جمعرات، 14 نومبر، 2013

جی ہاں جماعت اسلامی واقعی غدار ہے

3 تبصرے

یہ ستر کی دہائی کے اوائل کی بات ہے ، اگر چہ اس وقت اتنا شعور نہیں تھا ، سکول کی ابتدائی جماعتوں میں زیر تعلیم تھے مگر سقوط ڈھاکہ اورانتخابات  ذہن کے نقشہ پر کسی حد تک محفوظ ہیں۔ ان انتخابات کی سب سے دلچسپ یادوں میں  پیپلز پارٹی کے قائدبھٹو کے حق میں اور  جماعت اسلامی کے امیر سید مودودی کی مخالفت میں گلیوں ،بازاروں اور تھڑوں پر ہونے والی نعرہ بازی اور  بحث و مباحث  شامل ہے۔ سب سے زیادہ زور  جماعت اسلامی کو پاکستان کے قیام کے مخالف ہونے پر لگایا جاتا تھا ۔ میں اکثر اپنے بڑوں سے پوچھتا کہ ابھی ساری قوم کہہ رہی تھی کہ مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکنوں نے پاک فوج کے شانہ بشانہ اپنی جانیں قربان کرکے  پاکستان کو متحد رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا  ہے تو پھر  یہ لوگ پاکستان کے قیام کے کیسے مخالف ہوگئے۔ ذرا کچھ بڑے ہوئے تو سکول میں پڑھائی جانے والی معاشرتی علوم میں قیام پاکستان سے پہلے اور بعد کے واقعات موجود ہوتے تھے مگر سب کچھ موجود ہونے کے باوجود کہیں یہ پڑھنے کو نہ ملا کہ یہ لوگ قیام پاکستان کے مخالف ہیں۔ کالج دور اور پھر مسلسل سیاسی ،سماجی اور صحافتی زندگی بہت کچھ پڑھنے اور سننے کو ملا۔ پاکستان کی تاریخ کے ہر نازک دور میں جماعت اسلامی کے کارکن  سب سے آگے نظر آئے مگر قوم ان کی کیوں مخالف ہے  مجھے سمجھ نہیں آ سکا۔ ایک بات ضرور نظر آئی جماعت اسلامی کے لوگ ہر مصیبت میں فوج کے شانہ بشانہ نظر آئے۔افغان وار اور کشمیر میں بھی ان لوگوں کا ایک منفرد کردار قوم کے سامنے آیا ۔ میرے لئے وہ حیران کن لمحہ تھا اس وقت کے امیر جماعت اسلامی  میاں طفیل محمد کا بیٹا خود افغان جنگ میں شہید ہوا۔ تاریخ کے ایک معمولی طالب علم کے طور پر جب میں جماعت اسلامی کی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں تو  جماعت کی فوج سے دوری کا آغاز پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا تو ایسا لگا کہ ہمیشہ سے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے والی جماعت اسلامی اور فوج میں دوریاں پیدا ہو رہی ہیں جس کی وجہ جماعت اسلامی کا مضبوط موقف ہے تو احساس ہوا کہ  جماعت اسلامی کو فوج کی بی ٹیم کہنے والے اس کے کردار سے واقف نہیں ۔ جب جماعت اسلامی نے فوج کی حمائت کی اس وقت بھی پاکستان کی بقاء اولین ترجیح تھی اور جب دوریوں کا آغاز ہوا تو  اس وقت بھی جماعت کی ترجیح پاکستان کی بقا ء ہی تھی۔ابھی چند دن پہلے  جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سید منور حسن پر  ایک ایسے بیان پر   ہر طرف سے تنقید اور تبریٰ شروع ہوئی تو مجھے  بچپن کے وہ تمام نعرے یاد آگئے جو اس وقت جماعت اسلامی اور اس کے سید پر لگائے جاتے تھے، آج پھر سید زادہ ہی ایک بار پھر ان نعروں کی زد پر آ گیا مگر میری حیرت کی انتہا نہیں رہی  جب میں نے موازنہ کیا تو یہ سارے وہی لوگ ہیں جو اس وقت تھے ،پیپلز پارٹی ،اے این پی، مخصوص طبقات کے علمائے کرام اور نام نہاد دانشور ۔اب صرف اضافہ ایم کیوایم کا ہوا ہے لیکن نظریات ان لوگوں کے جیسے ہی ہیں۔
میں ایک عام آدمی سوچنے پر مجبور ہوں کہ جماعت اسلامی  پر پابندی لگانے اور اسے ملک دشمن قرار دینے کا مطالبہ کون کررہا ہے۔ پیپلز پارٹی ۔۔۔۔۔۔۔ جس نے پاکستان میں الذوالفقار بنا کر دہشت گردی کی بنیاد رکھی اور فوج کے خلاف اشتہار تک چھپوائے، اے این پی ۔۔۔۔۔۔۔ جسے ملکی قانون کے تحت ملک دشمن قرار دے کر پابندی لگائی گئ، مخصوص علمائے کرام جن کا کام صرف ہر حکمرانوں کی تحسین ہی کر نا ہوتی ہے،ایم کیو ایم ۔۔۔۔۔۔۔ جس کے لیڈر آرمی آفیشلز کے قتل میں ملوث رہے ہیں۔ میری رائے میں تو یہ ساری  بحث اس اصل ایشو سے توجہ ہٹانے کے لئے شروع کی گئی جس کی آج قوم کو ضرورت ہے اور جس کی وجہ سے آج ہم مصائب اور مشکلات کا شکار ہیں ، پچاس ہزار بے گناہوں کی قربانی دے کر بھی ہم ہی ملزم  
مجرم ہیں ۔ وہ ہے ایک پرائی جنگ جو  ہمارے حکمرانوں نے ہمارے سر ڈال دی ہے۔

