پانچویں سمسٹر کی طالبہ اور وزیر اعلی پنجاب کی سکیم کے تحت لیپ ٹاپ ہولڈر مریم سجاد کو عمر بھر کے لئے معذور کر دیا ، میں نے بھی اس پر بلاگ لکھا اور سوشل میڈیا پر مہم بھی چلائی ، فیصل آباد کے پریس نے  اس معصوم بچی کا بھر پور ساتھ دیا ، ہم لوگ اگر چہ اس کو  اس کا صحت مند جسم واپس تو نہ دلا سکے مگر اس ڈاکٹر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ان کی ضرور مدد کی جس کے نتیجہ میں  پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے ڈاکٹر پروفیسر رسول چوہدری کی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی ممبر منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تاحیات مراعات ، پنشن وغیرہ ضبط کر کے  متاثرہ بچی کو دینے کا حکم دیا ہے جبکہ  الائیڈ ہسپتال کی انتظامیہ کو بھی غفلت کا مرتکب پائے جانے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ پاک اس معصوم بچی کو صحت کاملہ عطا فرمائے ، میں فیصل آباد کی صحافی برادری کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اس کیس کو ہائی لائٹ کیا اور سوشل میڈیا پر موجود ان  ہزاروں احباب کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے میرے بلاگ کو فیس بک ، ٹویٹر  پر شیئر کیا ، وہ احباب جنہوں نے اسے میرے بلاگ سے کاپی کر کے اپنے اخبارات میں چھاپا اور اس معصوم بچی کو انصاف کا حصول ممکن ہوا،اگر چہ  یہ  سب کچھ مریم کا وہ سب نہیں  لوٹا سکتے جو اس نے کھو دیا لیکن  توقع کی جا سکتی ہے شائد  ان سزاؤں پر عمل درآمد سے ان انسان کے لبادے میں چھپے ہوئے بھیڑیوں میں کچھ کمی آ سکے۔

جمعرات، 23 جنوری، 2014

ذرا سوچئے ! کب ہمارے حالات بدلیں گے

3 تبصرے
یہ تحریر 2013کی جنوری میں  اپنے سابقہ بلاگ پرلکھی تھی،تب بھی موسم اتنا ہی سرد تھا ، یہی خون کو جمادینے والی سردی اور یہی حادثہ ، اسی طرح لوگ میتوں کو لئے بیٹھے تھے ، آج ایک سال گزر گیا ، ایک حکومت آئی چلی گئی،دوسرے بھی سات ماہ گزار چکے ہیں ، نہ بدلے تو ان غریبوں کے حالات نہ بدلے، ان کی زندگیاں محفوظ نہ ہو سکیں۔آج پھر یہ اپنے پیاروں کی لاشیں لئے لئے بیٹھے ہیں۔ ذرا سابق تحریر کو پڑھیئے ، سوچئے ! کب ہمارے حالات بدلیں گے



یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟
By Mustafa Malik on جنوری 13, 2013
کوئٹہ میں رگوں میں اتر جانے والی سردی ہے، درجہ حرارت منفی آٹھ سے بھی بڑھ چکا ہے. معصوم بچے اور باپردہ خواتین گزشتہ تین دن سے اپنے بیاسی بے گناہ پیاروں کی لاشیں لئے بیٹھے ہیں۔ایسا احتجاج تو شائد معلوم تاریخ میں کہیں نہ ہوا ہو۔اس نے ملک کے کونے کونے میں موجود ہر انسان کو ہلا کر رکھ دیا

پاکستان کی تاریخ کا دردناک احتجاج ہے بےحس حکمران خاموش تماشا ئی بنے ہوئے ہیں ۔ کب ان کی غیرت جاگے گی کب تک ہم یونہی بے گناہوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ سینکڑوں لوگ لاشوں کو لے کر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ پکار پکار کر پوری قوم کو اپنی بے بسی سے آگاہ کررہے ہیں ان کی آواز میں آواز ملانا پوری قوم کا فرض ہے ۔ آج وہ جس اذیت سے دوچار ہیں اگر ان کا ساتھ نہ دیا گیا تو کل دوسرے صوبے میں بھی لوگ میتیں اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔ پوری قوم شہدا کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے ۔ وفاقی حکومت کو ان کے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے

یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟





پیر، 6 جنوری، 2014

میرا قاضی بابا

1 تبصرے
رات کا آخری پہر تھا ، سیل فون کی گھنٹی سے میں نیم غنودگی کی حالت میں یک دم چونک کر اٹھا ، بیٹی کی کال تھی ۔۔ یا اللہ خیر اس وقت آنے والی کال کبھی خیر کی خبر نہیں لاتی۔ میں نے آن کیا ہی تھا میرے سلام سے پہلے اس کی آواز آئی ۔ابو جی !!!!!! کیا ہوا بیٹا ، ابو جی! ٹی وی پرقاضی بابا کے انتقال کی خبر چل رہی ہے۔ میں نے کہا بیٹا یہاں تو لائٹ آف ہے ،آپ دوبارہ غور سے پڑ ھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو کافی دیر سے دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔۔ اچھا میں پتہ کرتا ہوں۔ میں نے فون بندکردیا ، مجھے ایسے لگا یہ لوڈ شیڈنگ کا اندھیرا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ واقعی دور کہیں اندھیرا چھا گیا ہے۔ بیٹی کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا ، بجلی تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی،کس سے تصدیق کروں۔۔ کچھ دیر بعد احباب کی ایس ایم ایس آنا شروع ہوگئے،بابا واقعی چلا گیا۔ قاضی صاحب پاکستان کی سیاست کا ایک ایسا روشن ستارہ تھے جو آنے والوں کے لئے مینارہ نور ثابت ہوں گے۔اقتدار کے ایوانوں سے افغانستان کے سنگلاک پہاڑوں تک ہر جگہ اپنی دیانت داری ، شرافت، بردباری اور اخلاق کی ایسی مثالیں چھوڑ گئے ہیں جنہیں لوگ رہتی دنیا تک بطور مثال پیش کیا کریں گے۔ میں اپنی زندگی میں ن لوگوں سے بے حد متاثر ہوا ان میں قاضی بابا کا نام سر فہرست ہے بلکہ قاضی صاحب کی طلسماتی شخصیت ہی تھی جو مجھے جماعت کے قریب لے کر آئی۔میری والدہ کے انتقال پر میرے گھر خود تشریف لائے ، لوگ انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے ،اتنی بڑی شخصیت اور اتنی سادگی۔2008 میں جماعت اسلامی کے مینار پاکستان پر کل پاکستان اجتماع عام کے موقع پر ان کی اختتامی تقریر ہو رہی تھی ۔میں پریس انکلوژر میں موجود تھا،مغرب کا وقت قریب تھا کہ اچانک انہوں نے کہا کہ میرے عزیزو! اب انشا ء اللہ جنت میں ملاقات ہوگی۔ میں نے پاس کھڑے دوست سے کہا یار، بابا جی تو بہت بڑی بات کہہ گئے ہیں۔پتہ نہیں کسی کو سمجھ بھی لگی کہ نہیں،قاضی کا اپنے ان لاکھوں بیٹوں سے بچھڑنے کا وقت آ گیا ہے، پھر جب انہوں نے اگلے امیر جماعت بننے سے معذرت کی تو لگا کہ ولی اللہ کو اپنے جانے کا وقت معلوم ہو گیا ہے۔قاضی صاحب جیسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے ۔ بنی اکرم ﷺ اور امت مسلمہ سے محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی،انہوں نے اپنی زندگی امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ان کی المناک رحلت سے قوم ایک محب وطن اور امت مسلمہ کا درد دل رکھنے والے مدبر اورزیرک سیاست دان سے محروم ہو گئی ۔ پاکستان کی سیا ست میں ان کا لازوال کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ملکی سیاست پر ان شخصیت کے انمٹ نقوش ہمیشہ موجود رہیں گے۔ پاکستان میں امانت،دیانت اور شجاعت کی سیاست کا ایک باب بند ہوگیا ہے،ملک میں قیامِ امن،اور اتحاد امت کے لیے ان کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کی سربلندی کی کوششوں میں گزاری۔وہ اتحاد امت کے داعی تھے۔وہ ملک میں یکجہتی اور بھائی چارے کے فروغ کیلئے کوشاں رہے۔اختلافات رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے افراد کو انہوں نے ایک لڑی میں پرویا۔ان کی زندگی سادگی ،قناعت اور محنت سے عبارت تھی۔وہ اتحاد و اخوت کے علمبردار رہے۔ پاکستان میں امن،سیاسی استحکام اور اسلامی نظام کا نفاذ ان کی شدید خواہش تھی۔ اللہ پاک ان پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔

