اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو ماں کی یاد شدت سے آنے لگتی ہے،حالانکہ اگست نہ تو ان کی پیدائش کا مہینہ ہے اور نہ ہی وفات کا،اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہم چھت پر پاکستانی پرچم اور جھنڈیاں لگانے کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے ۔ سارا
دن انہی تیاریوں میں گزر جاتا مگر جب بھی ماں پر نظر پڑتی وہ ان جھنڈیوں اور پرچموں کو دیکھ کر چپکے چپکے رورہی ہوتی،بڑا دکھ ہوتا کہ آخر کیا ہے جو ماں ہمیشہ انہی دنوں میں روتی ہے،ذرا ہوش سنبھالا تو ماں سے پوچھنا شروع کیا کہ آپ کیوں روتی ہو؟۔ماں کہنے لگی پتر یہ جو آپ محض جھنڈیاں لگا کر آزادی کا جشن منا لیتے ہو تمہیں پتہ ہے اس آزادی کے لئے تمہاری ماں نے کتنی قربانی دی ہے ؟ ماں بولتی چلی گئی ہم روتے رہے ،ماں کہتی بیٹا جب ہم اسی رمضان کے مبارک مہینہ میں اپنے پاک وطن کے لئے جس کی بنیاد ہر کلمہ شریف پر رکھی گئی ،ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، لاکھوں کا سازوسامان گھروں میں چھوڑ کر مہاجر ہو گئے ۔تمہارا چند ماہ کا بھائی میری گود میں تھا، ہمارے قافلہ پر سکھوں نے حملہ کیا۔ست سری اکال کا نعرہ لگانے والے انسانیت کو بھول گئے جو سامنے آیا اسے گاجر مولی کی طرح کاٹتے چلے گئے۔ اپنے معصوم بچے کو بچانے کی پاداش میں میرے دونوں بازو ان کی تلواروں اور کرپانوں نے لہو لہان کر دیئے،میری انگلیاں میرے سامنے کٹ کر گر گئیں مگر میں پھر بھی تمہارے بھائی کو ان ظالمو سے نہ بچا سکی، پتہ نہیں کون کدھر چلا گیا سب بھاگ گئے ،میں بے ہوش ہو گئی ،آنکھ کھلی تو ارد گرد لاشوں کے ڈھیر تھے اور تمہارے معصوم بھائی کی لاش کے ٹکڑے میرے پاس بکھرے پڑے تھے۔ پتہ نہیں کس نے لاہور پہنچایا اور پھر ہسپتالوں میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تمہارے والد کیسے ہم تک پہنچے ، یہ ایک دردناک کہانی ہے جو کسی لمحے یادوں سے اوجھل نہیں ہوتی مگر اب صرف جھنڈیاں اور پرچم لہرا کر،موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر سڑکوں پر ڈانس کرکے یوم آزادی منایا جارہا ہے۔ان شہیدوں کو اوران کی قربانیوں کو بھلا کر امن کی آشا لہرائی جا رہی ہے،ہماری قربانیوں کو بٹوارا کا نام دے کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ آج ہم جو آزادی کے سانس لے رہے ہیں یہ آزادی دراصل برصغیر کے شہدا کی بے تحاشا قربانیوں کا ثمر ہے۔ یہ پیارا پاکستان ہمیں اپنے شہدا کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔جمعرات، 1 اگست، 2013
اتوار، 16 جون، 2013
فادرز ڈے ، بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں
rdugardening.blogspot.com
اتوار, جون 16, 2013
33
تبصرے
اتوار, جون 16, 2013
33
تبصرے