روزنامہ دنیا کی 14 نومبر 2013 کی اشاعت میں سید منور حسن کے انٹرویو  کا قتباس پڑہیے اور خود فیصلہ کیجیئے کیا جماعت اسلامی واقعی غدار ، ملک دشمن اور فوج مخالف ہے
" انہوں نے ایک سوال پرکہا کہ میرے جن الفاظ کو بنیاد بنا کر جماعت اسلامی اور مجھے ٹارگٹ کیا گیا ان الفاظ اور میری جانب سے اٹھائے جانے والے سوال کو سننے کی زحمت بھی نہیں کی گئی جس میں میں نے مفتیان اور علماء کرام سے امریکہ کا ساتھ دینے والوں کے متعلق رائے طلب کی تھی۔ البتہ اس رجحان سے ہم محظوظ ضرور ہوئے ہیں کہ جو کل تک بیرونی ایجنڈا پر ہماری مسلح افواج کو ٹارگٹ کرتے اور کوستے نہیں تھکتے تھے وہ بھی ہمارے خلاف فوج کی ہمنوائی کرتے نظر آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی اپنی ایک تاریخ ہے ہم نے تو کل مشرقی پاکستان میں بھی مضبوط پاکستان کیلئے اپنی فوج کا ساتھ دیا تھا اور آج بھی ہمارا عزم ہے کہ ملکی استحکام اورقومی مفادات کے تحفظ کیلئے حکومت اور قومی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونگے لیکن وہ لوگ جنہوں نے ایک بے بنیاد بات کو جواز بنا کر ہمیں ٹارگٹ کیا آنے والے حالات اور معاملات میں وہ کب تک فوج کی مدح سرائی کریں گے اس پر نظرر کھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کو روگ آرمی قرار دینے ’ فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے اور اس کے کردار پر انگلیاں اٹھانے والے کیا اب راہ راست پر آگئے اب کب تک اس رائے پر قائم رہیں گے ’ یہ دیکھنا ہوگا۔"

