اتوار، 16 جون، 2013

فادرز ڈے ، بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں

33 تبصرے

آج 16جون کو دنیا بھر میں فادرز ڈے منایا جارہا ہے،صبح آنکھ کھلی تو سب سے پہلا ایس ایم ایس بیٹی کی طرف سے آیا ہوا تھا ، ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے کی ضد میں رات بارہ بجے تک جاگتی رہی ہوگی کہ ابو کو پہلا ایس ایم ایس اس کی طرف سے ہی جائے ۔ تب کہیں پڑ ھی ایک حکائت یاد آگئی،آپ بھی پڑہیں
                                                شادی کی پہلی رات شوہر اور نئی نویلی دلہن نے فیصلہ کیا کہ صبح کوئی بھی آئے ہم دروازہ نہیں کھولیں گے۔صبح سب سے پہلے شوہر کے والدین نے دروازے پر دستک دی ،دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور معاہدہ کے مطابق کوئی بھی دروازہ کھولنے کے لئے نہیں اٹھا،  چند گھنٹے بعد ہونے والی دوسری دستک شوہر کی بہن کی تھی مگر اس نے اپنے دل پر جبر کرتے ہوئے اسے بھی نظر انداز کر دیا۔دروازے پر ہونے والی اگلی دستک دلہن کے والد نے دی۔اپنے پاب کی آواز سن کر وہ یک دم چونکی،شوہر کی  طرف دیکھا اور آبدیدہ آنکھوں سے کہنے لگی،میں اپنے پاب کے لئے ضرور دروازہ کھولوں گی اور بھاک کر دروازہ کھول دیا۔ شوہر نے اسے کچھ نہ کہا۔ اس واقعہ کو سالہا سالبیت گئے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں چار خوبصورت بیٹوں سے نوازا،چار بھائیوں کے بعد ان کے گھر بیٹی پیدا ہوئی تو اس کے باپ نے ایک بہت بڑی پارٹی کا اہتمام کیا اور تمام رشتہ داروں کو مدعو کیا، وہاں کسی نے پوچھا بھائی اتنی بڑی پارٹی تو تم نے بیٹوں کی پیدائش پر نہیں دی ،اب کیوں؟  تب اس سالوں پہلا قصہ دہرا کر کہا کہ" اب دنیا میں وہ آئی ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی"
                                    بیٹیاںرحمت خداوندی ہیں ،۔ بیٹیاں اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں۔۔۔ باپ کے لیے سکون ، چاہت اور خوشی کا ذریعہ۔۔۔  ان  کی پہلی محبت ان کا باپ ہوتا ہے۔ ان کے لیے ان کے باپ سے اچھا دنیا میں کوئی اور ہوتا ہی نہیں۔۔۔
                      بیٹیاں وہ پھول ہیں  جوماں باپ کی شاخوں پہ جنم لیتی ہیں،پھول جب شاخ سے کٹتا ہے بکھر جاتا ہے، پتیاں سوکھتی ہیں ٹوٹ کے اڑ جاتی ہیں مگر بیٹیاں وہ پھول ہیں جوایک شاخ سے کٹتی ہیں مگر سوکھتی ہیں نہ کبھی ٹوٹتی ہیں،ایک نئی شاخ پہ کچھ اور نئے پھول کھِلا دیتی ہیں۔

