منگل، 29 اپریل، 2014

میاں صاحب ، خدا کے لئے بچ جاؤ ان مظلوموں کی بددعاؤں سے !

7 تبصرے

میری اس یہ پہلی ملاقات تھی ، لاپتہ افراد کے لئے ایک احتجاج کے سلسلہ میں وہ فیصل آ باد کے ضلع کونسل چوک میں موجود تھی،مجھے اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی نظر آئی جس نے خود مجھے رنجیدہ کردیا مگر جب اس نے میرے ساتھ گفتگو شروع کی تو بلا کااعتماد، سنجیدگی اورمتانت اس کے چہرے پر عیاں تھی،اپنی زندگی کے سب سے بڑے کرب سے گزرنے کے باوجود وہ اوروں کی بات کر رہی تھی ، وہ دوسروں کا انصاف فراہم کروانے کے لئے پر عزم تھی ، وہ ایک ایک کا نام جانتی تھی،ایک ایک بیوہ ماں اور بوڑھے باپ کا نام لے کر بتا رہی تھی کہ کس کس کے جوان بیٹے کو لاپتہ ہوئے کتنی کتنی دیر ہو چکی ہے، وہ جس ہمت سے میرے سامنے کھڑی تھی مجھے نہیں حوصلہ تھا کہ ان کا سامنا کرسکوں ۔مجھے میرا اپنا وجود اس کا مجرم لگ رہا تھا کیونکہ میں اس معاشرہ کا فرد ہوں جہاں آمنہ مسعود اور ڈاکٹر عافیہ جیسی خواتین ہمارے سامنے انصاف کی طلب گار ہیں مگر ہم ان کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہے مگرآفرین ہے اس بپر جو اپنے سر کا تاج گنوا کر بھی وہ ناامید نہیں اسے یقین ہے کہ اگر اسے انصاف نہیں ملا مگر وہ باقی دکھیاروں کو انصاف کے حصول میں مدد گار ضرور بنے گی۔
آمنہ مسعودجنجوعہ کا خاوند جب آمر پرویز مشرف کے دور میں لا پتہ ہوا تو کبھی نہ گھر سے نکلنے والی اس باپردہ خاتون نے اپنے خاوند کی تلاش کا بیڑا اٹھایا اورسالوں سے اپنے گمشدہ خاوند کی تلاش میں ماری ماری بھٹکتی رہی مگر کسی کو اس پررحم نہ آیا۔نام نہاد این جی اوز کا لبادہ اوڑھ کر مال پانی بنانے والی مغرب زدہ خواتین کو بھی اس کی مدد کی توفیق نہ ہوئی اور جب اس کو اس کے خاوند کے قتل کیاطلاع مل گئی تو اس نے تھک ہار کر بیٹھنے کی بجائے ان سینکڑوں بے سہارا خواتین کا سہارا بننے کا فیصلہ کر لیا جن کے پیارے لاپتہ ہیں اور اس سلسلہ میں کبھی وہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکا رہی ہوتی ہیں کبھی پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا اورکبھی شہر شہر امن واک مگر آج اسلام آباد کی فضاؤں نے جو منظر دیکھا اور ناقابل بیان ہے ،اس آمنہ کو پارلیمنٹ کے سامنے سڑکو ں پر گھسیٹا گیا۔ گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی،وردی پوش اخلاقیات تمیز احترام کے معنی بھول گئے،بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑادیں،خواتین اہل کاروں نے آمنہ مسعود پر مکوں کی بارش کردی اور اسی ہلڑ بازی میں گھسیٹتے ہوئے آمنہ مسعود کو گاڑی میں ڈالا گیا اور مظاہرین پر تاک تاک کر لاٹھیاں برسائی گئیں اور یہ سب ہوا بھی نواز شریف کے دور میں ، لگتا ہے نواز شریف کو ان مظلوموں کو لے ڈوبیں گی،ظلم آخر ظلم ہے اور پھر مظلوم کی آہ تو عرش ہلا دیتی ہے ،مجھے یاد ہے پرویز مشرف کی طرف سے نواز شریف کی حکومت کے خاتمہ سے صرف چند ماہ پہلے لاہور میں جماعت اسلامی کے بوڑھے کارکنوں کو انہیں میاں صاحبان کے حکم پر لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا،سیاسی کارکنوں پر اس تشدد کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی تب ایک بوڑھے کو میں نے بددعا دیتے دیکھا تھا،اس نے دونوں ہاتھ پھیلاکر چہرہ آسمان کی طرف کیا ہوا تھا، پتہ نہیں وہ زیر لب کیا بڑبڑا رہا مگر مجھے ایسا لگا کہ وہ اپنے رب سے ہم کلام ہورہا ،جیسے اللہ تبارک تعالی کے کانوں میں کوئی بات کہہ رہا ہے اور پھر چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ چند ماہ بعد ہی میاں صاحب جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے اورپھر انہیں جہاز کی کرسی سے باندھ کر جدہ پہنچایا گیا ۔مجھے آج پھر وہ منظر یاد آرہا ہے ،
میاں صاحب خدا کے لئے بچ جاؤ ان مظلوموں کی بددعاؤں سے ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 26 اپریل، 2014