پیر، 11 نومبر، 2013

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

2 تبصرے
یہ اڑھائی سالہ نور فاطمہ ہے جو  دس نومبر کی  صبح اپنے والد کے ہمراہ موٹر سائیکل پر ناشتہ لینے نکلی اور قاتل ڈور نے ایک  جھٹکا سے اس کی زندگی کی ڈور کاٹ دی۔ ذرا تصور کیجئے وہ کتنا کرب ناک لمحہ ہو گا جب اس کا والد اس کی تن سے جدا گردن والی لاش اٹھائے  سڑک پر کھڑا ہو گا۔ سنا ہے پرانے وقتوں میں بادشاہ اپنی تفریح کے لئے زندہ انسانوں کو  ایک بڑے میدان میں بھوکے شیروں کے سامنے ڈال دیا کرتے تھے اور شیروں کی انسانی جسموں کی چھیڑ پاڑھ اور انسانی آہ و بکاہ سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے ۔ اب یہی ڈرامہ عصر حاضر کےحکمران کر رہے ہیں، سمجھ نہیں آتا یہ کونسی تفریح  ہے جس نے لوگوں کو گلے کاٹنے کی آزادی تک فراہم کر دی  ہے۔ کسی کی جان چلی جاتی ہے اور آپ اسے تفریح قرار دیتے ہیں۔پتنگ بازی کے باعث معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کے باعث سپریم کورٹ کے احکامات پر حکومتیں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر چکی ہیں۔ یہ پابندی گذشتہ حکومتوں کے ادوار سے چلی آ رہی ہے ۔ ’’بسنت‘‘  کو فیسٹیول کی شکل دی جا چکی ہے ۔ ثقافت کے نام پر سارا دن انڈین گانوں کے بلند آواز میں چھتوں لاؤڈ سپیکر لگا کر لوگوں کے گلے کاٹے جا رہے ہیں اور نام نہاد دانشور اسے قومی ورثہ قرار دے رہے ہیں۔  ہر سال درجنوں جانیں  اس تفریح کی نذر ہو جاتی ہیں  مگر پھر بھی معصوم شہریوں کیساتھ ہونیوالے اندوہناک حادثات کے باوجود مکمل طور پر ختم کیا جا  رہا۔  صوبائی انتظامیہ اور پولیس کی غفلت کے باعث پتنگ بازی کا خونخوار مشغلہ لاہور سمیت پنجاب کے تمام  شہروں میں بڑی تیزی سے بڑھتا پھلتا اور پھولتا جا رہا ہے۔ آئے دن اب پھر شہریوں کی ہلاکتوں کے دل ہلا دینے والے کربناک واقعات ایک تسلسل سے سُننے کو مل رہے ہیں لیکن انتظامیہ کی عدم توجہی اور پولیس کی فرائض سے تسلسل کیساتھ غفلت نے اب پتنگ بازی کے باعث ہلاکتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ لیکن حکومت خاموش تماشائی بنے بیٹھی ہے۔ خدا کیلئے اس رسم بد  سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے موثر قانون سازی کی جائے اوراس پر سختی سے عمل درآمد بھی کرایا جائے اور خلاف ورزی کرنیوالے کیخلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ  اس قاتل ڈور سے کسی اور معصوم نور فاطمہ کی گردن کٹنے سے بچ سکے۔

