پیر، 13 اکتوبر، 2014

انقلاب ان فیصل آباد ، ہم بھی وہیں موجود تھے

15 تبصرے
میڈیا کی مہربانی سے پچھلے دو ماہ میں قادری صاحب اور عمران خان گھر گھر پہنچ چکے ہیں ،جو نہیں بھی جانتا تھا ان دھرنوں کی بے پناہ کوریج نے ان سے متعارف ہوچکا تھا ،دھرنوں سے دل بھرنے کے بعدعمران خان کے بعد محترم قادری صاحب نے بھی شہر شہر جاکر جلسوں کا پروگرام بنا لیا اور ان کی پہلی منزل فیصل آباد قرار پائی۔میں قادری صاحب اور عمران خان کا مخالف نہیں ہوں ،دونوں نے پاکستانی سیاست میں اپنی بہترین جگہ بنا لی ہے اور روائتی سیاست کی جگہ نئے نئے آئیڈیاز متعارف کروائے ہیں اور ان کی پروموشن میں ان کی متحرک ترین میڈیا ٹیموں،وسائل کا بے انتہا اور بے دریغ استعمال اور پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کا بہت ہاتھ ہے ۔ان کی میڈیا ٹیموں کی کارکردگی واقعی قابل تعریف ہے اور الیکٹرانک میڈیا جس انداز سے ان کا ساتھ دے رہا ہے وہ واقعی حیرت انگیز ہے۔ ڈی چوک اسلام آباد،لاہور ، کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں ہونے والے جلسوں کی جس انداز میں کوریج کی جارہی ہے وہ آج تک پاکستان کے حکمرانوں کو بھی نصیب نہیں ہو سکی قطع نظر اس بات کے کہ اس کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما
ہیں ۔
 یہاں میرا اصل مدعا ان حقائق کو سامنے لانا ہے جو میں نے پچھلے دو تین دنوں میں اکھٹے کئے ہیں اور آپ کو بتا نا ہے الیکٹرانک میڈیاکی بڑی بڑی کرینوں اور اب فضائی ویڈیو گرافی کوریج کی وجہ سے چند ہزار کے مجمع کو کیسے لاکھوں کا کراؤڈ بنا دیا جاتا ہے، اس مقام پر اگر ایک ہزار افراد سما سکتے ہیں تو یہ فضائی کوریج اسے ایک لاکھ تک لے جاتی ہے اور دنیا بھر میں دیکھنے والے حیرتوں کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔
یہاں میں آپ کو چند تصویر کے ذریعے دھوبی گھاٹ گراؤنڈ دکھاتا ہوں اور پارک میں لگائی جانے والی کرسیوں کتنی تعداد میں لگ سکتی ہیں اور ارد گرد کی وہ سڑکیں جن پر محترم طاہرالقادری صاحب نے تین لاکھ افراد جمع ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہاں کتنے لوگ آ سکتے ہیں اور چینلز نے کیا تعداد بتائی ہے۔ اس سے پہلے دھوبی گھاٹ کا مختصر سا تعارف یہ ہے کہ یہ پارک قیام پاکستان سے قبل سے یہاں موجود ہے اور شہر کے قلب میں واقع ہے جبکہ تاریخی گھنٹہ گھر سے محض نصف کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔بانی پاکستان محترم قائد اعظم قیام پاکستان سے قبل یہاں خطاب کر چکے ہیں،ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز یہاں سے کیا،اس گراؤنڈ کو اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کے ہر بڑے سیاسی لیڈر نے یہاں خطاب کیا، اس تصویر کودیکھیں