قاضی حسین احمد کی پہلی برسی پر

پیر، 30 دسمبر، 2013

صدرممنون حسین کی تصاویرپرقومی خزانےسے15لاکھ روپےخرچ

6 تبصرے
خبر ہے صدر ممنون حسین کی تصاویر پر قومی خزانے سے 15 لاکھ روپے خرچ کردیے گئے ، آصف زرداری کی تصاویر بھی 9لاکھ روپے میں تیار ہوئی تھیں ،ہمارے ہاں پنجابی میں کہتے ہیں "پلے نہیں دھیلا تے کر دی میلہ میلہ " اور یہی حال ان حکمرانوں کا ہے،ایک طرف قوم کا بچہ بچہ قرضوں کے بوجھ تلے دب رہا ہے تو دوسری طرف ان کے شوق دیکھیں۔ زرعی ملک ہونے کے باوجو ہم آلو پیاز کے سستے حصول کے لیے ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ پاکستان غریب ملک نہیں بلکہ ہر طرح کے معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے لیکن حکمرانوں نے کرپشن اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ کی بدولت پاکستان کو ایک مقروض ملک اور اس کے عوام کو ذلیل و خوار کر کے رکھ دیاہے ۔پاکستانی حکمران اگر قوم سے مخلص ہیں تو بیرون ملک سابق حکمرانوں ، بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کی اربوں ڈالر ز کی رقوم واپس لانے کا اہتمام کریں تو ملک قرضوں سے بھی نجات 
حاصل کر سکتاہے اور آئی ایم ایف کے پھندے سے بھی گلو خلاصی ہوسکتی ہے۔ حکمران پٹرولیم مصنوعات ،بجلی اور گیس کی قیمتوں اضافہ اور نئے ٹیکس لگا کر اپنے شاہانہ اخرجات پورے کررہے ہیں۔ کرپشن ختم کرنے اور مہنگائی و بے روزگاری پر قابو پانے کی بجائے اپنی ساری توانائیاں آئی ایم ایف سے قرض کے حصول پر لگا رہے ہیں اورآئی ایم ایف حکمرانوں کو عوام کے جسم سے خون کا آخری قطرہ نچوڑ لینے کے احکامات دے رہا ہے، سابقہ اور موجودہ حکمرانوں ملک کو بدترین معاشی بحران کا شکار کر دیا ہے اور حکمران بھول رہے ہیں کہ معاشی بحران سیاسی بحرانوں میں بدلتے دیر نہیں لگتی ۔جب لوگوں کی امید یں محرومیوں میں بدلتی ہیں تو ان کے تیور بھی بدل جاتے ہیں ،زندہ باد کے نعرے لگانے والے مردہ باد کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔حکمران حالات پر جلد قابو پانے میں ناکام رہے تو لوگ مرنے مارنے پر تل جائیں گے ۔ انتخابات میں عوام نے تبدیلی ، انقلاب اور نیا پاکستان کے نعروں سے متاثر ہو کر جن توقعات کا اظہار کیا تھا وہ اب تیزی سے مایوسیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔خوشنما نعروں اور بلند وبانگ دعوؤں پر ووٹ دینے والے بددل اور مایوس ہوکر حکومت کا ماتم کررہے ہیں۔زرداری ٹولہ اتنی بدنامی پانچ سال میں نہیں سمیٹ سکا جتنی موجودہ حکومت نے چھ ماہ میں سمیٹ لی ہے۔ جن لوگوں نے حکمرانوں کو جھولیا ں بھر بھر کر ووٹ دیے وہ ابھی انہیں جھولیاں اٹھا اٹھا کر بدعائیں دیتے نظر آتے ہیں ۔سنا ہے جب فرانس میں انقلاب آیا تھا تو لوگوں کا ایک بڑا ہجوم بادشاہ قت کے محل کے سامنے نعرے لگا رہاتھا ،شہزادی نے پوچھا لوگ کیوں چیخ رہے ہیں تو انہیں بتایا گیا کہ لوگوں کو روٹی نہیں مل رہی ۔کہنے لگیں روٹی نہیں مل رہی تو ڈبل روٹی کھا لیں، یہی حال موجودہ حکمرانوں کا ہے۔کاش انہیں کوئی سمجھا دے اگر عوام اٹھ کھڑے ہو گئے تو ان کو بھاگنے کا بھی موقع نہیں مل سکے گا۔

جمعہ، 13 دسمبر، 2013

عبد القادر ملا ۔۔۔۔!!! ہم شرمندہ ہیں !!!!