پیر، 4 نومبر، 2013

مٹ جائے گی مخلوق تو کیا انصاف کرو گے

15 تبصرے
یہ معصوم سی بچی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد  میں بی ایس سی پلانٹ بریڈنگ اینڈ جنیڈر نگ انجینئر نگ میں تیسرے سال اور پانچویں سمسٹر کی طالبہ اور وزیر اعلی پنجاب کی سکیم کے تحت لیپ ٹاپ ہولڈر مریم سجاد ہے جوالائیڈ ہسپتال  فیصل آباد کے ایک سنیئر ڈاکٹر کے غلط آپریشن کی وجہ سے زندگی بھر کے لئے معذور ہو کرایک سال سے بستر پر پڑی انصاف کی منتظر ہے ، جڑانوالہ روڈ پر ڈھڈی والا کے قریب بخاری ٹان خواجہ سٹریٹ کے رہائشی انجینئر سجاد انور کی  بیٹی مریم سجاد جسے کلاس میں لائق اور یونیورسٹی کی ہونہار طالبہ اور سمسٹر میں92%نمبر ز حاصل کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے تحفے کے طور پر لیپ ٹاپ اور سکالر شپ سے بھی نواز ا تھا ، مریم سجاد کو گزشتہ سال کے آخر میں دائیں بازو میں درد محسوس ہوا تو ان کے والد اور والدہ 11دسمبر2012ءکو میڈیکل چیک اپ کےلئے الائیڈ ہسپتال لے گئے ، جہاں پرچی بنوانے کے دوران کی ٹرینی ڈاکٹر محمد طیب انہیں بہتر چیک اپ کے لئے اپنے ساتھ ہیڈ آف آرتھو پیڈک ڈاکٹر رسول احمد چوہدری کے پاس لے گیا جہاں ڈاکٹر رسول احمد چوہدری نے مریم کی والدہ کو ڈراتے ہوئے بتایا کہ اگر فوری طور پر آپریشن نہ کیا گیا تو اس کے ہاتھ کام کرنا چھوڑ جائیں گے اور شریانوں میں خون کی گردش رک جائے گی ، چنانچہ فوری طور پر مجھے سے آپریشن کروائےں ، یہ کہتے ہوئے موصوف ڈاکٹر نے داخلے کی پرچی اور چارٹ تک بنا دیا لیکن مریم اوران کے والدین مطمئن نہ ہوئے اور مریم کے والد انجینئر سجاد انور نے اپنے بھائی ڈاکٹر شہزاد انور سے مشورہ کرتے ہوئے باہر کسی سپشلسٹ کو دکھا نے کا کہا ، لیکن ڈاکٹر رسول چوہدری نے اصرار کیا کہ میں عرصہ30سال سے آپریشن کر رہا ہو میں سب جانتا ہوں بس آپ یہ آپریشن کروالیں ورنہ مرض بڑھ جائے گا ، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ڈاکٹر رسول چوہدری بنیادی طور پر آرتھو پیڈک سرجن ہیں اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بھی ہیں ان کا تجربہ آرتھو پیڈک سرجری میں ہی ہے ، انہوں نے کبھی مہرے یا پنڈلی کا آپریشن کیا ہی نہیں تھا ، ڈاکٹر رسول چوہدری نے تجربہ حاصل کرنے کے لئے ایک معصوم طالبہ کو بھینٹ چڑھا نے کا عہد کر لیا اور نا تجربہ کار ہونے کے باوجود 17دسمبر 2012ءکو الائیڈ ہسپتال کے پرائیویٹ وارڈ میں مریم سجاد کا آپریشن کر دیا ، آپریشن کی بنیادی معلومات نہ ہونے کے باعث ڈاکٹر رسول چوہدری نے مریم کی اضافی بڑھی ہوئی پسلی کا آپریشن کرنے کی بجائے ریڈ ھ کی ہڈی کا آپریشن کر ڈالا اور مہروں کو اضافی پسلی سمجھتے ہوئے اندھوں کی طرح کاٹنا شروع کر دیا اور آپریشن مکمل کر تے ہوئے وارڈ میں شفٹ کر دیا ۔ اگلے روز صبح مریم سجاد کو ہوش آیا تو پتا لگا کہ مریضہ کا ہاتھ اور اوپر والا دھڑ حرکت میں ہے جبکہ پیٹ سے پاں تک نیچے کا تمام دھڑ رک گیا ہے ، جس کا مریضہ کو علم ہی نہیں ہے کہ وہ حصہ اس کے جسم کے ساتھ بھی ہے کہ نہیں ، اس بات کا علم ہسپتال انتظامیہ کو ہونے پر ہسپتال میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تو مریضہ کے والد نے اس کی MRIرپورٹ کروائی جس میں انکشاف ہوا کہ موصوف ڈاکٹر غلام رسول چوہدری نے مریم سجاد کے دونوں مہروں کو اضافی پسلی سمجھتے ہوئے ایک مہرے کا 1/3اور دوسرے مہرے کا 2/3حصہ کاٹ کر نکال دیا ہے ریڑھ کی ہڈی میں بھی کٹ لگا دیئے جس کی وجہ سے ہونہار طالبہ مریم سجاد زندگی بھر کے لئے اپاہیج ہو گئی اور ہسپتال انتظامیہ نے معاملے کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں ” گھر کی “ ہسپتال لاہور میں علاج کروانے کا کہہ کر اپنی جان چھڑوا لی ، لڑکی کے لواحقین بیٹی کی زندگی