جمعرات، 13 جون، 2013

میاں صاحب ، شیر بنو شیر

4 تبصرے
آنسو گیس کا ذائقہ، گولیوں کی تڑتڑاہٹ، لاٹھیوں کے زخم اور پھر مقدمات کی بھر مار اس شہر کے مزدور سے لے کر سرمایہ دار تک سب کے لئے معمول کی بات ہے مگر 11 جون 2013ء  کو لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج پر فلک نے وہ مناظر دیکھےکہ گزشتہ پانچ برسوں میں فیصل آباد شہر اور گردونواح میں نکالنے جانے والے 2ہزار سے زائد مظاہروں ، جلائو گھیرائو کے واقعات کے بعد بھی کبھی یہ نوبت نہ آئی۔ گزرے پانچ سالوں میں اس شہر میں لوڈ شیڈنگ سے تنگ لوگوں نے شہر کے گنجان علاقوں میں بھی پولیس کو ناکوں چنے چبوائے اور اتنی آنسو گیس چلی کہ دوسرے شہروں سے مزید منگوانا پڑی مگر کبھی گھروں میں گھس کر قانون کی طاقت دکھانے کی کسی کو جرات تک نہ ہوئی۔ فیسکو ریکارڈ کے مطابق ان پانچ برسوں میں 29دفاتر جلائے گئے اور 56میں توڑ پھوڑ کی گئی مگر گیارہ جون کو  شیخوپورہ روڈ پر جو ہوا، اس کی مثال نہیں ملتی۔11جون 2013کو پولیس نے لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کرنے پر درجنوں گھروں پر دھاوا بول دیا۔’’سیاہ‘‘ وردیوں میں ملبوس پولیس کمانڈوز یوں دروازے توڑتے دکھائی دیئے جیسے عراق یا کشمیر میں قابض فوجی ہوں ۔کلہاڑیاں ہاتھ میں لئے پولیس اہلکار گھروں کے اندر موجود کمروں کے دروازے توڑکر فخریہ نعرے لگاتے رہے اور خواتین سمیت گھر میں موجود ہر عمر کے لوگوں کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ جرم صرف اتنا تھا کہ لو ڈ شیڈنگ کے خلاف جلوس کی جلدی کیا تھی! ابھی حکومت قائم ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں!! صبر کیوں نہیں کیا!!! وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف وہ نعرہ کیوں لگا جو پہلے سابق صدر پرویز مشرف اور پھر موجود ہ صدر آصف زرداری کے خلاف لگائے جاتے تھے!!!سیاسی گفتگو اور سیاسی ماحول میں صنعتی ، معاشی اور جرائم کی باتیں شاید عجیب لگیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان تمام شعبوں سے ہی فیصل آباد کی سیاست جڑی ہے۔ جلسے جلوس، احتجاجی مظاہرے، سول نافرمانی، لانگ مارچ اور بل نہ دینے کے اعلانات اس شہر سے اتنی مرتبہ بلند ہو چکے ہیں کہ عام آدمی کی یہ بات بھی سیاستدانوں کے بیانات جیسی لگتی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی ہوئے ہیں، ملک بھر میں توانائی بحران کے خلاف پہلا جلوس اسی شہر سے سامنے آیا۔ یہاںسے قومی اور صوبائی اسمبلی کی تمام نشستیں مسلم لیگ (ن) نے جیتیں ۔ شہریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو حکومت اور اس کے ادارے بھی ایسے بپھرے کہ ماضی میں ایسی مثال نہیں ملتی۔ٹھیک ایک سال پہلے، اس وقت کے اور موجودہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے  فیصل آبادکے لوگوں سے وعدہ کیا  تھاکہ اگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا حل نہ نکلا تو وہ خود فیصل آباد آئیں گے اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔ شہر کے تاجر، مزدور اور صنعتکاروں سمیت ایک ایک شہری کو یاد ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کس قدر جذباتی تھے ،انتخابی مہم کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بیانات اور وزیر اعظم نواز شریف کے وعدے سن اور پڑھ کر فیصل آباد کے شہریوں کو پختہ یقین تھاکہ بجلی لوڈ شیڈنگ کا حل انہی کے پاس ہے، اسی اعتماد کی بنا پر اس شہر نے سیاسی دوڑ میں’شیر‘ کی 100فیصد حمایت کی مگر انہیں جو "صلہ" ملا سب کے سامنے ہے۔