8 تبصرے
پاکستان سے محبت کی خاطر اپنی جان قربان کرنے والا 65 سالہ بوڑھا شخص آج پاکستا نیوں کی نظر میں اجنبی ہے ،نئی نسل سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی نوجوان اس کی صورت سےآشنا نہیں ہے، حیرانی تو یہ ہے خود پاکستانی میڈیا اسے جنگی جرائم میں مرتکب قرار دے کر پھانسی دیئے جانے کی خبریں نشر کر رہا ہے۔ وہ شخص جومیرے دین کی خاطر جو میرے وطن کیلئے جو میرے لئے، پھانسی کے پھندے پر جھول گیا. لیکن افسوس کہ پاکستان میں ہی گمنام ٹہرا۔ عبدالقادر کا قصور کیا تھا ، پاکستان سے محبت ، وہ پاکستان کی تقسیم کے مخالف تھا ،اس محب وطن پاکستانی کا خیال تھا کہ بھارت سے ساز باز کر کے پاکستان کو توڑنے کی سازش کرنے والے شیخ مجیب الرحمان کی اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اس باہمت نوجوان نے پاکستانی فوج کا ہراول دستہ بن کر پاکستان ، نظریہ پاکستان اور اسلام کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا۔ ملا عبدالقادر کو سزا دینے والی بنگلہ دیشی خاتون وزیر اعظم کا باپ شیخ مجیب الرحمان اپنے مشن میں کامیاب ہوگیا ، نوے ہزار پاکستانی فوجی بھارت کی قید میں چلے گئے ،ملا عبدالقادر جیسے ہزاروں لاکھوں نوجوانوں کو پاکستانی فوج کی مدد کرنے پر چن چن کر مارا گیا ،چوکوں مں پھانسیاں دی گئیں مگر ان کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی ، پھر ایک موقع آیا کہ بھپرے ہوئے بنگلہ دیشی عوام نے شیخ مجیب کو پاکستان توڑنے کی سزا دی ، حکومت کا تختہ الٹا گیا اور شیخ مجیب کو اس کے اپنے ہی فوجیوں نے قتل کردیا تب اس کی یہ بیٹی بیرون ملک تھی ،واپس آکر سیاست میں حصہ لیا تو بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بن کر اپنے باپ کا انتقام لینا شروع کردیا ، جن لوگوں پر آج جنگی جرائم میں مقدمات چلائے جارہے ہیں وہ تو اب دو دو دفعہ پارلیمنٹ کے ممبران بھی رہ چکے ہیں۔خود شہیدعبدالقادر ملا بنگلہ د یش کے آئین کے تحت 2 دفعہ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہو چکے ہیں کسی کو نہیں پتہ تھا کہ یہ غدار ہے ۔
ذرا سوچئے ! اس بنگالی مولانا کے لئے یہ مشکل تھا کہ وہ اپنی قوم کے ان نسل پرستوں سے معافی مانگ کر اپنا سر بچا لیتا... یہ تو آسان تھا .. مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔۔۔ اس نے ایک نظریہ پر جان دی... اس نے تسلیم کیا کہ میں نے ایک سب سے بڑی اسلامی ریاست کو بچانے کی جدوجہد کی ،میں نے ان لوگوں کا ساتھ دیا جو رنگ میں، نسل میں، زبان میں مجھ سے مختلف تھے ... مگرمیرے ہم مذہب تھے لیکن افسوس ہے تو پاکستانی حکومت پر جس نے اپنے اس محسن کے لئے ایک آواز بھی نہیں اٹھائی۔ وہ شہید ہوکر اپنے رب کے حضور جا پہنچا مگر ہم سب کو یہ سبق دے گیا کہ سر کو کٹا یا تو کیا جاتا ہے مگر باطل کے سامنے جھکایا نہیں جاتا۔
عبد القادر ملا ! آپ نے اپنے لئے جس راستے کا انتخاب کیا، وہ دنیاپرستوں کا راستہ نہیں ہے، وہ تو ابراہیم خلیل اللہ کا راستہ ہے جو آگ میں ڈالے گئے ، جو مسیحا ابن مریم کا راستہ ہے، وہ یحییٰ ابن ذکریا کا راستہ ہے جن کے سر کو دھڑ سے الگ کردیا گیا ، وہ خبیب ابن عدی کا راستہ ہے جنہں مکہ میں سولی پر لٹکادیا گیا تھا  
عبد القادر ملا صاحب۔۔۔۔!!! ہم شرمندہ ہیں !!!! بحثیت قوم آپ سے معافی چاہتے ہیں کہ آپ نے 1971 میں پاکستان کا ساتھ دے کر ملک کی یک جہتی اور سالمیت کے لئے جدوجہد کی اور اس سلسلے میں صعوبتیں اٹھائیں۔ 
یہ ایک ناقابل تلافی جرم ہے۔۔۔ اور اس کی پاداش میں آج آپ کو پھانسی دے دی گی۔ یقین مانیں ہم پاکستانی بہت شرمندہ ہیں ہم بحثیت قوم آپ سے اظہار ہمدردی کے دو بول بھی نہ بول پائیں گے اور نہ آپ کے حق میں آواز اٹھا سکیں گے۔