لالچ کے اندھے اور تبدیلی کے خواہش مند

1 تبصرے
کل رات فیملی کے ہمرا فیصل آباد کے بڑے پیزا ریسٹورانٹ
جانے کا تفاق ہوا ۔وہاں اتنا رش ہوتا  ہے کہ دو سو سے زائد سیٹ ہونے کے باوجود اپنی باری کے لئے  بیس پچیس منٹ انتظار کرنا پڑتا ہے۔پیزا کے ساتھ دی جانے والی کولڈ ڈرنک انتہائی غیر معیاری تھی ،یوں سمجھ لیں کہ  پانی کے ایک گلاس میں  کوک کا ایک گھونٹ  مکس کر دیا گیا تھا،میں نے منیجر کو بلایا اور کہا  اس سے صرف ایک گھونٹ پی کر دیکھ لیں،کہنا لگا مجھے معلوم ہے سر ، ہماری مشین خراب ہے،میں نے کہا کہ اگر آپ کی مشین خراب ہے تو لکھ کر لگا دو یا لوگوں کو کولڈ ڈرنک دینے سے معذرت کر لو ، دوسری صورت میں لوگوں کو  شیشے والی بوتل دو حالانکہ ہونا بھی یہی  چاہیے کہ ہر فرد کو جراثیم سے پاک علیحدہ علیحدہ بوتل ملے ناکہ ایک بڑے ڈرم سے گلاس بھر بھر لوگوں کو  دیئے جائیں،اگر دو سو روپے والا پیزا تم لوگوں کو سات سو  روپے میں فروخت کر رہے ہو تو کم از کم اتنا تو کر لو کہ  لالچ میں اندھے ہوکر لوگوں کی صحت نہ برباد کرو۔
میرا بدلتا موڈ دیکھ کر اس نے فوری طور پر پاس سے گزرتے ہوئے ویٹر کو روکا اور کہا کہ سر کے لئے فوری طور پر فرج سے بوتل نکال کر لاؤ،میں نے اس کی ضرورت نہیں  اور نہ یہ آپ کا قصور ہے بلکہ قصور ان مالکان کا ہے جو اتنا کما کر بھی اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے اور لالچ میں میں پڑے ہوئے ہیں اور واقعی ایسے لوگوں کا پیٹ قبر کی مٹی ہی بھرے گی یا پھر وہ حکومتی ادارے  جن کی ذمہ داری ہے چیک اینڈ بیلنس کی مگر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے کیونکہ ان کو ان کا حصہ انتہائی عقیدت سے ان کے گھروں میں پہنچ جاتا ہے لیکن میری نظر میں سب سے بڑے قصور وار ہم ہیں جو پیسے ادا کرنے کے باوجود شکائت نہیں کرتے ،ظاہر اس وقت وہاں دوسو سے زائد کھا رہے تھے اور اتنے ہی اپنی باری کے انتظار میں باہر کھڑے تھے مگر اسٹیسس کے مارے شکائت کرنا  شائد توہین سمجھتے ہوں گے یا محسوس کرتے ہوں کہ لوگ کیا کہیں گے مگر یہی لوگ جب ریڑھی والے سے مونگ پھلی لے رہے ہوں تو ایک دانہ غلط آنے پر اس کو  ماں بہن کی گالیاں تک دے ڈالتے ہیں مگر یہاں اپنے اسٹیسس کو  بچانے کے لئے چپ چاپ کھائے جارہے ہیں حالانکہ مینیجر نے اقرار کیا کہ کہ ان کی مشین کی خرابی ہے جبکہ نہ تو مشین خراب تھی اور نہ کوئی اور مسئلہ ،صرف لالچ نے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے اور یہ لوگ سب سے زیادہ پاکستان میں تبدیلی کے خواہشمند ہیں،