ہفتہ، 8 جون، 2013

اک "عام" سا پودا، جومجھے بہت پیارا ہے

11 تبصرے
آپ سوچ رہے ہوں کہ آخر اس عام سے گھریلو پودے میں اتنی خاص بات کونسی ہے کہ میں نے اس کو بلاگ کا موضوع بنا دیا ہے، جی ہاں میرے لئے  یہ عام سا پودا  بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ حیران ہوں گے میرا اور اس کا ساتھ 25 سال پرانا ہے  اور 25 سال کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا،ساری زندگی گزر جاتی ہے، 1988ء میں نئے گھر میں شفٹ ہوئے تو بچپن سے دل میں بسا  باغبانی کا شوق انگڑائیاں لینے لگاچونکہ گھر بناتے وقت صحن میں کیاریاں بنانے کی تجویز والد گرامی بری طرح رد کر چکے تھے اس لئے اس شوق کو گملوں میں لگے پودوں سے پورا کرنے کی کوشش کی اور اس کے لئے محترم دوست طارق سلطان نے بھر حوصلہ افزائی اور تعاون کیا جن کا مشہور قول ہے کہ کتاب اور پودوں کی چوری کوئی چوری نہیں ہوتی اس لئے موصوف جو مہنگا پودا خریدنے کا حوصلہ نہ رکھتے اس کو کبھی کبھی زور جوانی کے ہاتھوں چرانے سے بھی  نہیں کتراتے تھے۔ سو موصوف نے نئے گھر شفٹ ہونے پر اس پودے کی صورت میں ناچیز کو پہلا تحفہ دیا۔ تب روز بروز نئے  خوبصورت پودوں کا اضافہ ہونے لگا اور ہر نئے  پودے کی آمد پر یہ اور پچھلی صف میں چلا جاتا  اور آخر  چند سال بعد ایک دن میں نے جگہ کی تنگی کا بہانہ بنا کر اس کو باہر پھینک دیا۔ مجھے یاد ہے ابا جی مرحوم عصر کی نماز کے بعد مسجد سے واپس آئے تو ان کی نظر اس پر پڑی تو سیخ پا ہو گئے،کہنے لگا اس کو کیوں باہر پھینکا ؟ بس جلدی میں کہہ دیا بہت پرانا ہو گیا تھا۔ کہنے لگے میں بھی پرانا ہوتا جارہا ہوں تو کیا مجھ کو ایک دن باہر  پھینک دو گے ۔ میں بہت شرمندہ ہوا اور اس کو والد مرحوم نے دوبارہ نئے گملے میں لگا دیا۔سالہا سال بیت گئے ، والد مرحوم بھی جہان فانی سے رخصت ہوگئے ،شائد اتوار کا دن تھا  میں نماز عصر کے بعد مسجد سے گھر واپس آیا تو  میں نےاس کو  گھر کے باہر گرا پایا  تو مجھے کئی سال پرانا یہی وقت یاد آ گیا ۔ گھر میں داخل ہوا تو چھوٹا صاحبزادہ ہاتھ میں کھرپہ لیئے پودوں کو درست کررہا تھا ، میں نے پوچھا میاں یہ کیا کیا تم نے ؟ اس کو  اکھاڑ کے کیوں باہر پھینک دیا ، کہنے لگا ابو بہت پرانا ہو گیا ہے اور خوبصورت بھی نہیں  لگتا اب ،مجھے ابا جی کے کہے کلمات یاد آ گئے ۔ میں نے اس کو کہا بیٹا  پرانا تو میں بھی ہو رہا ہوں میرا کیا کروگے،بڑا شرمندہ ہوا کہتا اس کو   گھر کی بیرونی دیوار  کے ساتھ بنی کیاری میں لگا دیتا ہوں اور اس کو وہاں لگا دیا گیا  ،تین چارسال وہاں گزارنے کے بعد بیٹا کہنے لگا ابو جی اس نے ساری جگہ گھیر لی ہے اس کو اب ختم ہی نہ کر دیں تو پھر میں نے کہا بیٹا اس کا میرا ساتھ بہت پرانا ہو گیا ہے اب اس کو ضائع نہیں کرنا کسی گملے میں لگا کر دوبارہ صحن میں ہی رکھ دو اور اب دو سال سے یہ پھر گھر کے اندر ہے مگر اب میں نے اس کو سب پودوں سے الگ تھلگ گیٹ کے پاس رکھ دیا ہے ، میں صبح گھر سے نکلتا ہوں تو مجھے لگتا ہے یہ مجھے رخصت کرتا ہے ، واپس آتا ہوں تو مسکرا کر میرا استقبال کرتا  ہے ،مجھ سے باتیں کرتا ہے ،میرا خیال رکھتا ہے ، بسا اوقات مجھ سے باتیں کرتا ہے اور میری پریشانیوں اور میری خوشی غمی میں شریک ہوتا ہے۔گھر میں باقی پودے بھی ہیں  مگر یہ "عام" سا پودا مجھے بہت پیارا ہے۔