آج 16جون کو دنیا بھر میں فادرز ڈے منایا جارہا ہے،صبح آنکھ کھلی تو سب سے پہلا ایس ایم ایس بیٹی کی طرف سے آیا ہوا تھا ، ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے کی ضد میں رات بارہ بجے تک جاگتی رہی ہوگی کہ ابو کو پہلا ایس ایم ایس اس کی طرف سے ہی جائے ۔ تب کہیں پڑ ھی ایک حکائت یاد آگئی،آپ بھی پڑہیں
شادی کی پہلی رات شوہر اور نئی نویلی دلہن نے فیصلہ کیا کہ
صبح کوئی بھی آئے ہم دروازہ نہیں کھولیں گے۔صبح سب سے پہلے شوہر کے والدین نے
دروازے پر دستک دی ،دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور معاہدہ کے مطابق کوئی بھی
دروازہ کھولنے کے لئے نہیں اٹھا، چند
گھنٹے بعد ہونے والی دوسری دستک شوہر کی بہن کی تھی مگر اس نے اپنے دل پر جبر کرتے
ہوئے اسے بھی نظر انداز کر دیا۔دروازے پر ہونے والی اگلی دستک دلہن کے والد نے دی۔اپنے
پاب کی آواز سن کر وہ یک دم چونکی،شوہر کی طرف دیکھا اور آبدیدہ آنکھوں سے
کہنے لگی،میں اپنے پاب کے لئے ضرور دروازہ کھولوں گی اور بھاک کر دروازہ کھول دیا۔
شوہر نے اسے کچھ نہ کہا۔ اس واقعہ کو سالہا سالبیت گئے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں چار خوبصورت بیٹوں سے نوازا،چار بھائیوں کے
بعد ان کے گھر بیٹی پیدا ہوئی تو اس کے باپ نے ایک بہت بڑی پارٹی کا اہتمام کیا
اور تمام رشتہ داروں کو مدعو کیا، وہاں کسی نے پوچھا بھائی اتنی بڑی پارٹی تو تم نے
بیٹوں کی پیدائش پر نہیں دی ،اب کیوں؟ تب
اس سالوں پہلا قصہ دہرا کر کہا کہ" اب دنیا میں وہ آئی ہے جو میرے لئے دروازہ
کھولے گی"
بیٹیاںرحمت خداوندی ہیں ،۔ بیٹیاں اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں۔۔۔ باپ کے لیے سکون ، چاہت اور
خوشی کا ذریعہ۔۔۔ ان کی پہلی محبت ان کا باپ ہوتا ہے۔ ان کے لیے ان
کے باپ سے اچھا دنیا میں کوئی اور ہوتا ہی
نہیں۔۔۔
جمعرات، 13 جون، 2013
میاں صاحب ، شیر بنو شیر
rdugardening.blogspot.com
جمعرات, جون 13, 2013
4
تبصرے
جمعرات, جون 13, 2013
4
تبصرے
ہفتہ، 8 جون، 2013
اک "عام" سا پودا، جومجھے بہت پیارا ہے
rdugardening.blogspot.com
ہفتہ, جون 08, 2013
11
تبصرے
ہفتہ, جون 08, 2013
11
تبصرے
آپ سوچ رہے ہوں کہ آخر اس عام سے گھریلو پودے میں اتنی خاص
بات کونسی ہے کہ میں نے اس کو بلاگ کا موضوع بنا دیا ہے، جی ہاں میرے لئے یہ عام سا پودا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ حیران ہوں گے میرا اور
اس کا ساتھ 25 سال پرانا ہے اور 25 سال
کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا،ساری زندگی گزر جاتی ہے، 1988ء میں نئے گھر میں شفٹ
ہوئے تو بچپن سے دل میں بسا باغبانی کا شوق انگڑائیاں لینے لگاچونکہ گھر
بناتے وقت صحن میں کیاریاں بنانے کی تجویز والد گرامی بری طرح رد کر چکے تھے اس
لئے اس شوق کو گملوں میں لگے پودوں سے پورا کرنے کی کوشش کی اور اس کے لئے محترم دوست
طارق سلطان نے بھر حوصلہ افزائی اور تعاون
کیا جن کا مشہور قول ہے کہ کتاب اور پودوں کی چوری کوئی چوری نہیں ہوتی اس لئے