میں پھر خوشیاں دیکھنے کی آس لئے ” گھر کی “ ہسپتال لاہور لے گئے جہاں 17دن زیر علاج رہی دوران علاج سانس اکھڑ جانے کی وجہ سے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ ICUمیں رکھا گیا اور آپریشن بھی کیا گیا جس کے بعد وہ اپنے گھر فیصل آباد منتقل ہو گئی ، دوسری طرف مریم کے والد انجینئر سجاد نے 26دسمبر کو ڈاکٹر رسول احمد چوہدری کے خلاف وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو درخواست دے دی اور پرنسل پنجاب میڈیکل کالج والائیڈ ہسپتال ڈاکٹر زاہد یٰسین ہاشمی کو درخواست دے دی ، وزیر اعلیٰ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے انکوائری بورڈ تشکیل دے دیا جس نے وزیر اعلیٰ کو 31دسمبر 2012ءکو رپورٹ ارسال کی جس میں ملزم ڈاکٹر رسول چوہدری نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے قبول کیا کہ اس سے غلطی سر زد ہوئی ، اس غلطی کی وجہ آپریشن کے لئے ناکافی سہولیات تھیں ، وزیر اعلیٰ پنجاب نے معاملہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے سپرد کر کے غیر جانب دار انکوائری کاحکم دیا تو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے 7فروری 2013ءکو ڈاکٹر رسول چوہدری اور مریضہ مریم کے والد سجاد انور کو لاہور طلب کر کے بیانات سنتے اور انکوائری رپورٹ مکمل کرنے کے لئے 3ماہ کا وقت دے دیا ، انصاف کی امید لے کر لاہور جانے والا مریضہ کا والد انجینئر سجاد انور 3ماہ کا وقت لے کر واپس آگیا لیکن پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن انتظامیہ کے ساتھ با اثر ملزم ڈاکٹر رسول چوہدری نے ساز باز کر کے معاملے کو دبانے کا پروگرام بنا یا اور 12دسمبر 2013ءکو اپنی ہونے والی ریٹائر منٹ تک معاملے کو لٹکا نے لگی منصوبہ بندی کر لی اسی بناءپر آج اس نام نہاد کیئر کمیشن کی کمیٹی کو تین ماہ کا ٹائم لیے بھی دس ماہ گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک ڈاکٹر رسول کے خلاف انکوائری رپورٹ مرتب نہ ہو سکی ہے اور اس کے ریٹائرڈ ہونے میں بھی صرف ایک ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے جبکہ دوسری طرف ایک سال سے بستر پر پڑی ہوئی مریم سجاد جس کا تمام تعلیمی کیئر یئر تباہ ہوگیا ہے اس کی فزیو تھراپی سمیت دیگر اخراجات پر 1ہزار روپے روزانہ کے اخراجات آرہے ہیں اور اب تک تقریباً 15لاکھ سے زائد کا خرچہ اس پر آگیا ہے ، لیکن پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے تمام تر وعدوں کے باوجود آج تک متاثرہ گھر انے کو ایک روپیہ تک امداد نہ دی گئی ہے ، ڈاکٹر رسول احمد چوہدری کی حیوانیت کی بھینٹ چڑھنے والی متاثرہ بی ایس سی انجینئر نگ کی طالبہ مریم سجاد نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری ، وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم ڈاکٹر رسول چوہدری کے ساتھ ملی بھگت کرنے والے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے افسران کا کڑا احتساب کرتے ہوئے فوری طور پر واقع کی انکوائری رپورٹ بنوائی جائے ،غلط آپریشن کرنے والے ملزم ڈاکٹر رسول احمد چوہدری کو ریٹائرڈ ہونے سے پہلے اس کا ڈاکٹر یٹ کا لائسنس تا حیات منسوخ کر کے کڑی سے کڑی قرار واقعی سزا دیتے ہوئے پابند سلاسل کیا جائے تا کہ کوئی اور مریضہ اس کی بھینٹ چڑھ کر مریم سجاد بننے سے بچ سکے ، مریم سجاد نے خادم اعلی پنجاب  سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس کا تعلیمی کیئر یئر تباہ و برباد ہو گیا ہے زرعی یونیورسٹی انتظامیہ کے ذریعے اس کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر وایا جائے اور اس کے اب تک کے علاج پر آنے والے تمام اخراجات اور آئندہ کے علاج کا تمام خرچ ادا کرتے ہوئے تعلیمی اخراجات بھی اٹھائیں ۔