بدھ، 5 جون، 2013

گھریلو پودوں اور قدرتی طریقہ سے مچھر اور موذی کیڑوں سے نجات

5 تبصرے
جوں جوں ہم فطرت سے دور ہوتے جارہے ہیں ہم طرح طرح کے مسائل میں گھرتے جارہے ہیں،ہمارے بزرگوں کے زمانہ میں ہر بیماری اور مسئلہ کا حل قدرتی غذاؤں اورگھریلوٹوٹکوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ کچن میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات ،پودے اور ان کے بیج ہر بیماری کی شفا ثابت ہوتے تھے۔ آج کیمیکل کا استعمال ہماری زندگیوں میں اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس کے مضر اثرات نے ہماری نوجوان نسل کو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نباتات قدرت کی طرف سے انسانی ذات کیلئے ایک بہترین تحفہ ہے۔زمانہ قدیم سے یہ حقیقت سبھی جانتے ہیں کہ قدرت نے نیم کے درخت میں بہت سے طبی، زراعتی اور ماحولیاتی فوائد رکھے ہیں اور انہی فوائد کو جدید تحقیق نے بھی ثابت کیا ہے، نیم کا درخت مچھروں کو بھگانے کا بھی ایک قدرتی ذریعہ ہے۔نیم کے درخت کے ارد گرد مچھر نہیں ہوتے اور اسی وجہ سے ڈینگی کے خاتمے کیلئے اسے انتہائی کارآمد تصور کیا جاتا ہے۔کیڑے مکوڑوں سے نجات کیلئے

استعمال ہونے والے پودوں میں پودینہ کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس پودے کی خوشبو سے مچھر پریشان ہو کر دور بھاگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  پودینہ کو صدیوں سے مکھی مچھر کو دور رکھنے کے لئے استعمال کیاجا تا ہے۔ اس پودے کو صحن میں لگانے یا کمرہ میں اسکا گملا رکھنے سے مچھر آپ کے قریب نہیں آئے گا۔ گیندے کا پودا یعنی میری گولڈ بھی اپنے پھول کی خوبصورتی اور کیڑے مکوڑوں کو دور رکھنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔ گیندے کے پھول کی خوشبو بھی مچھروں کو پسند نہیں، اسلئے مچھروں سے چھٹکارا پانے کے لئے اسے چھوٹے کنٹینرز، گملوں، صحن یا مرکزی دروازے کے دونوں اطراف لگانے سے مچھروں کو گھر میں داخل ہونے سے روکا جاسکتا ہےصرف یہی نہیں بلکہ تلسی کا چھوٹا سا پودا اپنی مخصوص خوشبو کےباعث مکھی مچھروں کیلئے نفرت انگیز سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مچھر اس پودے کے اردگرد بھی نہیں پھٹکتے،اس کے پتوں کو ہاتھوں اور  چہرے پر مسل کر آپ باہر بیٹھ جائیں مچھر آپ کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا ۔تلسی ہی کی طرز کا ایک عام گھروں میں پایا جانے والا پودا نیاز بو بھی اسی کام آتا ہے۔اس کے علاوہ  لیمن گراس پلانٹ گھاس کی ایک خوبصورت قسم ہے اور اسے بھی مچھروں سے بچا کیلئے انتہائی کارآمد تصور کیا جاتا ہے۔ یہ پرکشش، تروتازہ اور خوبصودار اونچی گھاس گھریلو باغیچوں میں لگانے سے بھی مچھروں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ یہ تمام پودے گملوں میں لگائے جا سکتے  ہیں اور پھر میرا وہی ماٹو، ہیں بھی انتہائی سستے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں میں کیڑے مکوڑوں اور خاص طور پر مچھروں سے تحفظ کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت ان پودوں کی گھر گھر شجرکاری سے متعلق آگاہی کا پروگرام تشکیل دیا جاسکتا ہے، جس کی مدد سے ڈینگی مچھر اور وائرس سے مستقل چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہے۔ موسم گرما میں مچھروں کی بہتاب ہوتی ہے اور ایسے میں ان پودوں کو زمین یا گملوں میں باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ حکومت خاص طور پر پنجاب حکومت کیمیاوی اسپرے پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ڈینگی مچھر پر قابو نہیں پا سکی، بلکہ ماہرین کا تو یہ کہنا ہے کہ کیمیاوی اسپرے کی وجہ سے مچھر دشمن اور مچھر خور دیگر حشرات بھی ختم ہورہے ہیں۔ ایسے میں حکومتی سطح پر سڑکوں کے کنارے نیم کے درخت کی شجرکاری اور دوسرے پودے لگانےسے ڈینگی مچھر اور وائرس سے مستقل چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔

(اس مضمون کی تیاری میں مختلف تحقیقاتی مضامین سے مدد لی گئی ہے)