اللہ پاک آپ کی شہادت قبول فرمائے ،ہمیں آپ پر فخر ہے۔

بدھ، 11 دسمبر، 2013

الوداع ۔۔۔۔۔۔ فخر پاکستان ۔ قوم تجھے ہمیشہ یاد رکھے گی

0 تبصرے
پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ کا ایک سنہری باب آج گیارہ دسمبر 2013 کو بند ہو جائے گا لیکن آنے والی نسلیں اسے ہمیشہ یاد رکھیں گی۔ گیارہ، بارہ، تیرہ وہ تاریخ ہے جو،اب سو سال بعد ہی آئے گی،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی اسی تاریخ ساز تاریخ کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہورہے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم کورٹ کا جج بننے کے بعد سے 850سےزائد فیصلے تحریر کیے اور اپنے ان دلیرانہ اور جرات مندانہ فیصلوں سے پاکستان کی عدلیہ کو اتنا با وقار اور سربلند کر دیا ہے کہ آج شاہراہ دستورپر ایستادہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی سفید عمارت پاکستان کے مجبور اور پسے ہوئے مظلوم عوام کی امید بن چکی ہے۔انہوں نے خود کوآئین اور قانون سے بالاتر سمجھنے والوں کو قانون کے نیچے لانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے اور سب کو عدالت کے سامنے جواب دہ کیا۔افتخار محمد چوہدری اپنے فیصلوں کی صورت میں جہاں دلوں پر حکمرانی کرتے رہے وہاں انہوں نے بدمست بیوروکریسی کو نکیل بھی ڈالی اور بدعنوان سیاستدانوں اور بیوروکریٹس پر اپنی گرفت مضبوط کی۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تاریخی فیصلے کئے اور این آر او کو کالعدم قرار دے دیا۔ ان کو اپنے راستے سے ہٹانے کیلئے ان کیخلاف کئی اسکینڈل بھی بنائے گئے۔ جعلی ڈگری اور دوہری شہریت کے حامل ارکان پارلیمنٹ کو نااہل قرار دیا اور لاپتہ افراد کی توانا آواز بنے رہے۔ انہوں نے با رہا ایسے فیصلے دئیے جو پارلیمنٹ کیلئے قانون سازی کا باعث بنے۔ بطور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے فیصلوں کے ذریعے ایک نئی تاریخ رقم کرنا شروع کی تو توقعات پوری نہ ہونے پرکل تک شانہ بشانہ چلنے والے وکلاءآہستہ آہستہ دور ہونے لگے۔ تا ہم انہوں نے اپنے پرائے کی تمیز کئے بنا اپنا کام خوش اسلوبی سے جاری رکھا۔جسٹس افتخار محمد چوہدری کا بطور چیف جسٹس عہد ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بطور چیف جسٹس پاکستان اپنے فیصلوں سے یہ بنیاد رکھ دی ہے کہ کوئی آئین سے بالا تر نہیں ہے اور نہ کوئی قانون سے بڑا ہے۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری آپ کو پاکستان کے بیس کروڑ لوگوں کا لواداعی سلام۔آپ ہمیشہ دلوں پر حکمرانی کرتے رہیں گے۔اللہ پاک آپ کی حفاظت فرمائے۔


اس تحریر کی تیاری میں چیف جسٹس صاحب کی ریٹائرمنٹ پر شائع ہونے والی خبروں سے مدد لی گئی ہے
.