جمعہ، 25 اکتوبر، 2013

عامل بابے

4 تبصرے

اگر آپ کوقومی اخبارات کے سنڈے ایڈیشن دیکھنے کا اتفاق ہو تو بعض اوقات آدھے سے زائد صفحات    خود ساختہ اور نام نہاد عاملوں اور  نجومیوں کے اشتہارات سے بھرے ہوتے ہیں جہاں انہوں نے بڑے عجیب و غریب  نام رکھے ہوتے ہیں اور اگر ان کے دعوؤں کا مطالعہ کریں تو بندہ حیران رہ جاتا ہے کہ اگر سب کچھ کر نا ان کے ہی بائیں ہاتھ کا کھیل ہے تو   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  جی جناب اپنا ایمان  داؤ پر لگتا محسوس ہوتا ہے،مثلاً ایک  سو سالہ سنیاسی با با جی کہتے ہیں ، رشتوں کی بندش ، رزق کا حصول ، پرائز بانڈ کے نمبر ، شادی میں رکاوٹ  ، محبو ب آپ کے قدموں میں، بیرون ملک ملازمت، بیٹیاں ہی کیوں صرف بیٹوں کا حصول ، ساس  بہو کا جھگڑا، شوہر  قدموں میں  اور کیا کیا کچھ نہیں ۔ اب ایک نیا رواج دیکھنے میں آرہا ہے کہ عیسائی عاملوں کے اشتہارات بھی آ رہے ہیں مگر ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ اصلی عیسائی  عامل کو پہلے چیک کر لیں ، اندرون سندھ سے اب ہندو عاملین  کے بھی اشتہارات آ رہے ہیں ۔اور تو اور اب خواتین عاملین بھی سامنے آ رہی ہیں  اور ان کے بڑے بڑے اشتہاراے اخبارات میں شائع ہو رہے ہیں۔ یہ ٹھگ اور فراڈئیے اپنی روزی روٹی کے لئے لوگوں کو دین سے دور کر رہے ہیں، جو اپنی زندگی کے بارے میں نہیں جانتے وہ لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں ضمانت دے رہے ہیں اور جو خود لوٹ مار کر کے اور جھوٹ بول کر کمائی کر رہے ہیں دوسروں کے رزق کی بندش  ختم کرنے کے دعوے کر رہے ہیں جس کا وعدہ اللہ کریم نے قرآن پاک میں نوے سے زائد جگہ کیا ہے ۔قرآن کریم میں اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں"اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اس کے سوا کوئی نہیں جو اس مصیبت کو ٹال دے، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے“ (سورة یونس107)
اخبارات سے وابستہ احباب جانتے ہیں کہ ان ہفتہ وار اشتہارات کی قیمت کروڑوں روپے بنتی ہے اس کا مطلب ہے کہ ان لوگوں کی اتنی کمائی  ہے کہ یہ  لوگ اخبارات میں اشتہار دے رہے ہیں۔ حکومت کی عدم توجہی کے باعث ان عاملوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور یہ عامل ان پڑھ اور بے وقوف لوگوں خصوصاً خواتین کو بھاری معاوضوں کے عوض دھڑا دھڑ لوٹ رہے ہیں۔ پاکستان کے اکثر شہروں میں ان کے ٹھکانے ہیں، جنہیں آستانوں کا نام دیا جاتا ہے جو بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ کمزور ایمان رکھنے والے مردوں اور عورتوں کو لوٹ رہے ہیں۔بے شمار خواتین اپنےشوہروں کو راہِ راست پر لانے کے لیے آستانوں پر حاضری دیتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ دکھ ان نوجوان خواتین کی کم عقلی پر ہوتا ہے جو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے نہ صرف عاملوں کو منہ بولی قیمتیں دیتی ہیں بلکہ اپنی عزتیں تک ان عامل بھیڑیوں کی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیتی ہیں۔  پاکستان کے کسی شہر کا کوئی علاقہ نہیں جہاں ان  عاملوں کا قیام نہ ہو۔ان عاملوں اور پیروں کے پاس دینی علم تو ہوتا نہیں مگر سچ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی علم نہیں ہوتا محض چرب زبانی کے بل بوتے پر اور کم علم لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں۔
 یہ  فراڈیئےکالے جادو اور سفلی عمل میں استعمال کرنے کے لئےگوگل،ماش کی ڈال،انڈے،سپاری،ناریل،زعفران،دھتورا، مور کے پر، کیز کے پھول، شہد،آک کا پودہ، کوے کے سیدھے بازو کا پر، گیدڑ کی آنکھ اور دم، الو کی بیٹ ، انسانی ناخن، جانوروں اور انسانوں کے جسم کی مختلف ہڈیاں، سیندور،لونگ، سوئییاں، ہینگ، کسی خوبصورت عورت کے بال جو تازہ تازہ مری ہو اور انسانی کھوپڑی وغیرہ منگواتے ہیں  جس سے آدمی پر ان کے رعب اور علم  کا دبدبہ بڑھتا ہے۔.
اب یہ لوگ اخبارات سے آگے نکل کر سوشل میڈیا پر آگئے  ہیں ، ہر کسی کا فیس بک اکاؤنٹ ہے اور لوگ دھڑا دھڑ لائک کر ہیں اور ان کی گاہکی میں اضافہ ہو رہا ہے، اگر حکومت نے اس طرف توجہ نہ کی تو  یہ لوگ پوری قوم کو لوٹ کر کھا جائیں گے۔

اتوار، 6 اکتوبر، 2013

اسلام ، برطانیہ میں تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب

3 تبصرے


مغربی ممالک میں غیر مسلموں کے اسلام قبول کرنے میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ برطانیہ میں ایک لاکھ افراد اسلام قبول کر چکے ہیں جبکہ سالانہ 5200برطانوی حلقہ  اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ برطانوی جریدہ اکانومسٹ  نے کتنے افراد اسلام قبول کر چکے کے عنوان سے ایک سوال اٹھایا ہے، جریدہ لکھتا ہے کہ اسلام قبول کرنے والوں میں زیادہ تر ان لوگوں کی اکثریت ہے جو کئی برسوں سے مسلمانوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ برطانیہ میں خواتین کی دو تہائی اکثریت نے اس لئے اسلام قبول کیا کہ وہ کسی مسلمان سے شادی کرنا چاہتی تھیں دیگر لوگ اس لئے اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں کہ وہ برطانوی معاشرے میں پھیلی بے راہ روی اور فحاشی سے تنگ آ چکے ہیں جبکہ بہت سے کمیونٹی کے احساس کے حصول کی بات کرتے ہیں۔ایک ریسرچ کے مطابق امریکی مسلمانوں میں سے ایک چوتھائی نو مسلم ہیں۔ کچھ عرصہ قبل برطانوی میگزین  نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ نائن الیون کے بعد2001  سے 2011   کے درمیان ایک لاکھ برطانوی شہری حلقہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اس سے قبل ایک اور جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نائن الیون کے بعد امریکا میں سالانہ 30ہزار افراد اسلام قبول کر رہے ہیں، جبکہ اسلام قبول کرنے والے برطانوی شہریوں میں75فیصد خواتین ہیں۔ 
( برطانوی جرائد سے اخذ کردہ ایک تحقیقاتی رپورٹ)