 یہ گوگل سے لیا گیا دھوبی گھاٹ اور اس کے گردو نواح کا میپ ہے،اس سے آپ کو دھوبی گھاٹ گراؤنڈ کی لمبائی چوڑائی کا اندازہ ہو جائے گا۔ پہلے یہ سارا ایک ہی گراؤنڈ تھا اور اس میں ہر جلسہ کے لئے سٹیج بنایا جاتا تھا جبکہ اب ضلعی انتظامیہ نے یہاں پختہ سٹیج تعمیر کروا دیا جو ایک بڑے ھال کی چھت ہے ،ھال میں نوجوانوں کے لئے جم قائم ہے،اب گراؤنڈ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ، تین حصہ جلسہ گاہ ہے جبکہ ایک حصہ میں بچوں کے لئے جھولے وغیرہ لگا دیئے گئے ہیں جب کوئی جلسہ ہوتا ہے تو ضلعی انتظامیہ حفاظتی تدابیر کے طور پر گراؤنڈ کے تین حصوں میں سے ایک حصہ جس طرف سٹیج بنا ہوا ہے کو سیکورٹی حصار کا درجہ دے کر خاردار تاروں اور آہنی پائپوں سے بند کر دیتی ہے یو ں سٹیج اور پنڈال کے درمیان تقریباً 100فٹ سے زائد جگہ خالی رہ جاتی ہے جہاں کسی صور ت بھی پنڈال سے کوئی فرد داخل نہیں ہو سکتا۔اب جو جگہ وہاں خالی رہتی ہے اس میں مردوں کے لئے کرسیاں لگائی جاتی ہیں جبکہ جو حصہ پیچھے والابچوں کا پارک ہے وہاں خواتین کے کرسیاں لگائی جاتی ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے نواز شریف،عمران خان ، سنی اتحاد کونسل اورسراج الحق کے جلسوں کے لئے یہی حکمت عملی اپنائی گئی۔ایک ماہر تعمیرات نے اس حصہ کی جگہ کو باقاعدہ ناپنے کے بعد دو طرح سے کرسیاں لگا کے دکھائی ہیں جوآپ ان تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

 یہاں کسی طور پر بھی پانچ ہزار سے زائد کرسی نہیں لگائی جا سکتی جبکہ خواتین کے لئے مخصوص حصہ میں بہت زیادہ بھی ہوں تو دو ہزار افراد کے لئے کرسیاں لگائی جا سکتی ہیں۔اس طرح اس پارک میں کسی طور پر سات ہزار سے زائد کرسیاں نہیں لگائی جا سکتیں، میرا ان پانچوں جلسوں کی منتظمین اور سارے الیکٹرانک میڈیا کو چیلنج ہے کہ وہ میری بات کو جھٹلا کے دکھائیں مگر اس کے باوجود ایک چینل نے کہا کہ تیس ہزار کرسیاں لگ گئی ہیں،دوسرے نے بیس ہزار اور تیسرے نے تعداد اٹھارہ ہزار بتائی جبکہ منتظمین کرسیوں کی تعداد پچیس ہزار بتاتے رہے۔اب آپ اس تصویر کو دیکھیں جو ہمارے فوٹو گرافر نے دوپہر ایک بجے بنائی ہیں ،آپ زوم کر کے کرسیاں گن سکتے ہیں،