منگل، 11 مارچ، 2014

چمنیوں کا شہر ، فیصل آباد

15 تبصرے
کسی زمانے میں چمنیوں کا شہر کہلوانے والا فیصل آباد آج دینا بھر میں ٹیکسٹائل سٹی کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کا اصل نام لائل پور تھا جو اس کو آباد کرنے والے انگریز گورنر سر چارلس جیمز لائل کے نام پر رکھا گیا تھا جسے ضیاء الحق کے زمانہ میں تبدیل کر کے سعودی فرماں روا فیصل بن عبد العزیز کے نام پر فیصل آباد کر دیا گیا ،اب بھی اس کے چاہنے والے اسے لائل پور کہنا ہی پسند کرتے ہیں مگر نئی نسل اس سے نا آشنا ہے۔ نصرت فتح علی خاں اور ارفع کریم کا یہ شہر اپنی صنعتی ترقی کی وجہ سے بہت اہمیت کا حامل ہے ، اسے ایشیا کا مانچسٹربھی کہا جاتا ہے ،کراچی اور لاہور کے بعد یہ پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے،شہر فیصل آباد کی تاریخ ایک صدی پرانی ہے۔ آج سے کم و بیش 100 سال پہلے جھاڑیوں پر مشتمل یہ علاقہ مویشی پالنے والوں کا گڑھ تھا۔ 1892ء میں اسے جھنگ اور گوگیرہ برانچ نامی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا۔ 1895ء میں یہاں پہلا رہائشی علاقہ تعمیر ہوا، جس کا بنیادی مقصد یہاں ایک منڈی قائم کرنا تھا۔ ان دنوں شاہدرہ سے شورکوٹ اور سانگلہ ہل سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مابین واقع اس علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان واقع دوآبہ رچنا کا اہم حصہ ہے۔ لائلپور شہر کے قیام سے پہلے یہاں پکا ماڑی نامی قدیم رہائشی علاقہ موجود تھا، یہ علاقہ لوئر چناب کالونی کا مرکز قرار پایا اور بعد ازاں اسے میونسپلٹی کا درجہ دے دیا گیا۔موجودہ ضلع فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ کرتے۔ اس زمانے کے انگریز سیاح اسے ایک شہر بنانا چاہتے تھے۔ فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ،جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا،لاہور جانے کے لئے تمام تاجر اور سیاح یہاں پڑا کرتے تھے،آہستہ آہستہ اس کی اہمیت بڑھتی گئی اور اس بڑھتی ہوئی اہمیت کا اندازہ ایک سیاح انگریز کو بہتر طور پر ہوا تو اس نے اِس شہر کو بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ اس کا نمونہ کیپٹن پوہم ینگ نے برطانیہ کے جھنڈے یونین جیک کی طرز پر ڈیزائن کیا۔ جھنڈے پر بنی آٹھ لکیروں کو ظاہر کرنے کے لے آٹھ بازار بنائے گئے اور ان کے عین وسط میں ایک بہت بڑا کلاک ٹاور تعمیر کیا گیا ،ان بازاروں کو بڑے عمدہ فنِ تعمیر سے تیار کیا گیا، انگریزوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ لائلپور کے آٹھ بازاروں کی صورت میں اپنی شناخت، برطانوی پرچم (یونین جیک) ہمیشہ کے لئے اس خطے میں امر کر کے جا رہے ہیں مگر یہاں کے باسیوں کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ برطانیہ کے پرچم کو صبح و شام اپنے قدموں تلے روندھتے رہیں گے۔ 
قیام پاکستان کے بعد شہر میں آہستہ آہستہ انڈسٹریل کاموں کا آغاز ہوتا گیا اور ملحقہ علاقوں میں سے لوگ شہر کی طرف آنا شروع ہو گئے۔1985میں اس شہر کوڈویژن کا درجہ دے دیا گیا جس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور فیصل آباد اضلاع شامل کیے گئے۔اب ضلع چنیوٹ بھی شامل ہو گیا ہے۔ضلع فیصل آباد کا کل رقبہ1280مربع کلو میٹر کے قریب ہے جبکہ اس کی آبادی تقریبا پچاس لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے اس طرح یہ کراچی اور لاہور کے بعد ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے۔