پیر، 2 ستمبر، 2013

ایک باپ کا اپنی شہید بیٹی کے نام خط

6 تبصرے
 ڈاکٹر بلتا جی مصر کے ان منتخب رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہیں عوام کا اعتماد حاصل ہے۔مصر میں  جاری تحریک میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ڈاکٹر محمد بلتا جی کی سترہ سالہ معصوم بیٹی اور میڈیکل کی طالبہ عاصمہ ال بلتا جی بھی شہید ہو گئیں۔ اپنی بیٹی کی شہادت کے بعد ڈاکٹر محمد بلتا جی نے اسے ایک خط لکھا ہے،  جو ایک باپ کا اپنی سے محبت کا اظہار  تو ہے مگر اس عظیم  بیٹی کے باپ کا اپنی تحریک  اور مقصد سے بے پنا لگاؤ کا آئینہ دار بھی ہے۔ یہ وہ خط ہے جسے لاکھوں کے مجمع میں پڑھتے ہوئے ترکی کے صدر جناب طیب اردگان  بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور زارو قطار رو پڑے۔
اس خط کا اردو ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔ ’’
میری پیاری بیٹی عاصمہ میں تمہیں الوداع نہیں کہتا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ کل ہم دوبارہ ملیں گے۔ تم نے ہمیشہ سر اٹھا کر زندگی بسر کی اور ظلم و جبر کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا۔ تم نے ہمیشہ آزادی سے محبت کی۔ تم نے اپنی قوم کی تعمیر نو اور دنیا میں اسے ایک منفرد مقام دلانے کے لئے فکر کے نئے افق تلاش کئے۔ تم نے مروجہ خیالات و افکار کو اپنے دل میں جگہ نہیں دی۔ حتیٰ کہ روایتی علوم بھی تمہاری خواہشات کی تکمیل کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے۔ تم ہمیشہ اپنی جماعت میں پہلے نمبر پر فائز رہیں۔ تمہاری اس مختصر زندگی میں ، میں بھی تمہیں زیادہ وقت نہیں دے سکا۔ افسوس میرے پاس ہمیشہ وقت کی کمی رہی اور میں تمہارے قیمتی نظریات سے زیادہ مستفید نہیں ہو سکا۔ آخری مرتبہ ہم دونوں رابعہ العدویہ سکوائر پر اکٹھے بیٹھے تھے۔ تم نے مجھ سے پوچھا تھا: ’’آپ آج ہمارے ساتھ ہیں لیکن پھر بھی مصروف ہیں‘‘ ۔میں نے جواباً کہا تھا : ’’ایسا لگتا ہے اس زندگی میں باپ بیٹی کی ملاقاتیں بہت کم ہوں گی میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ جنت میں دوبارہ ہمارا ساتھ ہو۔ تمہارے قتل سے تین راتیں پہلے میں نے تمہیں خواب میں دیکھا کہ تم نے شادی کا سفید جوڑا پہن رکھا ہے اور تم حسن کا مجسمہ لگ رہی تھیں۔ مجھے لگا جیسے تم کسی ایسی چیز کی تمنا کر رہی ہو،جو بہت کم لوگوں کا مقدر بنتی ہے۔ اور پھر جب میں نے تمہاری شہادت کی خبر سنی تو میرا یقین پختہ ہو گیا کہ تمہاری تمنا نے حقیقت کا روپ دھار لیا ہے۔ اور خدا نے تمہاری روح کو شہید کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ تم نے میرے اس اعتقاد کو راسخ کر دیا کہ ہم لوگ حق کے راستے پر گامزن
ہیں جبکہ ہمارا دشمن جھوٹا اور منافق ہے۔ یہ میرے لئے بہت درد ناک لمحہ تھا جب تمہارے سفر آخرت کے دوران میں موجود نہیں تھا۔میں تمہیں آخری بار نہیں دیکھ سکا۔کیا یہ میرے لئے کم اذیت ناک ہے؟ مجھے تمہاری نماز جنازہ پڑھوانے کا بھی اعزاز حاصل نہ ہو سکا جس سے میرے غم کی شدت میں مزید اضافہ ہوا۔ میری پیاری بیٹی میں خدا کی قسم کھا کرکہتا ہوںکہ مجھے موت کا کوئی خوف نہیں تھا اور نہ ہی اس شخص سے جو انصاف کی دھجیاں اڑا رہا ہے میں تو اس پیغام کو آگے لے کر چلنا چاہتا تھا جو تمہاری روح کے ساتھ ساتھ چلا اور جو ہم سب کا مقصد حیات بن گیا، کیونکہ انقلاب کی تکمیل ازبس ضروری ہے۔ اب تمہارے سر کے ساتھ تمہاری روح بھی ایک قابل فخر مقام حاصل کر چکی ہے، جس نے ظالموں اور جابروں کی زبردست مزاحمت کی۔ غداری کی بندوق سے نکلی ہوئی گولیاں تمہارے سینے میں پیوست ہو گئیں۔میں پراعتماد ہوں کہ تم نے دیانت داری اور خلوص سے خدا کے احکامات کی تکمیل کی اور پھر خدا نے ہم میں سے تمہیں شہادت کے مرتبے پر فائز کرنے کے لئے منتخب کیا۔میری پیاری بیٹی میں آخر میں تم سے ایک بار پھر وہی کہوں گا۔ ’’میں تمہیں الوداع نہیں کہتا میں یہ کہتا ہوں کہ ہم بہت جلد اپنے پیارے نبی صلی اللہ الیہ وسلم اور ان کے رفقاء کے ساتھ جنت میں ملیں گے جہاں ہماری ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ ملاقاتوں کی خواہش کی تکمیل ہو گی۔