پھر قوم کو ان فضائی کوریج کے ذریعے کیوں بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔زوار چوہدری نامی ایک نیا دانشور کراچی بیٹھ کر تبصرہ کر رھا تھا کہ جلسہ گاہ میں پچاس ہزار افراد کی گنجائش ہے اور لاکھوں لوگ باہر کھڑے ہیں۔
اب آتے ہیں جلسہ گا کی باہر کی طرف جہاں بقول علامہ صاحب تین لاکھ سے زائد لوگ موجود تھے،اگر آپ دوبارہ گوگل والا میپ دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ جلسہ گاہ کے سٹیج کے بالکل بیک پر جی سی یونیورسٹی ہے جہاں علامہ صاحب کے بقول وہ بھی یہیں پڑھتے رہے ہیں ، دھوبی گھاٹ گراؤنڈ اور یونیورسٹی کے درمیان صرف ایک سڑک حائل ہے،سٹیج سے دیکھیں تو بائیں طرف محلہ دھوبی گھاٹ ہے ، سٹیج کے بالکل سامنے پارک کے اختتام پر میونسپل لائبریری کی نو تعمیر شدہ بلند عمارت ایستادہ ہے،اس کا مطلب ہے کہ باہر کھڑے ہونے کے لئے صرف پارک کے دائیں طرف والی دو روریہ سڑک ہے جسے کوتوالی روڈ کہا جاتا ہے موجود ہے مگر اس کی صورت حال یہ ہے کہ اس دوریہ سڑک کو لائبریری سے لے کر جی سی یونیورٹی چوک تک قناتیں لگا کر بند کر دیا گیاتاکہ کوئی بندہ کسی اور طرف سے جلسہ گاہ میں داخل نہ ہو سکے ،جلسہ گاہ میں داخل ہونے کے لئے اسی دورویہ سڑک کے جلسہ گاہ والی طرف سے لائبریری کے پاس سے ایک واک تھرو گیٹ لگا کر باقی حصہ کو بیریئرز لگا کر بند کیا گیا تھا،بس یہی داخلی راستہ تھا اور اس کو سڑک پر لائبریری سے جلسہ گاہ کے مین گیٹ تک بیریئرز کی تین رویہ لائنیں بنائی گئی تھی تاکہ لوگ قطار میں جلسہ گاہ پہنچیں اور بد نظمی نہ ہو سکے یہیں ایک منی ٹرک پر ساؤنڈ سسٹم کا آخری حصہ نصب تھا ۔اس کا مطلب یہاں کسی بندے کی کھڑے ہونے کی گنجائش ہی نہیں۔اسی سڑک کا دوسرا خالی حصہ گزشتہ جلسوں کی طرح جی سی یونیورسٹی سے لے کر امین پور بازار تک مکمل طور پر انتظامیہ کے کنٹرول میں تھا اور وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا،انتظامیہ کے پلان کے مطابق سبھی جلسوں کے لئے یہی حکمت عملی کے اپنائی گئی تاکہ کسی ناگہانی صورت حال میں ایک متبادل روٹ موجود رہے۔آپ چنیوٹ بازار سے امین پور بازار تک آسکتے ہیں آگے سارا راستہ انتظامیہ نے اسی حکمت عملی کے تحت بند کر دیا تھا جب محترم طاہرالقادری صاحب کہہ رہے تھے کہ چنیوٹ بازار تک تین لاکھ لوگ کھڑے ہیں تومیں اپنی موٹر سائیکل پر چنیوٹ بازار سے امین پور بازار کی طرف جارہا تھا اور امین پور بازار جہاں سے بیریئر لگا کر آگے جانے کا راستہ بند کر دیا تھا وہاں جلسہ کی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔
میں ایک عام شہری ہوں،میرے لئے طاہرالقادری،عمران خان سمیت سبھی سیاسی لوگ قابل احترام ہیں مگر جب جلسہ کے اختتام پر علامہ صاحب کی طرف سے لوگوں کو ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین کرتے ہوئے جلسہ گاہ کو انسانی سمندر اور جلسہ گاہ سے باہر تین سے چار لاکھ افراد کی موجودگی کی خبر نے مجھے حیرت زدہ کر دیا،مجھے حیرت تو اس الیکٹرانک میڈیا پر بھی ہے جو جانتے ہوئے بھی ،دیکھتے ہوئے بھی کیا کیا سے بنا رہا ہے۔
ویسے میں نے اپنی زندگی میں دو دفعہ دھوبی گھاٹ اور جی سی یونیورسٹی سے چنیوٹ بازار تک کے علاقہ کو انسانی سمندر بنتے دیکھا ہے اور میرے شہر کے باسی اس کے گواہ ہیں،پہلی دفعہ سن1977ء میں جب قومی اتحاد کا انتخابی مہم کا جلسہ تھا اور دوسری دفعہ 1986ء میں جب محترمہ بے نظیربھٹو طویل جلا وطنی کے بعد پاکستان آئی تھیں اورمینار پاکستان پر ہونے والے جلسہ کے بعد پنجاب کا دورہ کرتے ہوئے فیصل آباد آئیں تھیں جبکہ بزرگ کہتے ہیں 1970ء میں ذوالفقار علی بھٹو جلسہ بھی بہت بڑا تھا ۔