جمعہ، 24 مئی، 2013

خوش آمدید ، وزیر اعظم چائنا لی کی چیانگ

0 تبصرے

   پاکستانی عوام چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ کے دورہ ٔپاکستان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ چین پاکستان کا مخلص دوست ہے جس نے ہمیشہ  پاکستان سے تعلقات کو اہمیت دی ہے ۔چین اور پاکستان نہ صرف اچھے ہمسائے بلکہ ایک دوسرے کے حقیقی خیر خواہ اور سٹریٹجک پارٹنر ہیں ۔ پاکستان کی صنعتی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے چین بیسیوں پراجیکٹس میں پاکستان کی مدد کررہا ہے۔شاہراہ ریشم ،گوادر پورٹ،جے ایف ٹھنڈر اور سینڈک پراجیکٹ سمیت درجنوں بڑے بڑے منصوبے پاکستان کی ترقی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں جو پاک چین دوستی کی  شاندار مثال ہیں۔چین کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش خطے میں امن کے قیام کیلئے چین کی مخلصانہ کوششوں کا اظہار ہے ۔ امریکہ اور نیٹو افواج کی خطے میں موجودگی ،بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے اور چین کے کردار کو محدود کرنے کی کوششیں خطے کے امن کو برباد کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے جو کسی طرح بھی پاکستان اور خود بھارت کے مفاد میں نہیں، لیکن امریکہ چاہتا ہے کہ عالمی تجارت پر اس کا کنٹرول رہے اور پاکستان اور بھارت کی تجارتی منڈیوں پر چین کی اجارہ داری قائم نہ ہونے دی جائے۔پاکستان کے لوگ جانتے ہیںکہ امریکہ اور بھارت نے گوادر پورٹ چین کے ہاتھ لگنے سے روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ، دونوں ملک پاکستان پر عالمی دبائو بڑھانے، کوئٹہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے ،بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکوں کی سرپرستی کرکے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے اورچینی انجینئروں کو اغواء اور قتل کرنے جیسے واقعات میں ملوث رہے ہیں تاکہ کسی بھی صورت پاکستان اور چین کے درمیان نفرتیں پیدا کرکے ان کی دوستی میں رخنہ ڈالا جائے لیکن وہ اپنی ان مکروہ سازشوں میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔چین سے مضبوط دوستی کی بنیادوں پر استوارخارجہ پالیسی خطے میں امریکہ کے عمل دخل کو ختم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ چین نے پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی سمیت جن بڑے ترقیاتی منصوبوں میں تعاون کرنے کی پیشکش کی ہے انہیں فوراً قبول کر کے ان منصوبوں پر عملدرآمد شروع کیا جائے۔  توقع ہے کہ پاکستان کی نو منتخب حکومت چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور امریکی غلامی سے نکلنے کی پوری کوشش کر ے گی