موصوف جو مہنگا پودا خریدنے کا حوصلہ نہ رکھتے اس کو کبھی کبھی زور جوانی کے ہاتھوں چرانے سے بھی نہیں کتراتے تھے۔ سو موصوف نے نئے گھر شفٹ ہونے پر اس پودے کی صورت میں ناچیز
کو پہلا تحفہ دیا۔ تب روز بروز نئے
خوبصورت پودوں کا اضافہ ہونے لگا اور ہر نئے پودے کی آمد پر یہ اور پچھلی صف میں چلا جاتا اور آخر
چند سال بعد ایک دن میں نے جگہ کی تنگی کا بہانہ بنا کر اس کو باہر پھینک
دیا۔ مجھے یاد ہے ابا جی مرحوم عصر کی نماز کے بعد مسجد سے واپس آئے تو ان کی نظر
اس پر پڑی تو سیخ پا ہو گئے،کہنے لگا اس کو کیوں باہر پھینکا ؟ بس جلدی میں کہہ
دیا بہت پرانا ہو گیا تھا۔ کہنے لگے میں بھی پرانا ہوتا جارہا ہوں تو کیا مجھ کو
ایک دن باہر پھینک دو گے ۔ میں بہت شرمندہ
ہوا اور اس کو والد مرحوم نے دوبارہ نئے گملے میں لگا دیا۔سالہا سال بیت گئے ،
والد مرحوم بھی جہان فانی سے رخصت ہوگئے ،شائد اتوار کا دن تھا میں نماز عصر کے بعد مسجد سے گھر واپس آیا تو میں نےاس کو گھر کے باہر گرا پایا تو مجھے کئی سال پرانا یہی وقت یاد آ گیا ۔ گھر
میں داخل ہوا تو چھوٹا صاحبزادہ ہاتھ میں کھرپہ لیئے پودوں کو درست کررہا تھا ،
میں نے پوچھا میاں یہ کیا کیا تم نے ؟ اس کو
اکھاڑ کے کیوں باہر پھینک دیا ، کہنے لگا ابو بہت پرانا ہو گیا ہے اور
خوبصورت بھی نہیں لگتا اب ،مجھے ابا جی کے
کہے کلمات یاد آ گئے ۔ میں نے اس کو کہا بیٹا
پرانا تو میں بھی ہو رہا ہوں میرا کیا کروگے،بڑا شرمندہ ہوا کہتا اس کو گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ بنی کیاری میں لگا دیتا ہوں اور اس کو
وہاں لگا دیا گیا ،تین چارسال وہاں گزارنے
کے بعد بیٹا کہنے لگا ابو جی اس نے ساری جگہ گھیر لی ہے اس کو اب ختم ہی نہ کر دیں
تو پھر میں نے کہا بیٹا اس کا میرا ساتھ بہت پرانا ہو گیا ہے اب اس کو ضائع نہیں
کرنا کسی گملے میں لگا کر دوبارہ صحن میں ہی رکھ دو اور اب دو سال سے یہ پھر گھر
کے اندر ہے مگر اب میں نے اس کو سب پودوں سے الگ تھلگ گیٹ کے پاس رکھ دیا ہے ،
میں صبح گھر سے نکلتا ہوں تو مجھے لگتا ہے
یہ مجھے رخصت کرتا ہے ، واپس آتا ہوں تو مسکرا کر میرا استقبال کرتا ہے ،مجھ سے باتیں کرتا ہے ،میرا خیال رکھتا ہے ،
بسا اوقات مجھ سے باتیں کرتا ہے اور میری پریشانیوں اور میری خوشی غمی میں شریک
ہوتا ہے۔گھر میں باقی پودے بھی ہیں مگر یہ
"عام" سا پودا مجھے بہت پیارا ہے۔
بدھ، 5 جون، 2013
گھریلو پودوں اور قدرتی طریقہ سے مچھر اور موذی کیڑوں سے نجات
rdugardening.blogspot.com
بدھ, جون 05, 2013
5
تبصرے
بدھ, جون 05, 2013
5
تبصرے