بدھ، 20 اگست، 2014

سارا کچھ ایک طے شدہ پلان اور سکر پٹ کے تحت ہو رہا ھے

3 تبصرے
سارا کچھ ایک طے شدہ پلان اور سکر پٹ کے تحت ہو رہا ہے ، بلانے والوں نے بلایا ہے اور جہاں جہاں تک حکم ہوگاوہاں وہاں ان پر دروازے کھلتے جا رہے ہیں ، جہاں ضرورت ختم ہو جائے گی ان کو واپسی کا حکم ہو جائے گا ، نہ نیا پاکستان بنے گا نہ انقلاب آئے ، جس "طوطے" میں ان سب کی جان ہے اسے پھر سے اڑا دیا جائے گا ،چند ردوبدل کے بعد سب کچھ معمول کے مطابق آجائے گا ، انقلاب ، انصاف اور نیا پاکستان بنانے کے لئے اسلام آباد کا رخ کرنے والے غریب عوام کھجل خوار ہو کر  گھروں کو واپس آ جائیں گے ــــــــــ
لیکن طوطا آزاد ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
لیکن قوم ان سب کو مت بھولے جنہوں نے اسے سرسٹھ سالوں میں پہلی بار یوم آزادی بھی سکون سے منانے نہیں دیا اور پندرہ دن تک قوم کے اعصاب کو سولی پر ٹانگے رکھا ۔۔۔۔۔۔۔
اس ملک کو کچھ نہیں ھو گا انشاء اللہ
کیونکہ اس کی بنیادوں میں لاکھوں ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کی عصمتوں کا خون شامل ہے ۔
تو سلامت رہے گا سدا میرے پاک وطن

بدھ، 4 جون، 2014

قائد واقعی ایسے ہوتے ہیں

3 تبصرے
میری اس سے کوئی ذاتی سناشائی نہیں تھی،کبھی ملا بھی نہیں ،بس اتنا پتہ تھا کہ سابق ایم پی اے اور جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر ہیں،
کہیں کبھی کسی خبر میں ان کا نام سننے میں آجاتا تھا ،گزشتہ روز اچانک پاکستان کے تمام چینلز پر ان کے دریائے کنہار بالاکوٹ میں ایک بچے کو بچاتے ہوئے بہہ جانے کی خبریں بریکنگ نیوز کی شکل میں آنا شروع ہو گئیں، سوشل میڈیا پر جماعت اسلامی کے کارکنوں کے جذبات ایسے تھے کہ رونا آرہاتھا، یہی وہ جذبہ ہے جو جماعت اسلامی کو دوسری جماعتوں سے ممتاز کرتا ہے ، جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ہر دور میں قربانی اور عزم و استقلال کی مثالیں قائم کی ہیں۔گزشتہ برس گجرات میں بچوں سے بھری سکول وین کو آگ لگنے کا سانحہ پیش آیا تو بچوں کو آگ سے نکالتے خود جل کر شہید ہونے والی سکول ٹیچر کا گھرانہ بھی جماعت اسلامی سے ہی تعلق رکھتا تھا، میں حیران ہوں اس عظیم انسان کی بہادری پر جس کے اپنے معصوم بچے ہیں مگر کسی کے بچے کو بچاتے بچاتے اپنی قربانی دے دی۔یہی وہ جذبہ ہے جو میرے جیسے لوگوں کو جماعت اسلامی اور اس کے کارکنوں سے محبت پر مجبور کر دیتا ہے، حیرانی ہے جو شخص سندھ اسمبلی کا رکن رہا ہو اپنے آپ کو ایک استاد کہلوانے پر فخر محسوس کرتا ہو اور بطور استاد اور شفیق باپ ان بچوں کو پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیر پر لے کے جارہا ہو، قائد واقعی ایسے ہوتے ہیں،

منگل، 29 اپریل، 2014

میاں صاحب ، خدا کے لئے بچ جاؤ ان مظلوموں کی بددعاؤں سے !