جمعرات، 23 مئی، 2013

کالا باغ ڈیم , توانائی کے بحران کا مستقل حل ؟

2 تبصرے


جب توانائی کے بحران کے مستقل حل کا سوچا جائے تو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سوا کوئی دوسرا مستقل حل قابل عمل اور کارآمد نظر نہیں آتا اس لئے جب ہمارے پاس اس بحران سے عہدہ برا ہونے کا مستقل اور پائیدار ایک ہی حل موجود ہے تو حکمران طبقہ اپنے اپنے مفادات کی بنیاد پر قومی ترقی و بقا کے اس منصوبے کو سیاست کی نذر کرنے پر کیوں تلا بیٹھا ہے اور کیوں اس منصوبے پر قومی اتفاق رائے نہیں کیا جاتا۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر صرف توانائی کے ذرائع میں اضافہ کرنے کے لئے ہی ضروری نہیں بلکہ پاکستان کو خوراک و زرعی پیداوار میں خود کفالت کی منزل تک پہنچانے کے لئے بھی انتہائی ضروری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کالا باغ ڈیم کی عدم تعمیر کے باعث 26.1ملین ایکڑ فٹ بارش کا پانی ہر سال سمندر میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر ہو جائے تو پھر بھی صرف 6.1ملین ایکڑ فٹ پانی ہی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔ اس ڈیم کی تعمیر سے صوبہ سندھ کی8 لاکھ ایکڑ، سرحد کی 4 لاکھ 40 ہزار ایکڑ، بلوچستان کی5 لاکھ10 ہزار ایکڑ اور صوبہ پنجاب کی6 لاکھ80 ہزار ایکڑ اضافی زمین زیر کاشت آئیگی۔ اس میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ جاتا کہ کالا باغ ڈیم جیسے فقید المثال منصوبہ سے ملک میں زرعی انقلاب آجائیگا۔ زرعی مفادات کے علاوہ اس منصوبے سے 3600میگاواٹ سستی اضافی بجلی حاصل ہوگی۔ ایک اہم بات کا تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ تربیلا ڈیم سے اگر ایک لاکھ بیس ہزار کیوسک پانی چھوڑا جائے تو مکمل صلاحیت کے مطابق یہ ڈیم 3700میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے جبکہ اس سے صرف 1500میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس بات کا ہمیشہ خدشہ موجود رہا ہے کہیں اس سے چھوڑا جانے والا اضافی پانی سمندر میں بہہ کر ضائع نہ ہو جائے۔ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر کیا جائے تو تربیلا ڈیم اور کالا باغ ڈیم کے مشترکہ عمل سے 5800میگاواٹ سستی اضافی بجلی حاصل ہوگی جو ملک میں صنعتی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔یہ حقیقت ہے کہ توانائی کے بحران پر صرف کالا باغ ڈیم تعمیر کرکے ہی قابو پایاجاسکتا ہے۔اس حقیقت کا ہمارے شاطر دشمن بھارت کو بھی بخوبی احساس و ادراک ہے اس لئے وہ بھی کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو سبوتاژکرانے کیلئے اپنے وسائل اور سازشی ذہن بروئے کار لا رہا ہے جس نے بالخصوص سندھ میں اپنی سازشوں کا جال بچھا رکھا ہے۔ اس ڈیم کے خلاف زہریلے پراپیگنڈے کیلئے مبینہ طور پر سندھی قوم پرستوں کی مخصوص لابی کو بھارتی ایجنسی را کی جانب سے مالی طور پر نوازا رہا ہے چنانچہ اس لابی کی جانب سے تواتر کے ساتھ یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی صورت میں سندھ کے حصے کا پانی کم ہو جائے گا۔ اس کے برعکس سرحد میں ہندتا کے فلسفہ کے پرچارک سرحدی گاندھی کے پیروکاروں کی جانب سے اسی بھارتی ایجنڈہ کی بنیاد پر کالا باغ ڈیم کی مخالفت کیلئے اس دلیل کا سہارا لیا گیا کہ اس سے نوشہرہ اور سرحد کے کئی دوسرے شہر ڈوب جائیں گے۔پختون یا پٹھان، آبی ماہرین اور انجینئرز ان دونوں زہریلے پراپیگنڈوں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔ نااہل حکمرانوں کو شائید اس بات کا مکمل طور پر ادراک نہیں کہ توانائی کا بحران کسی بڑے طوفان پر منتج ہو سکتا ہے۔اس وقت کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اصولی طور پر تو قومی تعمیر و ترقی کے ضامن اس منصوبے پر شروع دن سے ہی اتفاق رائے قائم ہو جانا چاہئے تھا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں ہمیں کالاباغ ڈیم سمیت ہر چھوٹے بڑے ڈیم کو تعمیر کرلینا چاہئے تھا مگر ہماری حکومتیں اور سیاست دان ایک دوسرے پر محض سیاسی پوائنٹ سکور کرنے اور اپنے اپنے مفادات کے تحت کالاباغ ڈیم کے حق اور مخالفت میں آوازیں بلند کرنے میں ہی مصروف رہے کسی نے یہ نہ سوچا کہ کالاباغ ڈیم تعمیر نہیں ہو پائے گا تو ہم وقت کے تقاضوں کے مطابق بڑھتی ہوئی بجلی کی ضرورت کیسے پوری کرینگے؟ اگر قومی تعمیر و ترقی کا جذبہ سیاست دانوں کے پیش نظر ہوتا تو نہ سرحد سے اس ڈیم کو بم مار کر اڑا دینے کے زہریلے نعرے لگتے اور نہ ہی سندھی قوم پرستوں کو اس ڈیم کی مخالفت میں اپنی سیاست چمکانے کا موقع ملتا اور اب تک یہ ڈیم تعمیر ہو کر ملک میں توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوئے قومی معیشت کی ترقی و استحکام کی بنیاد رکھ چکا ہوتا۔مگر بدقسمتی سے جن فوجی اور سول حکمرانوں کو اپنے اپنے دور حکومت میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے قومی اتفاق رائے کی فضا قائم کرنے کا موقع ملا انہوں نے بھی اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا اور اس ڈیم کو سیاست کی نذر ہونے دیا۔