جمعرات، 1 اگست، 2013

اگست کا مہینہ اور ماں کی یاد

28 تبصرے
اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو ماں کی یاد شدت سے آنے لگتی ہے،حالانکہ اگست نہ تو ان کی پیدائش کا مہینہ ہے اور نہ ہی وفات کا،اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہم چھت پر پاکستانی پرچم اور جھنڈیاں لگانے کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے ۔ سارا
دن انہی تیاریوں میں گزر جاتا مگر جب بھی ماں پر نظر پڑتی وہ ان جھنڈیوں اور پرچموں کو دیکھ کر چپکے چپکے رورہی ہوتی،بڑا دکھ ہوتا کہ آخر کیا ہے جو ماں ہمیشہ انہی دنوں میں روتی ہے،ذرا ہوش سنبھالا تو  ماں سے پوچھنا شروع کیا کہ آپ کیوں روتی ہو؟۔ماں کہنے لگی  پتر یہ جو آپ محض جھنڈیاں لگا کر آزادی کا جشن منا لیتے ہو تمہیں پتہ ہے اس آزادی کے لئے تمہاری ماں نے کتنی قربانی دی ہے ؟ ماں بولتی چلی گئی ہم روتے رہے ،ماں کہتی بیٹا جب ہم اسی رمضان کے مبارک مہینہ میں اپنے پاک وطن کے لئے جس کی بنیاد ہر کلمہ شریف پر رکھی گئی ،ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، لاکھوں کا سازوسامان گھروں میں چھوڑ کر مہاجر ہو گئے ۔تمہارا چند ماہ کا بھائی میری گود میں تھا، ہمارے قافلہ پر سکھوں نے حملہ کیا۔ست سری اکال کا نعرہ لگانے والے انسانیت کو بھول گئے جو سامنے آیا اسے گاجر مولی کی طرح کاٹتے چلے گئے۔ اپنے معصوم بچے کو بچانے کی پاداش میں میرے دونوں بازو ان کی تلواروں اور کرپانوں نے لہو لہان کر دیئے،میری انگلیاں میرے سامنے کٹ کر گر گئیں مگر میں پھر بھی تمہارے بھائی کو ان ظالمو سے نہ بچا سکی، پتہ نہیں کون کدھر چلا گیا سب بھاگ گئے ،میں بے ہوش ہو گئی ،آنکھ کھلی تو ارد گرد لاشوں کے ڈھیر تھے اور تمہارے معصوم بھائی کی لاش کے ٹکڑے میرے  پاس بکھرے پڑے تھے۔ پتہ نہیں کس نے لاہور پہنچایا اور پھر ہسپتالوں میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تمہارے والد کیسے ہم تک پہنچے  ، یہ ایک دردناک کہانی ہے جو کسی لمحے یادوں سے اوجھل نہیں ہوتی مگر اب صرف جھنڈیاں اور پرچم لہرا کر،موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر سڑکوں پر ڈانس کرکے یوم آزادی منایا جارہا ہے۔ان شہیدوں کو اوران کی قربانیوں کو بھلا کر امن کی آشا لہرائی جا رہی ہے،ہماری قربانیوں کو بٹوارا کا نام دے کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ آج ہم جو آزادی کے سانس لے رہے ہیں یہ آزادی دراصل برصغیر کے شہدا کی بے تحاشا قربانیوں کا ثمر ہے۔ یہ پیارا پاکستان ہمیں اپنے شہدا کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔

.