7 تبصرے

میری اس یہ پہلی ملاقات تھی ، لاپتہ افراد کے لئے ایک احتجاج کے سلسلہ میں وہ فیصل آ باد کے ضلع کونسل چوک میں موجود تھی،مجھے اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی نظر آئی جس نے خود مجھے رنجیدہ کردیا مگر جب اس نے میرے ساتھ گفتگو شروع کی تو بلا کااعتماد، سنجیدگی اورمتانت اس کے چہرے پر عیاں تھی،اپنی زندگی کے سب سے بڑے کرب سے گزرنے کے باوجود وہ اوروں کی بات کر رہی تھی ، وہ دوسروں کا انصاف فراہم کروانے کے لئے پر عزم تھی ، وہ ایک ایک کا نام جانتی تھی،ایک ایک بیوہ ماں اور بوڑھے باپ کا نام لے کر بتا رہی تھی کہ کس کس کے جوان بیٹے کو لاپتہ ہوئے کتنی کتنی دیر ہو چکی ہے، وہ جس ہمت سے میرے سامنے کھڑی تھی مجھے نہیں حوصلہ تھا کہ ان کا سامنا کرسکوں ۔مجھے میرا اپنا وجود اس کا مجرم لگ رہا تھا کیونکہ میں اس معاشرہ کا فرد ہوں جہاں آمنہ مسعود اور ڈاکٹر عافیہ جیسی خواتین ہمارے سامنے انصاف کی طلب گار ہیں مگر ہم ان کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہے مگرآفرین ہے اس بپر جو اپنے سر کا تاج گنوا کر بھی وہ ناامید نہیں اسے یقین ہے کہ اگر اسے انصاف نہیں ملا مگر وہ باقی دکھیاروں کو انصاف کے حصول میں مدد گار ضرور بنے گی۔
آمنہ مسعودجنجوعہ کا خاوند جب آمر پرویز مشرف کے دور میں لا پتہ ہوا تو کبھی نہ گھر سے نکلنے والی اس باپردہ خاتون نے اپنے خاوند کی تلاش کا بیڑا اٹھایا اورسالوں سے اپنے گمشدہ خاوند کی تلاش میں ماری ماری بھٹکتی رہی مگر کسی کو اس پررحم نہ آیا۔نام نہاد این جی اوز کا لبادہ اوڑھ کر مال پانی بنانے والی مغرب زدہ خواتین کو بھی اس کی مدد کی توفیق نہ ہوئی اور جب اس کو اس کے خاوند کے قتل کیاطلاع مل گئی تو اس نے تھک ہار کر بیٹھنے کی بجائے ان سینکڑوں بے سہارا خواتین کا سہارا بننے کا فیصلہ کر لیا جن کے پیارے لاپتہ ہیں اور اس سلسلہ میں کبھی وہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکا رہی ہوتی ہیں کبھی پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا اورکبھی شہر شہر امن واک مگر آج اسلام آباد کی فضاؤں نے جو منظر دیکھا اور ناقابل بیان ہے ،اس آمنہ کو پارلیمنٹ کے سامنے سڑکو ں پر گھسیٹا گیا۔ گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی،وردی پوش اخلاقیات تمیز احترام کے معنی بھول گئے،بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑادیں،خواتین اہل کاروں نے آمنہ مسعود پر مکوں کی بارش کردی اور اسی ہلڑ بازی میں گھسیٹتے ہوئے آمنہ مسعود کو گاڑی میں ڈالا گیا اور مظاہرین پر تاک تاک کر لاٹھیاں برسائی گئیں اور یہ سب ہوا بھی نواز شریف کے دور میں ، لگتا ہے نواز شریف کو ان مظلوموں کو لے ڈوبیں گی،ظلم آخر ظلم ہے اور پھر مظلوم کی آہ تو عرش ہلا دیتی ہے ،مجھے یاد ہے پرویز مشرف کی طرف سے نواز شریف کی حکومت کے خاتمہ سے صرف چند ماہ پہلے لاہور میں جماعت اسلامی کے بوڑھے کارکنوں کو انہیں میاں صاحبان کے حکم پر لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا،سیاسی کارکنوں پر اس تشدد کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی تب ایک بوڑھے کو میں نے بددعا دیتے دیکھا تھا،اس نے دونوں ہاتھ پھیلاکر چہرہ آسمان کی طرف کیا ہوا تھا، پتہ نہیں وہ زیر لب کیا بڑبڑا رہا مگر مجھے ایسا لگا کہ وہ اپنے رب سے ہم کلام ہورہا ،جیسے اللہ تبارک تعالی کے کانوں میں کوئی بات کہہ رہا ہے اور پھر چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ چند ماہ بعد ہی میاں صاحب جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے اورپھر انہیں جہاز کی کرسی سے باندھ کر جدہ پہنچایا گیا ۔مجھے آج پھر وہ منظر یاد آرہا ہے ،
میاں صاحب خدا کے لئے بچ جاؤ ان مظلوموں کی بددعاؤں سے ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 26 اپریل، 2014

