بدھ, فروری 22, 2012

0 تبصرے
 پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹرکو تعلیم کے میدان میں کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ یہاں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے معیار، نصاب، اساتذہ کی اہلیت اور تنخواہوں، فیسوں اور ہم نصابی سرگرمیوں پرکوئی چیک نہیں ہے۔ بھانت بھانت کے نصاب پڑھائے جارہے ہیں، اساتذہ کی اہلیت کا کوئی معیار نہیں، من مانی فیسیں وصول کی جاتی ہیں اور اچھے مسلمان اور اچھے پاکستانی تیارکرنے کی باتیں ہوا میں اڑا دی گئی ہیں۔  یہ ملک وملت کے خلاف گہری سازش ہی، کیونکہ یہ نظامِ تعلیم ہی ہوتا ہے جو معاشرے کے عقائد و اقدارکے مطابق افراد تیار کرتا ہے اور اگر یہ پراسیس رک جائے تو قومیں با نجھ ہوجاتی ہیں۔ پاکستان میں نظام تعلیم کے سا تھ جوکچھ ہورہا ہے وہ اس امرکا مظہر ہے کہ قوم کی قیادت ایسے ہاتھوں میں ہے جن کو ملک کی سالمیت،بقا اور اس کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت سے کوئی دلچسپی نہیں،

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

.