فیصل آباد کی تاریخ ، نمایاں افراد ، تعلیمی اداروں اور تاریخی مقامات کے بارے میں انشا ء اللہ اقساط میں لکھوں گا۔

اس پوسٹ کی تیاری میں مختلف تحقیاتی مقالہ جات ،ضلعی انتظامیہ اور تاریخی کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔

فیصل آباد کی تاریخی عمارات اور دیگر مقامات کی تصویریں دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

جدید تھری ڈی ٹیکنالوجی سے فیصل آباد کے آٹھ بازار اور ملحقہ علاقے دیکھنے لئے یہاں کلک کریں

اتوار، 26 جنوری، 2014

مریم سجاد کو انصاف مل گیا ، شکریہ سوشل میڈیا

2 تبصرے

ایک سال پہلے فیصل آباد کے ایک درندہ صفت ڈاکٹر پروفیسر رسول چوہدری نے غلط آپریشن کر کے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بی ایس سی پلانٹ بریڈنگ اینڈ جنیڈر نگ انجینئر نگ میں تیسرے سال اور پانچویں سمسٹر کی طالبہ اور وزیر اعلی پنجاب کی سکیم کے تحت لیپ ٹاپ ہولڈر مریم سجاد کو عمر بھر کے لئے معذور کر دیا ، میں نے بھی اس پر بلاگ لکھا اور سوشل میڈیا پر مہم بھی چلائی ، فیصل آباد کے پریس نے  اس معصوم بچی کا بھر پور ساتھ دیا ، ہم لوگ اگر چہ اس کو  اس کا صحت مند جسم واپس تو نہ دلا سکے مگر اس ڈاکٹر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ان کی ضرور مدد کی جس کے نتیجہ میں  پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے ڈاکٹر پروفیسر رسول چوہدری کی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی ممبر منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تاحیات مراعات ، پنشن وغیرہ ضبط کر کے  متاثرہ بچی کو دینے کا حکم دیا ہے جبکہ  الائیڈ ہسپتال کی انتظامیہ کو بھی غفلت کا مرتکب پائے جانے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ پاک اس معصوم بچی کو صحت کاملہ عطا فرمائے ، میں فیصل آباد کی صحافی برادری کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اس کیس کو ہائی لائٹ کیا اور سوشل میڈیا پر موجود ان  ہزاروں احباب کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے میرے بلاگ کو فیس بک ، ٹویٹر  پر شیئر کیا ، وہ احباب جنہوں نے اسے میرے بلاگ سے کاپی کر کے اپنے اخبارات میں چھاپا اور اس معصوم بچی کو انصاف کا حصول ممکن ہوا،اگر چہ  یہ  سب کچھ مریم کا وہ سب نہیں  لوٹا سکتے جو اس نے کھو دیا لیکن  توقع کی جا سکتی ہے شائد  ان سزاؤں پر عمل درآمد سے ان انسان کے لبادے میں چھپے ہوئے بھیڑیوں میں کچھ کمی آ سکے۔