لالچ کے اندھے اور تبدیلی کے خواہش مند

1 تبصرے
کل رات فیملی کے ہمرا فیصل آباد کے بڑے پیزا ریسٹورانٹ
جانے کا تفاق ہوا ۔وہاں اتنا رش ہوتا  ہے کہ دو سو سے زائد سیٹ ہونے کے باوجود اپنی باری کے لئے  بیس پچیس منٹ انتظار کرنا پڑتا ہے۔پیزا کے ساتھ دی جانے والی کولڈ ڈرنک انتہائی غیر معیاری تھی ،یوں سمجھ لیں کہ  پانی کے ایک گلاس میں  کوک کا ایک گھونٹ  مکس کر دیا گیا تھا،میں نے منیجر کو بلایا اور کہا  اس سے صرف ایک گھونٹ پی کر دیکھ لیں،کہنا لگا مجھے معلوم ہے سر ، ہماری مشین خراب ہے،میں نے کہا کہ اگر آپ کی مشین خراب ہے تو لکھ کر لگا دو یا لوگوں کو کولڈ ڈرنک دینے سے معذرت کر لو ، دوسری صورت میں لوگوں کو  شیشے والی بوتل دو حالانکہ ہونا بھی یہی  چاہیے کہ ہر فرد کو جراثیم سے پاک علیحدہ علیحدہ بوتل ملے ناکہ ایک بڑے ڈرم سے گلاس بھر بھر لوگوں کو  دیئے جائیں،اگر دو سو روپے والا پیزا تم لوگوں کو سات سو  روپے میں فروخت کر رہے ہو تو کم از کم اتنا تو کر لو کہ  لالچ میں اندھے ہوکر لوگوں کی صحت نہ برباد کرو۔
میرا بدلتا موڈ دیکھ کر اس نے فوری طور پر پاس سے گزرتے ہوئے ویٹر کو روکا اور کہا کہ سر کے لئے فوری طور پر فرج سے بوتل نکال کر لاؤ،میں نے اس کی ضرورت نہیں  اور نہ یہ آپ کا قصور ہے بلکہ قصور ان مالکان کا ہے جو اتنا کما کر بھی اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے اور لالچ میں میں پڑے ہوئے ہیں اور واقعی ایسے لوگوں کا پیٹ قبر کی مٹی ہی بھرے گی یا پھر وہ حکومتی ادارے  جن کی ذمہ داری ہے چیک اینڈ بیلنس کی مگر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے کیونکہ ان کو ان کا حصہ انتہائی عقیدت سے ان کے گھروں میں پہنچ جاتا ہے لیکن میری نظر میں سب سے بڑے قصور وار ہم ہیں جو پیسے ادا کرنے کے باوجود شکائت نہیں کرتے ،ظاہر اس وقت وہاں دوسو سے زائد کھا رہے تھے اور اتنے ہی اپنی باری کے انتظار میں باہر کھڑے تھے مگر اسٹیسس کے مارے شکائت کرنا  شائد توہین سمجھتے ہوں گے یا محسوس کرتے ہوں کہ لوگ کیا کہیں گے مگر یہی لوگ جب ریڑھی والے سے مونگ پھلی لے رہے ہوں تو ایک دانہ غلط آنے پر اس کو  ماں بہن کی گالیاں تک دے ڈالتے ہیں مگر یہاں اپنے اسٹیسس کو  بچانے کے لئے چپ چاپ کھائے جارہے ہیں حالانکہ مینیجر نے اقرار کیا کہ کہ ان کی مشین کی خرابی ہے جبکہ نہ تو مشین خراب تھی اور نہ کوئی اور مسئلہ ،صرف لالچ نے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے اور یہ لوگ سب سے زیادہ پاکستان میں تبدیلی کے خواہشمند ہیں،