جوں جوں ہم فطرت سے دور ہوتے جارہے ہیں ہم طرح طرح کے مسائل میں گھرتے جارہے ہیں،ہمارے بزرگوں کے زمانہ میں ہر بیماری اور مسئلہ کا حل قدرتی غذاؤں اورگھریلوٹوٹکوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ کچن میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات ،پودے اور ان کے بیج ہر بیماری کی شفا ثابت ہوتے تھے۔ آج کیمیکل کا استعمال ہماری زندگیوں میں اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس کے مضر اثرات نے ہماری نوجوان نسل کو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نباتات قدرت کی طرف سے انسانی ذات کیلئے ایک بہترین تحفہ ہے۔زمانہ قدیم سے یہ حقیقت سبھی جانتے ہیں کہ قدرت نے نیم کے درخت میں بہت سے طبی، زراعتی اور ماحولیاتی فوائد رکھے ہیں اور انہی فوائد کو جدید تحقیق نے بھی ثابت کیا ہے، نیم کا درخت مچھروں کو بھگانے کا بھی ایک قدرتی ذریعہ ہے۔نیم کے درخت کے ارد گرد مچھر نہیں ہوتے اور اسی وجہ سے ڈینگی کے خاتمے کیلئے اسے انتہائی کارآمد تصور کیا جاتا ہے۔کیڑے مکوڑوں سے نجات کیلئے
استعمال ہونے والے پودوں میں پودینہ کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس پودے کی خوشبو سے مچھر پریشان ہو کر دور بھاگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پودینہ کو صدیوں سے مکھی مچھر کو دور رکھنے کے لئے استعمال کیاجا تا ہے۔ اس پودے کو صحن میں لگانے یا کمرہ میں اسکا گملا رکھنے سے مچھر آپ کے قریب نہیں آئے گا۔ گیندے کا پودا یعنی میری گولڈ بھی اپنے پھول کی خوبصورتی اور کیڑے مکوڑوں کو دور رکھنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔ گیندے کے پھول کی خوشبو بھی مچھروں کو پسند نہیں، اسلئے مچھروں سے چھٹکارا پانے کے لئے اسے چھوٹے کنٹینرز، گملوں، صحن یا مرکزی دروازے کے دونوں اطراف لگانے سے مچھروں کو گھر میں داخل ہونے سے روکا جاسکتا ہےصرف یہی نہیں بلکہ تلسی کا چھوٹا سا پودا اپنی مخصوص خوشبو کےباعث مکھی مچھروں کیلئے نفرت انگیز سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مچھر اس پودے کے اردگرد بھی نہیں پھٹکتے،اس کے پتوں کو ہاتھوں اور چہرے پر مسل کر آپ باہر بیٹھ جائیں مچھر آپ کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا ۔تلسی ہی کی طرز کا ایک عام گھروں میں پایا جانے والا پودا نیاز بو بھی اسی کام آتا ہے۔اس کے علاوہ لیمن گراس پلانٹ گھاس کی ایک خوبصورت قسم ہے اور اسے بھی مچھروں سے بچا کیلئے انتہائی کارآمد تصور کیا جاتا ہے۔ یہ پرکشش، تروتازہ اور خوبصودار اونچی گھاس گھریلو باغیچوں میں لگانے سے بھی مچھروں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ یہ تمام پودے گملوں میں لگائے جا سکتے ہیں اور پھر میرا وہی ماٹو، ہیں بھی انتہائی سستے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں میں کیڑے مکوڑوں اور خاص طور پر مچھروں سے تحفظ کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت ان پودوں کی گھر گھر شجرکاری سے متعلق آگاہی کا پروگرام تشکیل دیا جاسکتا ہے، جس کی مدد سے ڈینگی مچھر اور وائرس سے مستقل چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہے۔ موسم گرما میں مچھروں کی بہتاب ہوتی ہے اور ایسے میں ان پودوں کو زمین یا گملوں میں باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ حکومت خاص طور پر پنجاب حکومت کیمیاوی اسپرے پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ڈینگی مچھر پر قابو نہیں پا سکی، بلکہ ماہرین کا تو یہ کہنا ہے کہ کیمیاوی اسپرے کی وجہ سے مچھر دشمن اور مچھر خور دیگر حشرات بھی ختم ہورہے ہیں۔ ایسے میں حکومتی سطح پر سڑکوں کے کنارے نیم کے درخت کی شجرکاری اور دوسرے پودے لگانےسے ڈینگی مچھر اور وائرس سے مستقل چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔
(اس مضمون کی تیاری میں مختلف تحقیقاتی مضامین سے مدد لی گئی ہے)
جمعہ، 24 مئی، 2013
خوش آمدید ، وزیر اعظم چائنا لی کی چیانگ
rdugardening.blogspot.com
جمعہ, مئی 24, 2013
0
تبصرے
جمعہ, مئی 24, 2013
0
تبصرے
پاکستانی عوام چینی وزیر
اعظم لی کی چیانگ کے دورہ ٔپاکستان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ چین پاکستان کا مخلص
دوست ہے جس نے ہمیشہ پاکستان سے تعلقات کو
اہمیت دی ہے ۔چین اور پاکستان نہ صرف اچھے ہمسائے بلکہ ایک دوسرے کے حقیقی خیر
خواہ اور سٹریٹجک پارٹنر ہیں ۔ پاکستان کی صنعتی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو
بہتر بنانے کیلئے چین بیسیوں پراجیکٹس میں پاکستان کی مدد کررہا ہے۔شاہراہ ریشم
،گوادر پورٹ،جے ایف ٹھنڈر اور سینڈک پراجیکٹ سمیت درجنوں بڑے بڑے منصوبے پاکستان کی
ترقی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں جو پاک چین دوستی کی شاندار مثال ہیں۔چین کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے
حل کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش خطے میں امن کے قیام کیلئے چین
کی مخلصانہ کوششوں کا اظہار ہے ۔ امریکہ اور نیٹو افواج کی خطے میں موجودگی ،بھارت
کو خطے کا تھانیدار بنانے اور چین کے کردار کو محدود کرنے کی کوششیں خطے کے امن کو
برباد کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے جو کسی طرح بھی پاکستان اور خود بھارت کے مفاد میں
نہیں، لیکن امریکہ چاہتا ہے کہ عالمی تجارت پر اس کا کنٹرول رہے اور پاکستان اور
بھارت کی تجارتی منڈیوں پر چین کی اجارہ داری قائم نہ ہونے دی جائے۔پاکستان کے لوگ
جانتے ہیںکہ امریکہ اور بھارت نے گوادر پورٹ چین کے ہاتھ لگنے سے روکنے کے لیے ایڑی
چوٹی کا زور لگایا ، دونوں ملک پاکستان پر عالمی دبائو بڑھانے، کوئٹہ کو دہشت گردی
کا نشانہ بنانے ،بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکوں کی سرپرستی کرکے پاکستان کو عدم
استحکام کا شکار کرنے اورچینی انجینئروں کو اغواء اور قتل کرنے جیسے واقعات میں
ملوث رہے ہیں تاکہ کسی بھی صورت پاکستان اور چین کے درمیان نفرتیں پیدا کرکے ان کی
دوستی میں رخنہ ڈالا جائے لیکن وہ اپنی ان مکروہ سازشوں میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔چین
سے مضبوط دوستی کی بنیادوں پر استوارخارجہ پالیسی خطے میں امریکہ کے عمل دخل کو