جمعرات، 23 جنوری، 2014

ذرا سوچئے ! کب ہمارے حالات بدلیں گے

3 تبصرے
یہ تحریر 2013کی جنوری میں  اپنے سابقہ بلاگ پرلکھی تھی،تب بھی موسم اتنا ہی سرد تھا ، یہی خون کو جمادینے والی سردی اور یہی حادثہ ، اسی طرح لوگ میتوں کو لئے بیٹھے تھے ، آج ایک سال گزر گیا ، ایک حکومت آئی چلی گئی،دوسرے بھی سات ماہ گزار چکے ہیں ، نہ بدلے تو ان غریبوں کے حالات نہ بدلے، ان کی زندگیاں محفوظ نہ ہو سکیں۔آج پھر یہ اپنے پیاروں کی لاشیں لئے لئے بیٹھے ہیں۔ ذرا سابق تحریر کو پڑھیئے ، سوچئے ! کب ہمارے حالات بدلیں گے



یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟
By Mustafa Malik on جنوری 13, 2013
کوئٹہ میں رگوں میں اتر جانے والی سردی ہے، درجہ حرارت منفی آٹھ سے بھی بڑھ چکا ہے. معصوم بچے اور باپردہ خواتین گزشتہ تین دن سے اپنے بیاسی بے گناہ پیاروں کی لاشیں لئے بیٹھے ہیں۔ایسا احتجاج تو شائد معلوم تاریخ میں کہیں نہ ہوا ہو۔اس نے ملک کے کونے کونے میں موجود ہر انسان کو ہلا کر رکھ دیا

پاکستان کی تاریخ کا دردناک احتجاج ہے بےحس حکمران خاموش تماشا ئی بنے ہوئے ہیں ۔ کب ان کی غیرت جاگے گی کب تک ہم یونہی بے گناہوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ سینکڑوں لوگ لاشوں کو لے کر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ پکار پکار کر پوری قوم کو اپنی بے بسی سے آگاہ کررہے ہیں ان کی آواز میں آواز ملانا پوری قوم کا فرض ہے ۔ آج وہ جس اذیت سے دوچار ہیں اگر ان کا ساتھ نہ دیا گیا تو کل دوسرے صوبے میں بھی لوگ میتیں اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔ پوری قوم شہدا کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے ۔ وفاقی حکومت کو ان کے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے

یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟





پیر، 6 جنوری، 2014

میرا قاضی بابا

1 تبصرے
رات کا آخری پہر تھا ، سیل فون کی گھنٹی سے میں نیم غنودگی کی حالت میں یک دم چونک کر اٹھا ، بیٹی کی کال تھی ۔۔ یا اللہ خیر اس وقت آنے والی کال کبھی خیر کی خبر نہیں لاتی۔ میں نے آن کیا ہی تھا میرے سلام سے پہلے اس کی آواز آئی ۔ابو جی !!!!!! کیا ہوا بیٹا ، ابو جی! ٹی وی پرقاضی بابا کے انتقال کی خبر چل رہی ہے۔ میں نے کہا بیٹا یہاں تو لائٹ آف ہے ،آپ دوبارہ غور سے پڑ ھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو کافی دیر سے دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔۔ اچھا میں پتہ کرتا ہوں۔ میں نے فون بندکردیا ، مجھے ایسے لگا یہ لوڈ شیڈنگ کا اندھیرا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ واقعی دور کہیں اندھیرا چھا گیا ہے۔ بیٹی کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا ، بجلی تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی،کس سے تصدیق کروں۔۔ کچھ دیر بعد احباب کی ایس ایم ایس آنا شروع ہوگئے،بابا واقعی چلا گیا۔ قاضی صاحب پاکستان کی سیاست کا ایک ایسا روشن ستارہ تھے جو آنے والوں کے لئے مینارہ نور ثابت ہوں گے۔اقتدار کے ایوانوں سے افغانستان کے سنگلاک پہاڑوں تک ہر جگہ اپنی دیانت داری ، شرافت، بردباری اور اخلاق کی ایسی مثالیں چھوڑ گئے ہیں جنہیں لوگ رہتی دنیا تک بطور مثال پیش کیا کریں گے۔ میں اپنی زندگی میں ن لوگوں سے بے حد متاثر ہوا ان میں قاضی بابا کا نام سر فہرست ہے بلکہ قاضی صاحب کی طلسماتی شخصیت ہی تھی جو مجھے جماعت کے قریب لے کر آئی۔میری والدہ کے انتقال پر میرے گھر خود تشریف لائے ، لوگ انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے ،اتنی بڑی شخصیت اور اتنی سادگی۔2008 میں جماعت اسلامی کے مینار پاکستان پر کل پاکستان اجتماع عام کے موقع پر ان کی اختتامی تقریر ہو رہی تھی ۔میں پریس انکلوژر میں موجود تھا،مغرب کا وقت قریب تھا کہ اچانک انہوں نے کہا کہ میرے عزیزو! اب انشا ء اللہ جنت میں ملاقات ہوگی۔ میں نے پاس کھڑے دوست سے کہا یار، بابا جی تو بہت بڑی بات کہہ گئے ہیں۔پتہ نہیں کسی کو سمجھ بھی لگی کہ نہیں،قاضی کا اپنے ان لاکھوں بیٹوں سے بچھڑنے کا وقت آ گیا ہے، پھر جب انہوں نے اگلے امیر جماعت بننے سے معذرت کی تو لگا کہ ولی اللہ کو اپنے جانے کا وقت معلوم ہو گیا ہے۔قاضی صاحب جیسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے ۔ بنی اکرم ﷺ اور امت مسلمہ سے محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی،انہوں نے اپنی زندگی امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ان کی المناک رحلت سے قوم ایک محب وطن اور امت مسلمہ کا درد دل رکھنے والے مدبر اورزیرک سیاست دان سے محروم ہو گئی ۔ پاکستان کی سیا ست میں ان کا لازوال کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ملکی سیاست پر ان شخصیت کے انمٹ نقوش ہمیشہ موجود رہیں گے۔ پاکستان میں امانت،دیانت اور شجاعت کی سیاست کا ایک باب بند ہوگیا ہے،ملک میں قیامِ امن،اور اتحاد امت کے لیے ان کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کی سربلندی کی کوششوں میں گزاری۔وہ اتحاد امت کے داعی تھے۔وہ ملک میں یکجہتی اور بھائی چارے کے فروغ کیلئے کوشاں رہے۔اختلافات رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے افراد کو انہوں نے ایک لڑی میں پرویا۔ان کی زندگی سادگی ،قناعت اور محنت سے عبارت تھی۔وہ اتحاد و اخوت کے علمبردار رہے۔ پاکستان میں امن،سیاسی استحکام اور اسلامی نظام کا نفاذ ان کی شدید خواہش تھی۔ اللہ پاک ان پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔

قاضی حسین احمد کی پہلی برسی پر

پیر، 30 دسمبر، 2013

صدرممنون حسین کی تصاویرپرقومی خزانےسے15لاکھ روپےخرچ

6 تبصرے
خبر ہے صدر ممنون حسین کی تصاویر پر قومی خزانے سے 15 لاکھ روپے خرچ کردیے گئے ، آصف زرداری کی تصاویر بھی 9لاکھ روپے میں تیار ہوئی تھیں ،ہمارے ہاں پنجابی میں کہتے ہیں "پلے نہیں دھیلا تے کر دی میلہ میلہ " اور یہی حال ان حکمرانوں کا ہے،ایک طرف قوم کا بچہ بچہ قرضوں کے بوجھ تلے دب رہا ہے تو دوسری طرف ان کے شوق دیکھیں۔ زرعی ملک ہونے کے باوجو ہم آلو پیاز کے سستے حصول کے لیے ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ پاکستان غریب ملک نہیں بلکہ ہر طرح کے معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے لیکن حکمرانوں نے کرپشن اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ کی بدولت پاکستان کو ایک مقروض ملک اور اس کے عوام کو ذلیل و خوار کر کے رکھ دیاہے ۔پاکستانی حکمران اگر قوم سے مخلص ہیں تو بیرون ملک سابق حکمرانوں ، بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کی اربوں ڈالر ز کی رقوم واپس لانے کا اہتمام کریں تو ملک قرضوں سے بھی نجات 
حاصل کر سکتاہے اور آئی ایم ایف کے پھندے سے بھی گلو خلاصی ہوسکتی ہے۔ حکمران پٹرولیم مصنوعات ،بجلی اور گیس کی قیمتوں اضافہ اور نئے ٹیکس لگا کر اپنے شاہانہ اخرجات پورے کررہے ہیں۔ کرپشن ختم کرنے اور مہنگائی و بے روزگاری پر قابو پانے کی بجائے اپنی ساری توانائیاں آئی ایم ایف سے قرض کے حصول پر لگا رہے ہیں اورآئی ایم ایف حکمرانوں کو عوام کے جسم سے خون کا آخری قطرہ نچوڑ لینے کے احکامات دے رہا ہے، سابقہ اور موجودہ حکمرانوں ملک کو بدترین معاشی بحران کا شکار کر دیا ہے اور حکمران بھول رہے ہیں کہ معاشی بحران سیاسی بحرانوں میں بدلتے دیر نہیں لگتی ۔جب لوگوں کی امید یں محرومیوں میں بدلتی ہیں تو ان کے تیور بھی بدل جاتے ہیں ،زندہ باد کے نعرے لگانے والے مردہ باد کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔حکمران حالات پر جلد قابو پانے میں ناکام رہے تو لوگ مرنے مارنے پر تل جائیں گے ۔ انتخابات میں عوام نے تبدیلی ، انقلاب اور نیا پاکستان کے نعروں سے متاثر ہو کر جن توقعات کا اظہار کیا تھا وہ اب تیزی سے مایوسیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔خوشنما نعروں اور بلند وبانگ دعوؤں پر ووٹ دینے والے بددل اور مایوس ہوکر حکومت کا ماتم کررہے ہیں۔زرداری ٹولہ اتنی بدنامی پانچ سال میں نہیں سمیٹ سکا جتنی موجودہ حکومت نے چھ ماہ میں سمیٹ لی ہے۔ جن لوگوں نے حکمرانوں کو جھولیا ں بھر بھر کر ووٹ دیے وہ ابھی انہیں جھولیاں اٹھا اٹھا کر بدعائیں دیتے نظر آتے ہیں ۔سنا ہے جب فرانس میں انقلاب آیا تھا تو لوگوں کا ایک بڑا ہجوم بادشاہ قت کے محل کے سامنے نعرے لگا رہاتھا ،شہزادی نے پوچھا لوگ کیوں چیخ رہے ہیں تو انہیں بتایا گیا کہ لوگوں کو روٹی نہیں مل رہی ۔کہنے لگیں روٹی نہیں مل رہی تو ڈبل روٹی کھا لیں، یہی حال موجودہ حکمرانوں کا ہے۔کاش انہیں کوئی سمجھا دے اگر عوام اٹھ کھڑے ہو گئے تو ان کو بھاگنے کا بھی موقع نہیں مل سکے گا۔

.