منگل، 11 مارچ، 2014

چمنیوں کا شہر ، فیصل آباد

15 تبصرے
کسی زمانے میں چمنیوں کا شہر کہلوانے والا فیصل آباد آج دینا بھر میں ٹیکسٹائل سٹی کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کا اصل نام لائل پور تھا جو اس کو آباد کرنے والے انگریز گورنر سر چارلس جیمز لائل کے نام پر رکھا گیا تھا جسے ضیاء الحق کے زمانہ میں تبدیل کر کے سعودی فرماں روا فیصل بن عبد العزیز کے نام پر فیصل آباد کر دیا گیا ،اب بھی اس کے چاہنے والے اسے لائل پور کہنا ہی پسند کرتے ہیں مگر نئی نسل اس سے نا آشنا ہے۔ نصرت فتح علی خاں اور ارفع کریم کا یہ شہر اپنی صنعتی ترقی کی وجہ سے بہت اہمیت کا حامل ہے ، اسے ایشیا کا مانچسٹربھی کہا جاتا ہے ،کراچی اور لاہور کے بعد یہ پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے،شہر فیصل آباد کی تاریخ ایک صدی پرانی ہے۔ آج سے کم و بیش 100 سال پہلے جھاڑیوں پر مشتمل یہ علاقہ مویشی پالنے والوں کا گڑھ تھا۔ 1892ء میں اسے جھنگ اور گوگیرہ برانچ نامی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا۔ 1895ء میں یہاں پہلا رہائشی علاقہ تعمیر ہوا، جس کا بنیادی مقصد یہاں ایک منڈی قائم کرنا تھا۔ ان دنوں شاہدرہ سے شورکوٹ اور سانگلہ ہل سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مابین واقع اس علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان واقع دوآبہ رچنا کا اہم حصہ ہے۔ لائلپور شہر کے قیام سے پہلے یہاں پکا ماڑی نامی قدیم رہائشی علاقہ موجود تھا، یہ علاقہ لوئر چناب کالونی کا مرکز قرار پایا اور بعد ازاں اسے میونسپلٹی کا درجہ دے دیا گیا۔موجودہ ضلع فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ کرتے۔ اس زمانے کے انگریز سیاح اسے ایک شہر بنانا چاہتے تھے۔ فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ،جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا،لاہور جانے کے لئے تمام تاجر اور سیاح یہاں پڑا کرتے تھے،آہستہ آہستہ اس کی اہمیت بڑھتی گئی اور اس بڑھتی ہوئی اہمیت کا اندازہ ایک سیاح انگریز کو بہتر طور پر ہوا تو اس نے اِس شہر کو بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ اس کا نمونہ کیپٹن پوہم ینگ نے برطانیہ کے جھنڈے یونین جیک کی طرز پر ڈیزائن کیا۔ جھنڈے پر بنی آٹھ لکیروں کو ظاہر کرنے کے لے آٹھ بازار بنائے گئے اور ان کے عین وسط میں ایک بہت بڑا کلاک ٹاور تعمیر کیا گیا ،ان بازاروں کو بڑے عمدہ فنِ تعمیر سے تیار کیا گیا، انگریزوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ لائلپور کے آٹھ بازاروں کی صورت میں اپنی شناخت، برطانوی پرچم (یونین جیک) ہمیشہ کے لئے اس خطے میں امر کر کے جا رہے ہیں مگر یہاں کے باسیوں کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ برطانیہ کے پرچم کو صبح و شام اپنے قدموں تلے روندھتے رہیں گے۔ 
قیام پاکستان کے بعد شہر میں آہستہ آہستہ انڈسٹریل کاموں کا آغاز ہوتا گیا اور ملحقہ علاقوں میں سے لوگ شہر کی طرف آنا شروع ہو گئے۔1985میں اس شہر کوڈویژن کا درجہ دے دیا گیا جس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور فیصل آباد اضلاع شامل کیے گئے۔اب ضلع چنیوٹ بھی شامل ہو گیا ہے۔ضلع فیصل آباد کا کل رقبہ1280مربع کلو میٹر کے قریب ہے جبکہ اس کی آبادی تقریبا پچاس لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے اس طرح یہ کراچی اور لاہور کے بعد ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے۔