ختم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ چین نے پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کی
فراہمی سمیت جن بڑے ترقیاتی منصوبوں میں تعاون کرنے کی پیشکش کی ہے انہیں فوراً
قبول کر کے ان منصوبوں پر عملدرآمد شروع کیا جائے۔ توقع ہے کہ پاکستان کی نو منتخب حکومت چین کے
ساتھ دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور امریکی غلامی سے نکلنے کی پوری کوشش کر ے گی
جمعرات، 23 مئی، 2013
کالا باغ ڈیم , توانائی کے بحران کا مستقل حل ؟
rdugardening.blogspot.com
جمعرات, مئی 23, 2013
2
تبصرے
جمعرات, مئی 23, 2013
2
تبصرے
جب توانائی کے بحران کے مستقل حل کا سوچا جائے تو کالا
باغ ڈیم کی تعمیر کے سوا کوئی دوسرا مستقل حل قابل عمل اور کارآمد نظر نہیں آتا اس
لئے جب ہمارے پاس اس بحران سے عہدہ برا ہونے کا مستقل اور پائیدار ایک ہی حل موجود
ہے تو حکمران طبقہ اپنے اپنے مفادات کی بنیاد پر قومی ترقی و بقا کے اس منصوبے کو
سیاست کی نذر کرنے پر کیوں تلا بیٹھا ہے اور کیوں اس منصوبے پر قومی اتفاق رائے
نہیں کیا جاتا۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر صرف توانائی کے ذرائع میں اضافہ کرنے کے لئے
ہی ضروری نہیں بلکہ پاکستان کو خوراک و زرعی پیداوار میں خود کفالت کی منزل تک
پہنچانے کے لئے بھی انتہائی ضروری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کالا باغ ڈیم کی عدم
تعمیر کے باعث 26.1ملین ایکڑ فٹ بارش کا پانی ہر سال سمندر میں بہہ کر ضائع ہو
جاتا ہے۔ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر ہو جائے تو پھر بھی صرف 6.1ملین ایکڑ فٹ پانی ہی
ذخیرہ کیا جا سکے گا۔ اس ڈیم کی تعمیر سے صوبہ سندھ کی8 لاکھ ایکڑ، سرحد کی 4 لاکھ
40 ہزار ایکڑ، بلوچستان کی5 لاکھ10 ہزار ایکڑ اور صوبہ پنجاب کی6 لاکھ80 ہزار ایکڑ
اضافی زمین زیر کاشت آئیگی۔ اس میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ جاتا کہ کالا باغ ڈیم
جیسے فقید المثال منصوبہ سے ملک میں زرعی انقلاب آجائیگا۔ زرعی مفادات کے علاوہ اس
منصوبے سے 3600میگاواٹ سستی اضافی بجلی حاصل ہوگی۔ ایک اہم بات کا تذکرہ کرنا
ضروری ہے کہ تربیلا ڈیم سے اگر ایک لاکھ بیس ہزار کیوسک پانی چھوڑا جائے تو مکمل
صلاحیت کے مطابق یہ ڈیم 3700میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے جبکہ اس سے صرف
1500میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس بات کا ہمیشہ خدشہ
موجود رہا ہے کہیں اس سے چھوڑا جانے والا اضافی پانی سمندر میں بہہ کر ضائع نہ ہو
جائے۔ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر کیا جائے تو تربیلا ڈیم اور کالا باغ ڈیم کے مشترکہ
عمل سے 5800میگاواٹ سستی اضافی بجلی حاصل ہوگی جو ملک میں صنعتی انقلاب کا پیش
خیمہ ثابت ہوگی۔یہ حقیقت ہے کہ توانائی کے بحران پر صرف کالا باغ ڈیم تعمیر کرکے
ہی قابو پایاجاسکتا ہے۔اس حقیقت کا ہمارے شاطر دشمن بھارت کو بھی بخوبی احساس و
