پیر، 25 فروری، 2013
ھائے کرپشن
پیر, فروری 25, 2013
4
تبصرے
منگل، 29 جنوری، 2013
,ہم بھی وہاں موجود تھے , دو روزہ عالمی اردو بلاگرز کانفرنس
منگل, جنوری 29, 2013
18
تبصرے
اسلام علیکم مصطفےٰ بھائی میں بلال ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوئے توں بلال ایں ، نہیں کسی بڑے کو بلائو ،تم نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔۔۔۔
پر واقعی وہ ابھی کھلنڈرہ نوجوان ہے اتنا کام کرنے والا پر ، ویسا ہی بچوں جیسا معصوم ،کہتا آپ بھی تو ویسے بوڑھے نہیں ہیں جتنا تصویروں میں بنایا ہو اہے۔ سب سے ملاقاتیں ہوئیں دو دن تک کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا ۔کتنے پیارے پیارے مخلص اور درد دل رکھنے والے دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ معروف شاعر فرحت عباس شاہ دونوں دن موجود رہے،نوجوان بلاگرز میں کاشف نصیر،شاکر عزیز،خرم ابن شبیر،راجہ اکرام،کراچی سے شعیب صفدر،اقبال حیات، غلام عباس،زوہیر چوہان،شاکر عزیز،سعد، جڑانوالہ سے ساجد امجد،سوات سے نعیم،پشاور سے مسرت اللہ جان،لنڈی کوتل سے بہت ہی پیارے مدثر شاہ، گوجرانوالہ سے فخر نوید،اسلام آباد سے مہتاب عزیز، لاہور سے سعد ملک،نجیب عالم ،کوئٹہ سے حسن معراج اور بہت پیارے ساتھی جن کا نام بھول گیا ہوں ان سے معذرت، پھر منتظمین میں خاموش طبع احمد ہمایوں اور ساتھی ۔۔۔۔۔
اللہ آپ سب کو اس کا خوش رکھے جس کام کی ابتدا آپ نے کر دی ہے اس کا صلہ آپ کو وہ ذات پاک ہی دے سکتی ہے کیونکہ ہم نے تو یہی کہنا ہے کہ
امید یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ آپ نے ظلمت شب کا شکوہ کرنے کی بجائے اپنے حصہ کا چراغ جلا دیا ہے
جیو محسن بھائی اور جیو بلال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویل ڈن
پیر، 14 جنوری، 2013
یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟
پیر, جنوری 14, 2013
0
تبصرے
کوئٹہ میں رگوں میں اتر جانے والی سردی ہے، درجہ حرارت منفی آٹھ سے بھی بڑھ چکا ہے. معصوم بچے اور باپردہ خواتین گزشتہ تین دن سے اپنے بیاسی بے گناہ پیاروں کی لاشیں لئے بیٹھے ہیں۔ایسا احتجاج تو شائد معلوم تاریخ میں کہیں نہ ہوا ہو۔اس نے ملک کے کونے کونے میں موجود ہر انسان کو ہلا کر رکھ دیا
پاکستان کی تاریخ کا دردناک احتج بےحس حکمران خاموش تماشا ئی بنے ہوئے ہیں ۔ کب ان کی غیرت جاگے گی کب تک ہم یونہی بے گناہوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ سینکڑوں لوگ لاشوں کو لے کر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ پکار پکار کر پوری قوم کو اپنی بے بسی سے آگاہ کررہے ہیں ان کی آواز میں آواز ملانا پوری قوم کا فرض ہے ۔ آج وہ جس اذیت سے دوچار ہیں اگر ان کا ساتھ نہ دیا گیا تو کل دوسرے صوبے میں بھی لوگ میتیں اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔ پوری قوم شہدا کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے ۔ وفاقی حکومت کو ان کے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے
یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟
منگل، 24 جولائی، 2012
’’اماں!بھائی کب مرے گا؟‘‘
منگل, جولائی 24, 2012
0
تبصرے
عرصہ ہواایک ترک افسانہ پڑھا تھا، یہ میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتمل گھرانے کی کہانی تھی، جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگاہوا تھا، آخر اسی حالت میں ایک روز بچوں کو یتیم کرگیا۔ رواج کے مطابق تین روز تک پڑوس سے کھانا آتا رہا، چوتھے روز بھی وہ مصیبت کا مارا گھرانہ کھانے کا منتظر رہا مگر لوگ اپنے اپنے کام دھندوں میں لگ چکے تھے، کسی نے بھی اس گھر کی طرف توجہ نہیں دی۔ بچے باربار باہر نکل کر سامنے والے سفیدمکان کی چمنی سے نکلنے والے دھویں کو دیکھتے، وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے کھانا تیار ہورہا ہے، جب بھی قدموں کی چاپ آتی انہیں لگتا کوئی کھانے کی تھالی اٹھائے آرہا ہے مگر کسی نے بھی ان کے دروازے پر دستک نہ دی۔ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے، اس نے گھر سے روٹی کے کچھ سوکھے ٹکڑے ڈھونڈ نکالے، ان ٹکڑوں سے بچوں کو بہلاپھسلاکر سلادیا۔ اگلے روز پھر بھوک سامنے کھڑی تھی، گھر میں تھا ہی کیا جسے بیچا جاتا، پھر بھی کافی دیر کی ’’تلاش‘‘ کے بعد دوچار چیزیں نکل آئیں، جنہیں کباڑیے کو فروخت کرکے دو، چار وقت کے کھانے کا انتظام ہوگیا۔ جب یہ پیسے بھی ختم ہوگئے تو پھر جان کے لالے پڑگئے، بھوک سے نڈھال بچوں کا چہرہ ماں سے دیکھا نہ گیا، ساتویں روز بیوہ ماں خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹ کر محلے کی پرچون کی دکان پر جاکھڑی ہوئی، دکان دار دوسرے گاہکوں سے فارغ ہوکر اس کی طرف متوجہ ہوا، خاتون نے ادھار پر کچھ راشن مانگا تو دکان دار نے نہ صرف صاف انکار کردیا، بلکہ دوچارباتیں بھی سنا دیں۔ اسے خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑا۔ ایک تو باپ کی جدائی کا صدمہ اوپر سے مسلسل فاقہ، 8سالہ بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بخار میں مبتلاہوکر چارپائی پر پڑگیا، دوادارو کہاں سے ہو، کھانے کو لقمہ تک نہیں تھا، چاروں گھر کے ایک کونے میں دبکے پڑے تھے، ماں بخار سے آگ بنے بیٹے کے سر پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی، جبکہ پانچ سالہ بہن اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بھائی کے پاؤں دبارہی تھی، اچانک وہ اٹھی، ماں کے پاس آئی اور کان سے منہ لگاکر بولی ماں کے دل پر تو گویا خنجر چل گیا، تڑپ کر اسے سینے سے لپٹا لیا اور پوچھا ’’میری بچی، تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ بچی معصومیت سے بولی ’’ہاں اماں! بھائی مرے گا تو کھانا آئے گا ناں!‘‘