فیصل آباد کی تاریخ ، نمایاں افراد ، تعلیمی اداروں اور تاریخی مقامات کے بارے میں انشا ء اللہ اقساط میں لکھوں گا۔

اس پوسٹ کی تیاری میں مختلف تحقیاتی مقالہ جات ،ضلعی انتظامیہ اور تاریخی کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔

فیصل آباد کی تاریخی عمارات اور دیگر مقامات کی تصویریں دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

جدید تھری ڈی ٹیکنالوجی سے فیصل آباد کے آٹھ بازار اور ملحقہ علاقے دیکھنے لئے یہاں کلک کریں

اتوار، 26 جنوری، 2014

مریم سجاد کو انصاف مل گیا ، شکریہ سوشل میڈیا

2 تبصرے

ایک سال پہلے فیصل آباد کے ایک درندہ صفت ڈاکٹر پروفیسر رسول چوہدری نے غلط آپریشن کر کے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بی ایس سی پلانٹ بریڈنگ اینڈ جنیڈر نگ انجینئر نگ میں تیسرے سال اور پانچویں سمسٹر کی طالبہ اور وزیر اعلی پنجاب کی سکیم کے تحت لیپ ٹاپ ہولڈر مریم سجاد کو عمر بھر کے لئے معذور کر دیا ، میں نے بھی اس پر بلاگ لکھا اور سوشل میڈیا پر مہم بھی چلائی ، فیصل آباد کے پریس نے  اس معصوم بچی کا بھر پور ساتھ دیا ، ہم لوگ اگر چہ اس کو  اس کا صحت مند جسم واپس تو نہ دلا سکے مگر اس ڈاکٹر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ان کی ضرور مدد کی جس کے نتیجہ میں  پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے ڈاکٹر پروفیسر رسول چوہدری کی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی ممبر منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تاحیات مراعات ، پنشن وغیرہ ضبط کر کے  متاثرہ بچی کو دینے کا حکم دیا ہے جبکہ  الائیڈ ہسپتال کی انتظامیہ کو بھی غفلت کا مرتکب پائے جانے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ پاک اس معصوم بچی کو صحت کاملہ عطا فرمائے ، میں فیصل آباد کی صحافی برادری کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اس کیس کو ہائی لائٹ کیا اور سوشل میڈیا پر موجود ان  ہزاروں احباب کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے میرے بلاگ کو فیس بک ، ٹویٹر  پر شیئر کیا ، وہ احباب جنہوں نے اسے میرے بلاگ سے کاپی کر کے اپنے اخبارات میں چھاپا اور اس معصوم بچی کو انصاف کا حصول ممکن ہوا،اگر چہ  یہ  سب کچھ مریم کا وہ سب نہیں  لوٹا سکتے جو اس نے کھو دیا لیکن  توقع کی جا سکتی ہے شائد  ان سزاؤں پر عمل درآمد سے ان انسان کے لبادے میں چھپے ہوئے بھیڑیوں میں کچھ کمی آ سکے۔

.