ادراک ہے اس لئے وہ بھی کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو سبوتاژکرانے کیلئے اپنے وسائل
اور سازشی ذہن بروئے کار لا رہا ہے جس نے بالخصوص سندھ میں اپنی سازشوں کا جال
بچھا رکھا ہے۔ اس ڈیم کے خلاف زہریلے پراپیگنڈے کیلئے مبینہ طور پر سندھی قوم
پرستوں کی مخصوص لابی کو بھارتی ایجنسی را کی جانب سے مالی طور پر نوازا رہا ہے
چنانچہ اس لابی کی جانب سے تواتر کے ساتھ یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ کالا باغ
ڈیم کی تعمیر کی صورت میں سندھ کے حصے کا پانی کم ہو جائے گا۔ اس کے برعکس سرحد
میں ہندتا کے فلسفہ کے پرچارک سرحدی گاندھی کے پیروکاروں کی جانب سے اسی بھارتی
ایجنڈہ کی بنیاد پر کالا باغ ڈیم کی مخالفت کیلئے اس دلیل کا سہارا لیا گیا کہ اس
سے نوشہرہ اور سرحد کے کئی دوسرے شہر ڈوب جائیں گے۔پختون یا پٹھان، آبی ماہرین اور
انجینئرز ان دونوں زہریلے پراپیگنڈوں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مسترد کر چکے
ہیں۔ نااہل حکمرانوں کو شائید اس بات کا مکمل طور پر ادراک نہیں کہ توانائی کا
بحران کسی بڑے طوفان پر منتج ہو سکتا ہے۔اس وقت کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر قومی
اتفاق رائے پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اصولی طور پر تو قومی تعمیر و ترقی کے ضامن
اس منصوبے پر شروع دن سے ہی اتفاق رائے قائم ہو جانا چاہئے تھا اور تربیلا ڈیم کی
تعمیر کے بعد سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں ہمیں کالاباغ ڈیم سمیت ہر چھوٹے بڑے
ڈیم کو تعمیر کرلینا چاہئے تھا مگر ہماری حکومتیں اور سیاست دان ایک دوسرے پر محض
سیاسی پوائنٹ سکور کرنے اور اپنے اپنے مفادات کے تحت کالاباغ ڈیم کے حق اور مخالفت
میں آوازیں بلند کرنے میں ہی مصروف رہے کسی نے یہ نہ سوچا کہ کالاباغ ڈیم تعمیر
نہیں ہو پائے گا تو ہم وقت کے تقاضوں کے مطابق بڑھتی ہوئی بجلی کی ضرورت کیسے پوری
کرینگے؟ اگر قومی تعمیر و ترقی کا جذبہ سیاست دانوں کے پیش نظر ہوتا تو نہ سرحد سے
اس ڈیم کو بم مار کر اڑا دینے کے زہریلے نعرے لگتے اور نہ ہی سندھی قوم پرستوں کو
اس ڈیم کی مخالفت میں اپنی سیاست چمکانے کا موقع ملتا اور اب تک یہ ڈیم تعمیر ہو
کر ملک میں توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوئے قومی معیشت کی ترقی و استحکام کی
بنیاد رکھ چکا ہوتا۔مگر بدقسمتی سے جن فوجی اور سول حکمرانوں کو اپنے اپنے دور
حکومت میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے قومی اتفاق رائے کی فضا قائم کرنے کا موقع
ملا انہوں نے بھی اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا اور اس ڈیم کو سیاست کی نذر ہونے
دیا۔
(اس آرٹیکل کی تیاری میں مختلف تحقیقاتی ویب سائٹس سے مدد لی گئی ہے)
(اس آرٹیکل کی تیاری میں مختلف تحقیقاتی ویب سائٹس سے مدد لی گئی ہے)
.








.jpg)