(اس آرٹیکل کی تیاری میں مختلف تحقیقاتی ویب سائٹس سے مدد لی گئی ہے)

منگل، 23 اپریل، 2013

الیکشن 2013 ،آخر ووٹ کس کو دیں ؟

2 تبصرے


 گزشتہ شب ٹی وی پر ایک خاتون اینکر نے الیکشن پر روڈ شو کر تے ہوئے ایک بزرگ سے پوچھا " با با جی ووٹ کس کو دینا ہے" بابا جی نے بڑے تلخ لہجہ میں جواب دیا کسی کو بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے تئیں دانشورخاتون اینکر کہنے لگیں با با جی ووٹ تو ایک امانت ہے۔ با با جی نے بڑے نفرت بھرے لہجہ میں جواب دیا " تو کیا اب میں اپنی امانت کسی بےامان کے سپرد کر دوں" ۔ واقعی اس وقت ہم سب کے سامنے سب سے بڑا مسلئہ یہی ہے کہ ووٹ آخر کس کو دی جائے۔ حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف ایسی جماعتیں ہیں جنہوں نے چاروں صوبوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے  ہیں جبکہ ایم کیو کیو ایم ،جے یو آئی،اے این پی اپنے اپنے علاقوں تک محدود ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ پانچ سال تک جنہیں ہم جھولیاں بھر بھر کر بد دعائیں دیتے ہیں الیکشن کے موقع پر جھولیاں بھر بھر انہیں ووٹ دیتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی نے اس ملک کا جو حال کیا وہ سب کے سامنے ہے ۔ اگرچہ اس بار ن لیگ کا بہت زور شور ہے مگر نواز شریف نے  امیر مقام جیسے پرویز مشرف  کے مخلص ساتھی سے لے کر ق لیگ سے آنے والے ہر اس بندے کو قبول کرلیا جودس سال تک آمر کا حصہ رہا دوسری طرف تبدیلی اور یوتھ کا نعرہ لے کر آنے والے عمران خاں نے بھی اپنے دیرینہ ساتھیوں کو چھوڑ کر ن لیگ اور پی پی سے آنے والوں کو ہی ترجیح دے کر اپنے مخلص ساتھیوں کو مایوس کیا ہے۔ سوچنے کی بات ہے جو لوگ صرف اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہر طرح کے لوٹوں کو اپنا رہے ہیں وہ کل کس طرح ہمارے مفادات کا تحفظ کریں گے ۔ پھر آخر کیا کریں کس کو ووٹ دیں یہ سوال بہت پریشان کرتا ہے کون اس قابل ہے میرے خیال میں  اگر ہم سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر اپنے حلقہ کے امیدواروں کے ماضی پر نظر دوڑائیں ، دیکھیں ماضی میں کس کا کیا کردار رہا ہے کس کس نے ملکی دولت لوٹی ہے ،کس نے کرپشن کی ہے اور کون واقعی 62 اور 63 پر پورا اترتا ہے تو ہمیں یقیناً آسانی ہو جائے گی ۔ کہتے ہیں ایک دفعہ سمندر کی ایک بپھری ہوئی لہر ہزاروں مچھلیوں کو ساحل پر تڑپتا چھوڑ کر واپس چلی گئی ۔ ایک نوجوان نے ان مچھلیوں کو دوبارہ زندگی  دینے کے لئے انہی دوبارہ سمندر میں پھینکنا شروع کر دیا  تو قریب سے گزرتے ہوئے ایک فلسفی نے کہا کہ نوجوان تھاری اس کوشش سے کیا ہو گا ؟ نوجوان نے ایک مچھلی کو دم سے پکڑا اور سمندر میں پھینکتے ہوئے کہا کہ لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو تو فرق پڑ گیا ناں ! اس لئے ہمیں اپنے حصہ کی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے ۔ ہم جب اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے تو فخر سے کہہ سکیں گے کہ ہم نے اپنی امانت اہل فرد کو دی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ہم نے اپنے حصہ کا کردار ادا کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔  

.